ایران کا بحران اور خطے پر اس کے اثرات

ایران کا موجودہ بحران محض ایک داخلی سیاسی یا سفارتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک گہرے اور ہمہ گیر جیوپولیٹیکل خطرے کی صورت اختیار کر چکا ہے، جس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے خطے، بالخصوص خلیج، بحیرۂ عرب، مکران کوسٹ اور جنوبی ایشیا تک پھیلنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ عمومی تاثر یہ دیا جا رہا ہے کہ ایران کو مکمل طور پر تقسیم یا توڑنے کا کوئی منصوبہ نہیں، مگر جدید عالمی سیاست میں ریاستوں کو براہِ راست توڑنے کے بجائے انہیں اندر سے کمزور کرنے، کھوکھلا کرنے اور غیر مؤثر بنانے کی حکمتِ عملی زیادہ مؤثر سمجھی جاتی ہے۔ یہی وہ ماڈل ہے جو عراق اور شام میں آزمایا جا چکا ہے، جہاں ریاستی ڈھانچہ بظاہر قائم رہا مگر اصل طاقت بتدریج چھن گئی۔

اس ماڈل میں ریاست پر براہِ راست قبضے کے بجائے پہلے مرحلے میں شدید معاشی پابندیاں، سفارتی تنہائی، داخلی سیاسی دباؤ اور سماجی بے چینی پیدا کی جاتی ہے۔

دوسرے مرحلے میں ایسا اقتدار یا حکمران طبقہ ابھرتا ہے جو بظاہر قومی ہو مگر فیصلوں میں خودمختار نہ ہو۔

تیسرے مرحلے میں نسلی، لسانی اور علاقائی شناختوں کو ابھار کر انہیں محدود اختیارات یا ڈی فیکٹو طاقت دی جاتی ہے، جس سے مرکزی ریاست مزید کمزور ہو جاتی ہے۔ عراق میں کرد علاقوں کی مضبوطی، شام میں مختلف گروہوں کا ابھار اور لیبیا میں علاقائی ملیشیاؤں کی بالادستی اسی حکمتِ عملی کی مثالیں ہیں۔

ایران کے معاملے میں اس حکمتِ عملی کا سب سے اہم تزویراتی پہلو آبنائے ہرمز ہے، جو عالمی توانائی کی ترسیل کی شہ رگ سمجھی جاتی ہے۔ دنیا کے تیل اور مائع قدرتی گیس کا ایک بڑا حصہ اسی تنگ سمندری راستے سے گزرتا ہے۔ اگر ایران کسی بھی صورت میں داخلی طور پر غیر مستحکم یا کمزور ہو جاتا ہے تو آبنائے ہرمز پر اس کی عملی گرفت متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کا براہِ راست فائدہ ان عالمی طاقتوں کو پہنچے گا جو طویل عرصے سے اس گزرگاہ کو بین الاقوامی یا عملی طور پر امریکی بحری کنٹرول میں لانا چاہتی ہیں۔ اس طرح نہ صرف ایران کا دباؤ کم ہو جائے گا بلکہ عالمی توانائی منڈی میں طاقت کا توازن بھی تبدیل ہو سکتا ہے۔

آبنائے ہرمز کے ساتھ ساتھ مکران کوسٹ کی جیوپولیٹیکل اہمیت بھی غیر معمولی ہے۔ چاہ بہار، گوادر اور کراچی ایک ہی ساحلی پٹی کے مختلف مگر باہم جڑے ہوئے حصے ہیں۔ چاہ بہار میں بھارتی سرمایہ کاری اور رسائی، گوادر میں چینی موجودگی اور کراچی کی معاشی و آبادیاتی حساسیت اس پورے ساحلی خطے کو ایک اسٹریٹجک زنجیر بناتی ہے۔ اگر ایران عدم استحکام کا شکار ہوتا ہے تو اس کے اثرات لازماً چاہ بہار کی سکیورٹی، گوادر کی حیثیت اور کراچی کے سماجی و معاشی توازن تک پہنچیں گے۔

گوادر خاص طور پر چین کے لیے ایک کلیدی تزویراتی اثاثہ ہے کیونکہ یہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کا مرکزی نقطہ ہے اور چین کو بحیرۂ عرب تک براہِ راست رسائی فراہم کرتا ہے۔ اگر مکران کوسٹ میں عدم استحکام پیدا کیا جاتا ہے، یا وہاں ڈی فیکٹو طاقتوں کو ابھرنے کا موقع دیا جاتا ہے، تو اس کا ایک بڑا مقصد چین کے اثر و رسوخ کو محدود کرنا بھی ہو سکتا ہے۔ یہ عمل براہِ راست فوجی تصادم کے بجائے سکیورٹی خدشات، مقامی مزاحمت اور سیاسی غیر یقینی صورتحال کے ذریعے کیا جائے گا، جیسا کہ جدید جیوپولیٹکس میں عام ہے۔

ایران کے اندر بلوچ، عرب اور کرد قومیتوں کی موجودگی اس پورے منظرنامے میں ایک حساس پہلو ہے۔ جب ریاست مضبوط ہوتی ہے تو ایسے گروہ محدود رہتے ہیں، مگر جیسے ہی ریاست کمزور ہوتی ہے، وہ گروہ جن کے پاس جغرافیائی تسلسل، سرحد پار روابط یا کسی درجے کی تنظیم موجود ہو، نسبتاً زیادہ اثر و رسوخ حاصل کر لیتے ہیں۔

ایران کے بلوچ علاقے جغرافیائی طور پر مکران کوسٹ سے جڑے ہوئے ہیں، اس لیے یہاں ہونے والی کسی بھی تبدیلی کے علاقائی اثرات ناگزیر ہوں گے۔ یہی صورتحال ایران کے عرب اکثریتی علاقوں اور کرد خطوں میں بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ اس کا مطلب ایران کی فوری تقسیم نہیں بلکہ ایک ایسی صورت حال ہے جس میں مرکزی ریاست محض رسمی حیثیت اختیار کر لے۔

اس بحران کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہوں گے، خاص طور پر بلوچستان اور کراچی پر۔ تاریخی طور پر پاکستان اور ایران نے بلوچ تحریک کے خلاف ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کیا ہے۔ 1970 کی دہائی میں بلوچستان میں ہونے والی فوجی کارروائی کے دوران ایران نے پاکستان کو کوبرا ہیلی کاپٹر اور پائلٹس فراہم کیے تھے تاکہ بلوچ مزاحمت کو دبایا جا سکے۔ یہ ایک واضح مثال ہے کہ دونوں ریاستیں اس معاملے میں مشترکہ مفادات رکھتی تھیں۔

موجودہ حالات میں اگر ایران خود داخلی کمزوری اور دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے تو وہ نہ صرف اس نوعیت کی معاونت کے قابل نہیں رہے گا بلکہ پاکستان کے اندر موجود وہ عناصر بھی کمزور پڑ سکتے ہیں جو کسی نہ کسی صورت ایران کے سیاسی یا نظریاتی اثر سے وابستہ رہے ہیں۔ اس صورت میں بلوچ تحریک کو پاکستان اور ایران دونوں میں نسبتاً زیادہ سیاسی اور عملی گنجائش مل سکتی ہے، کیونکہ وہ دو طرفہ دباؤ جو ماضی میں موجود تھا، کمزور ہو جائے گا۔

تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایسے حالات میں فائدے کے ساتھ ساتھ شدید خطرات بھی جنم لیتے ہیں۔ عراق اور شام کی مثالیں واضح کرتی ہیں کہ جب ریاست کمزور ہوتی ہے تو سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ تشدد، بے یقینی، معاشی بدحالی اور بیرونی مداخلت ایسے بحرانوں کے ناگزیر نتائج ہوتے ہیں۔

کراچی اس پورے منظرنامے میں ایک نہایت حساس اور نازک مقام رکھتا ہے۔ یہ شہر پہلے ہی سیاسی، لسانی اور معاشی دباؤ کا شکار رہا ہے۔ اگر مکران کوسٹ سے لے کر گوادر اور چاہ بہار تک عدم استحکام پیدا ہوتا ہے تو اس کے اثرات براہِ راست کراچی تک پہنچیں گے۔ بندرگاہی سرگرمیاں، تجارت، اندرونی ہجرت اور سماجی کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے کراچی ایک بار پھر علاقائی سیاست کا یرغمال بننے کا خطرہ رکھتا ہے۔

علاقائی سطح پر اس بحران کا ایک اور اثر یہ ہو سکتا ہے کہ پاکستان پر دباؤ بڑھے کہ وہ خلیجی سیاست میں کسی ایک فریق کی غیر مشروط حمایت نہ کرے۔ اگر آبنائے ہرمز عملی طور پر امریکی اثر میں آتی ہے اور مکران کوسٹ عدم استحکام کا شکار ہوتا ہے تو پاکستان کے لیے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ایران کے درمیان توازن برقرار رکھنا مزید مشکل ہو جائے گا۔ ایسے حالات میں ریاستی اور غیر ریاستی ڈی فیکٹو طاقتیں زیادہ اثر انداز ہو سکتی ہیں۔

آخرکار یہ بحران اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ جدید دور میں جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں لڑی جاتیں بلکہ ریاستوں کو اندر سے کمزور کر کے، معیشت کو مفلوج کر کے اور سماجی تضادات کو ہوا دے کر مقاصد حاصل کیے جاتے ہیں۔ اگر ایران کے ساتھ بھی یہی ماڈل اپنایا گیا تو اس کے اثرات صرف تہران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ آبنائے ہرمز سے لے کر مکران کوسٹ، گوادر، کراچی اور پورے جنوبی ایشیا تک محسوس کیے جائیں گے۔

یہ ایک بڑا جیوپولیٹیکل خطرہ ہے جس میں بظاہر طاقت کے نئے مراکز ابھرتے نظر آئیں گے، مگر اصل فائدہ ہمیشہ بڑی عالمی طاقتوں کو ہو گا، جبکہ مقامی آبادی ایک بار پھر عدم استحکام، تشدد اور غیر یقینی مستقبل کی قیمت ادا کرے گی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے