متحدہ عرب امارات کے صدر کا دورہ، پاکستان کی دفاعی طاقت اور معیشت کا امتحان

کمزور معیشت، سیاسی عدمِ استحکام اور خارجہ محاذ پر مسلسل دباؤ وطنِ عزیز کی تاریخ کا ایسا باب ہے جو قیامِ پاکستان کے بعد کبھی پوری طرح بند نہ ہو سکا۔ مشرقِ وسطیٰ کے برادر ممالک، خصوصاً سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات ہوں یا مغربی دنیا بالخصوص امریکہ سے روابط، ان میں ہمیشہ اتار چڑھاؤ رہا ہے۔ عالمی سیاست کے بدلتے زاویے، علاقائی تنازعات اور اندرونی کمزوریاں پاکستان کے لیے سفارتی توازن برقرار رکھنا ایک مشکل امتحان بناتی رہی ہیں۔ تاہم مئی 2025 میں بھارت کے ساتھ ہونے والی مختصر مگر فیصلہ کن جنگ کے بعد دنیا نے پاکستان کا ایک نیا، پراعتماد اور طاقتور دفاعی چہرہ دیکھا، جس نے عالمی دارالحکومتوں میں پاکستان کے بارے میں رائے اور ترجیحات کو ازسرِنو ترتیب دینے پر مجبور کر دیا۔

اس بدلے ہوئے عالمی ماحول میں پاکستان، جو پہلے ہی شدید معاشی دباؤ کا شکار تھا، نے اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے اپنی خارجہ پالیسی میں فعالیت اور توازن پیدا کرنے کی کوشش کی۔ گزشتہ چھ سے سات ماہ کے دوران وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ سطحی وفود نے دوست ممالک کے دورے کیے، جبکہ کئی عالمی اور علاقائی رہنماؤں کو پاکستان کے دورے کی خصوصی دعوت دی گئی۔ اسی سفارتی سرگرمی کا تسلسل متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کا حالیہ دورۂ پاکستان ہے، جسے علاقائی تناظر میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس دورے کے دوران دونوں ممالک کے سربراہان و وفود نے امن، استحکام اور پائیدار ترقی کے مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے قریبی تعاون جاری رکھنے، عوامی روابط مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ اشتراک کو وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔

پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات نصف صدی سے زائد عرصے پر محیط ہیں اور ان کی بنیاد باہمی اعتماد، معاشی تعاون اور روابط پر استوار ہے۔ سالانہ دوطرفہ تجارتی حجم اس وقت تقریباً 10 سے 11 ارب امریکی ڈالر کے درمیان ہے، جس میں امارات پاکستان کا ایک بڑا تجارتی اور سرمایہ کاری شراکت دار ہے۔ توانائی، رئیل اسٹیٹ، بینکنگ، ٹیلی کمیونیکیشن اور انفراسٹرکچر جیسے شعبوں میں امارات کی سرمایہ کاری پاکستان کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس تعلق کی سب سے مضبوط کڑی متحدہ عرب امارات میں مقیم ہزاروں پاکستانی ہیں، جو نہ صرف وہاں کی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں بلکہ ترسیلاتِ زر کے ذریعے پاکستان کے معاشی استحکام میں بھی کلیدی حصہ ڈال رہے ہیں۔ یہی پس منظر اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ دونوں ممالک اپنے تعلقات کو مزید مضبوط، باوقار اور طویل المدتی شراکت داری میں ڈھالیں، تاکہ بدلتے عالمی منظرنامے میں اپنے لیے بہتر معاشی اور سفارتی مواقع سمیٹ سکیں۔

قارئینِ کرام! سفارتی سطح پر متحدہ عرب امارات کے صدر کے حالیہ دورۂ پاکستان کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے، جس کی کئی ٹھوس وجوہات ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں پہلو عرب دنیا کے اندر ابھرنے والی وہ خلیج ہے، جو حالیہ برسوں میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات میں فاصلے کی صورت میں نمایاں ہوئی۔ پاکستان، جو محافظ حرمین شریفین بھی ہے، اس خطے میں کسی ایک بلاک کا حصہ بننے کے بجائے دونوں برادر ممالک کو ساتھ لے کر چلنے کا خواہاں ہے۔ اسلام آباد کی سفارتی خواہش یہ ہے کہ ریاض اور ابوظہبی کے درمیان پیدا ہونے والی تلخیوں کا خاتمہ ہو، تاکہ عرب دنیا میں سیاسی استحکام، معاشی تعاون اور اجتماعی ترقی کی راہ ہموار ہو سکے۔

اکیسویں صدی کے آغاز میں عالمی تعاون، ترقی اور امن کے حوالے سے جو یکسوئی اور امید دکھائی دیتی تھی، وہ اب بتدریج ماند پڑتی جا رہی ہے۔ ایک وقت تھا جب یہ یقین عام تھا کہ جنگوں کا دور ختم ہو چکا ہے، مگر گزشتہ پچیس برسوں کے واقعات نے ثابت کر دیا کہ ہر جنگ و تصادم کے پسِ پردہ کسی نہ کسی عالمی طاقت کے مفادات کارفرما ہوتے ہیں۔ اگر یہ روش برقرار رہی تو عالمی معیشت، بالخصوص ترقی پذیر ممالک کی اقتصادی بنیادیں مزید کمزور ہوتی چلی جائیں گی، اور یہی وہ نکتہ ہے جہاں پاکستان جیسے ممالک کے لیے سنجیدہ غور و فکر ناگزیر ہو جاتا ہے کہ موجودہ عالمی حالات میں وہ اپنی معاشی سمت کا تعین کس حکمتِ عملی کے تحت کریں۔ فلسطین میں امن و سلامتی کے بغیر، ایران اسرائیل جنگ بندی کے بغیر، پاک بھارت جنگ بندی کے بغیر، پاک- افغان اچھے تعلقات کے بغیر، سوڈان ، لیبیا ، یمن میں امن و سلامتی کے بغیر اور عرب دنیا میں اتحاد، استحکام اور مشترکہ ترقی کے بغیر اس پورے خطے کے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔

عالمی سطح پر مختلف بلاکس کے علاوہ روس-یوکرین جنگ سے پیدا ہونے والی غذائی قلت، معاشی تباہی کو سامنے رکھتے ہوئے وطن عزیز کے حالات کو انصاف کے ترازو میں پرکھا جائے، تو پاکستان نے حالیہ برسوں میں عسکری سطح پر اپنی صلاحیت منوا کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ دفاعی اعتبار سے ایک مضبوط اور ذمہ دار ریاست ہے، اور یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ ملک حالیہ برسوں میں فوری دیوالیہ پن کے خطرے سے نکل آیا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا محض دفاعی ساکھ اور وقتی مالی بندوبست کسی ریاست کو پائیدار ترقی کی ضمانت دے سکتا ہے؟ زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ ملکی معیشت کو اس انداز میں ڈیفالٹ سے باہر نکالا گیا ہے کہ ریاستی اخراجات تو بمشکل پورے ہو رہے ہیں، لیکن پیداوار، صنعت اور برآمدات مسلسل زوال کا شکار ہیں۔

فیکٹریوں کی بندش اور برآمدی یونٹس کا سکڑنا کوئی اچھی علامت نہیں ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر پیداواری پہیہ دوبارہ چلانا ہے تو 20 سے 25 ارب ڈالر کی سنجیدہ سرمایہ کاری ناگزیر ہے، بصورتِ دیگر روپے کی قدر میں مزید کمی اور مہنگائی کے نئے طوفان کو روکنا ممکن نہیں رہے گا۔ ایسے میں اگر پاکستان عسکری برتری پر انحصار کرتا رہا اور زراعت، صنعت اور چھوٹے کاشتکار کو درپیش مسائل کو نظرانداز کیا گیا تو یہ عالمی سطح پر حاصل ہونے والا اعتماد بھی دیرپا ثابت نہیں ہو سکے گا۔ مضبوط خارجہ تعلقات کی بنیاد بالآخر مضبوط معیشت ہی پر استوار ہوتی ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں حکومتِ وقت کو وقتی کامیابیوں سے آگے دیکھتے ہوئے سنجیدہ اور فیصلہ کن اقدامات کرنا ہوں گے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے