عقل و دل و نگاہ کا مرشدِ اولیٰ علیؓ

اسلام کی تاریخ اگر کسی شخصیت پر فخر کرتی ہے تو وہ ہے حضرت علی ابن ابی طالبؓ۔ وہ نام، جسے رسول اللہ ﷺ نے بچپن سے اپنی آغوش میں پالا ۔ حضرت علیؓ نہ صرف علم و حکمت کا منبع تھے بلکہ شجاعت، فصاحت، زہد و تقویٰ اور عدل و انصاف کی مجسم تصویر بھی تھے۔ ۱۳ رجب المرجب آپ کا یوم ولادت ہے۔

علامہ اقبالؒ نے حضرت علیؓ کے بارے میں کہا

فقرِ حسینیؓ، مردِ قلندر کا سرمایہ
عقل و دل و نگاہ کا مرشدِ اولیٰ علیؓ

حضرت علیؓ کی زندگی کے کئی پہلو ایسے ہیں جو رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے مشعل راہ رہیں گے۔ آپؓ نے نہ صرف اسلام کے ابتدائی دور میں ہر میدانِ جنگ میں بے مثال شجاعت دکھائی بلکہ علمی میدان میں بھی ایسا فہم و تدبر عطا کیا کہ دنیا حیران رہ گئی. رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے.

یہ حدیث آپؓ کے علمی مرتبے کو واضح کرتی ہے۔ آپؓ کی خطابت، آپؓ کے فیصلے، اور آپؓ کی فقہی بصیرت آج بھی اسلامی فقہ اور فلسفہ کا لازمی حوالہ ہیں۔

علامہ اقبال کہتے ہیں؛
چوں بجنگ آید زِ مردانِ خدا
از علی آموز ای مردِ خدا!

(جب جنگ کا وقت ہو، تو مردِ مومن کو علیؓ سے سیکھنا چاہیے)
حضرت علیؓ کا عدل مثالی تھا۔ خلافت کے دور میں بیت المال کو امانت سمجھا، اپنے بھائی عقیل کو بھی رعایت نہ دی۔ دنیا نے دیکھا کہ ایک حاکم ہونے کے باوجود آپؓ نے قمیص تک خود سیتی، کھانے میں سادگی کو ترجیح دی اور راتوں کو عبادت میں آنسو بہاتے رہے۔

آپؓ کی شہادت بھی حق کے راستے میں ایک لازوال قربانی تھی ۱۶ رمضان، مسجدِ کوفہ، سجدے کی حالت، اور قاتل کا وار لیکن زبان پر شکوہ نہیں، صرف یہ جملہ: فزتُ و رب الکعبہ” (ربِ کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہو گیا). حضرت علیؓ کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ دین صرف عبادت نہیں، عدل، علم، سچائی اور قربانی کا نام بھی ہے۔

علامہ اقبال نے بہت خوب کہا

گرچہ ہے افشاں لبِ گوہر فشاں تیرا کلام
حیدریؓ خو، فقر ہے، صدیقؓی استغنا بھی ہے

حضرت علیؓ آج بھی ہر اس انسان کے لیے مشعلِ ہے جو علم کے نور سے دلوں کو منور کرنا چاہتا ہے، اور جو اللہ کی رضا کے لیے دنیا کی راحتیں چھوڑ سکتا ہے۔
حضرت علیؓ کا کردار تاریخ نہیں، ایک زندہ پیغام ہے جو ہر دور کے مومن کو جھنجھوڑ کر کہتا ہے: حق کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ، چاہے دنیا تمہارے خلاف کیوں نہ ہو.

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے