رسم و رواج کسی بھی ثقافت کا جوہر ہوتے ہیں، جن کی مدد سے معاشرے کے رہن سہن کا پتہ چلتا ہے۔ کچھ رسوم و رواج علاقائی ہوتے ہیں جو اسی علاقے کی نمائندگی کرتے ہیں جہاں وہ رائج ہوتے ہیں۔ رسم و رواج قدیم تہذیبوں میں بھی موجود تھے، جو اس وقت کے لوگوں کی تہذیب و ثقافت کی عکاسی کرتے ہیں۔
رسم و رواج کا مقصد غمی و خوشی اور دکھ سکھ کو بانٹنا اور انہیں احسن طریقے سے منانا ہے۔
ایک مسلمان کی حیثیت سے ہم کسی بھی علاقے، قبیلے یا معاشرے سے تعلق رکھتے ہوں، ہماری رسوم و رواج میں ہمارے دین کا عکس نمایاں نظر آتا ہے۔ اس دین نے نہایت آسان اور سہل رسوم و رواج سکھائے ہیں، جنہیں صحیح معنوں میں بامقصد، فائدہ مند اور سبق آموز روایات کہنا بے جا نہ ہوگا۔ مثلاً نکاح کی رسم، بسم اللہ اور آمین کی رسم، تدفین و قل کی رسم وغیرہ، جنہیں ادا کرنے سے انسان کو روحانی سکون حاصل ہوتا ہے۔
افسوس! ہمارا معاشرہ جدید دور کی آڑ میں اپنی راہوں کو چھوڑ کر دوسروں کے راستے پر نکل پڑا ہے، جو محض گمراہی کا راستہ ہے۔ ہم نے جدید رسوم و رواج کو اس قدر پھیلا دیا ہے کہ نہ صرف اپنے لیے مشکلات اکٹھی کر لی ہیں بلکہ نچلے طبقے کو بھی احساسِ کمتری کے دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نہ ہمیں سچی خوشی نصیب ہوئی ہے اور نہ ہی اطمینانِ قلب۔ دوسروں کی تکلیف دہ رسم و رواج کو اپنی روایات میں شامل کر کے ہم خود ہی دکھی ہو گئے ہیں۔
ان بے تکے رواجوں کے لیے اخراجات پورے کرنا، جو حق حلال اور محنت کی کمائی سے ہوں، کم از کم ناممکن ہو چکا ہے۔ جہیز جیسی لعنت اور طرح طرح کی فضول رسومات کو رسم و رواج میں شامل کرنا دراصل رسم و رواج کی توہین ہے۔ رسم و رواج کے نام پر ایسی خرافات، بدعتیں اور بے حیائی عام ہو چکی ہیں جو صرف برائیوں کو جنم دیتی ہیں اور خوشی و مسرت جیسے پاکیزہ جذبات کا خون کر دیتی ہیں۔
ڈیزائنرز کے نام پر بیہودہ لباس، سنگھار کے نام پر بے جا نمائش، اور شاورز کے نام پر عریانی اور بے حیائی کو خوب فروغ دیا جا رہا ہے۔ میڈیا نے ان اخراجات کو چار چاند لگا دیے ہیں، جس کی وجہ سے ہماری اصل رسوم و رواج ایک کونے میں جا لگے ہیں۔ اگر چند لوگ انہیں زندہ رکھنے کی کوشش بھی کرتے ہیں تو ان کی دل آزاری کی جاتی ہے اور ان کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ انہیں فرسودہ اور کنجوس کہا جاتا ہے۔
ہماری نوجوان نسل جدت اور جدیدیت کے چکر میں اپنی ہی روایات سے بے بہرہ ہوتی جا رہی ہے۔ یہ سب ایک بھیڑ چال کی طرح ہو رہا ہے؛ ہر شخص کچھ نیا، زیادہ بہتر اور انوکھا کرنے کی دوڑ میں لگا ہوا ہے۔ رسمیں ہمارے معاشرے کا لازمی حصہ سمجھ لی گئی ہیں، جنہیں ہر حال میں پورا کیا جاتا ہے، چاہے حالات جیسے بھی ہوں۔ اگر کوئی ان پر عمل نہ کرے تو اسے شرمندگی اور احساسِ کمتری میں مبتلا کر دیا جاتا ہے۔
آزادی اور خوشی سے جینا نہ صرف انسان کی ضرورت ہے بلکہ یہ وہ صفات ہیں جن کی نشوونما ان رسومات کے بوجھ تلے دب کر ممکن نہیں رہتی، چاہے رسمیں بظاہر کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہوں۔ اگر کوئی شخص ان خیالی رسومات کی پابندی نہ کرے تو یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ وہ غلط صحبت میں پڑ چکا ہے اور بزرگوں کی روایات کو نہیں مانتا، حالانکہ ایسی غلط رسومات کی پابندی نہ کرنے سے مسائل پیدا نہیں ہوتے بلکہ ان کی اندھی تقلید سے جنم لیتے ہیں۔
جس طرح انسان میں برے کام کرنے کی قوت موجود ہے، اسی طرح اسے ان سے روکنے کے لیے عقل اور اصول بھی عطا کیے گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ رسوم اکثر یک طرفہ ہوتی ہیں، جن میں نہ دوسرے فریق کے جذبات کا خیال رکھا جاتا ہے اور نہ ہی اس کی مالی حالت کو دیکھا جاتا ہے۔
خدارا! دل و دماغ کو کھولیں، اپنی شناخت کو قائم رکھیں، آسانیاں اور خوشیاں بانٹیں، تاکہ ہمارے رسم و رواج زندہ و جاوید رہیں۔