جمہوریہ چیک کے دارالخلافہ پراگ سے آسٹریا کا خوبصورت شہر ویانا محض دو گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔ تاریخی طور پر آسٹریا صدیوں تک یورپ کی عظیم "ہابسبرگ سلطنت” کا مرکز رہا ہے، جس کی جھلک آج بھی یہاں کی شاہانہ عمارتوں اور فنِ تعمیر میں نظر آتی ہے۔ جغرافیائی لحاظ سے یہ ایک زمین بند (Landlocked) ملک ہے جس کا زیادہ تر حصہ ایلپس (Alps) کے بلند و بالا پہاڑوں اور گھنے جنگلات پر مشتمل ہے، جو اسے قدرتی حسن سے مالا مال بناتے ہیں۔
اگر مجھ سے کوئی پوچھے کہ یورپ میں سفر کرتے ہوئے کون سا ملک آپ کے دل کو بھایا ہے تو میں کہوں گا کہ آسٹریا۔ اور آسٹریا میں سب سے زیادہ ویانا۔ میں جتنی دفعہ ویانا گیا ہوں مجھے اللہ کی توفیق سے گھر جیسا ماحول ملا ہے۔ جب میں پہلی دفعہ ویانا کے ایئرپورٹ پہ اترا تو جو محترم مجھے لینے کے لیے آئے تھے ان سے کبھی ملاقات نہیں تھی، ان کو میرے ایک اور دوست نے کہا تھا۔ مگر سچ پوچھیے کہ ان سے ملاقات کے بعد شاید وہ اس دوست سے بھی زیادہ میرے لیے محترم اور عزیز ہو گئے ہیں اور رہیں گے۔
جی بالکل میں یورپ اور بالخصوص پاکستانی کمیونٹی میں ایک جانے مانے نام ملک امین اعوان صاحب کا تذکرہ کیے بغیر آسٹریا یا ویانا کے بارے میں لکھنا نا مکمل سمجھتا ہوں۔ اس کی سب سے اہم اور بڑی وجہ ملک امین اعوان صاحب کا پاکستانی کمیونٹی کے لیے وہ خدمت ہے جو شاید کوئی پاکستانی کر پایا ہو۔ امین صاحب 40 سال سے ویانا میں رہ رہے ہیں۔ امین صاحب 40 سال قبل یہاں اخبار بیچتے تھے اور پھر ٹرانسپورٹ کے کاروبار سے منسلک ہوئے۔ اپنی داستانِ درد سناتے ہوئے میں کانپ جاتا تھا کہ کیسے سیالکوٹ کا ایک بندہ اتنی سخت سردی میں ویانا کی گلیوں میں معاش کرتا ہوگا۔ با اخلاق، با عزت اور با کردار ہونے کے لیے واقعی بہت پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔
مگر ان کا کارنامہ جو ان کو دنیا اور آخرت میں اعلیٰ ترین مناصب پہ فائز کرے گا وہ ہے تدفین کمیٹی ویانا کا قیام۔ پتا نہیں ان کو یہ خیال کہاں سے آیا مگر جب بھی کوئی آسٹریا یا یورپ میں فوت ہو جاتا ہے، ملک امین صاحب ان کو باعزت طریقے سے واپس پاکستان لانے کے اور یہاں تک کہ فوت شدگان کو آبائی گاؤں تک پہنچانے کا انتظام کرتے ہیں۔ یہی نہیں پاکستان میں ایسی ایمبولینس سروس والوں کو بھی راضی کیا کہ وہ ایئرپورٹ سے میتوں کو ان کے آبائی گاؤں لے کر جائیں۔ میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ امین صاحب کو اس کام میں دنیا کا کوئی فائدہ نہیں ہے کیونکہ جو شخص فوت ہو جاتا ہے وہ خود چار کندھوں کا محتاج ہو جاتا ہے۔ اب ایسا کام صرف اللہ کی رضا کے لیے ہی ہو سکتا ہے۔
ایک دن وہ طبیعت خراب ہونے کے باوجود مجھے ساتھ لے گئے ایک جنازے پہ۔ ان کی محنت کو سلام ہے، ویانا سے 200 کلومیٹر دور اور وہاں اپنی حاضری کے علاوہ مزید لوگوں کو تدفین فنڈ کے لیے آمادہ بھی کیا۔ امین صاحب صرف نام کے امین نہیں، کردار کے بھی امین ہیں۔ میری یہ خوش قسمتی ہے کہ میں امین صاحب کے ہاں ویانا میں حاضر ہوا اور ان کا مہمان بھی بنا۔ امین صاحب اپنے نفیس بیٹوں کے ساتھ مجھے خود لینے آئے اور ان سے بس دوستی اور بھائی چارہ ہو گیا۔ میں نے ویانا میں 11 ڈسٹرکٹ میں ان کے گھر قیام کیا۔ صبح صبح پاکستانی پراٹھوں اور فرائی انڈوں کے ساتھ دیسی چائے والا ذائقہ ان کے گھر کے ناشتے کا آج بھی یاد ہے۔ میں نے آسٹریا میں غالباً ہی کوئی جگہ چھوڑی ہوگی جو امین صاحب یا ان کے بیٹوں نے نہ دکھائی ہو۔
ویانا میں دریائے ڈینیوب (Danube) کا بہتا ہوا دریا اور دامنِ کوہ کی طرح پہاڑی پہ بنا ٹورسٹ پوائنٹ اور وہاں سے شہر کا نظارہ دل کو چھونے والا ہوتا ہے۔ وہاں پاکستانی جو 80 یا 70 کی دہائی میں گئے تھے ان کی نئی نسل بہت دلچسپ ہے۔ آدھی پنجابی میں بات کرتے ہیں اور آدھی بات وہ جرمن زبان میں، سمجھ نہیں آتا کہ یہ لوگ جرمن ہیں کہ پنجابی۔ حقہ پیتے ہوئے نہیں تھکتے اور ان کا پنجابی سٹائل میڈ ان آسٹریا نفیس مزاج بھی رکھتے ہیں۔
بہر حال ویانا میں کیا کیا دیکھا اس سے پہلے میں اوورسیز پاکستانیوں کے بارے میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ اگر امین صاحب جیسے لوگوں کو سپورٹ کیا جائے تو ایسے بہت سارے ہیرے پاکستان کی مٹی نے پیدا کیے ہیں جو اس ملک کا نام مزید اونچا اور روشن کر سکتے ہیں۔ ہاں البتہ پاکستانی اوورسیز جن پہ میں تفصیلی کالم لکھوں گا ایک مسئلے سے دوچار ہیں۔ وہ مسئلہ اس بات پہ اتفاق ہے کہ کبھی اتفاق سے نہیں رہیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ امین صاحب کی دیکھا دیکھی اور لوگوں نے بھی تدفین کی ایسی کمیٹیاں یا چند یوروز بچنے کی خاطر اچھے خاصے کارِ خیر کو خراب کرنے کی کوشش کی ہے۔ اور جزا صرف اللہ کے پاس ہے۔ کوئی نہ کسی کا کچھ بگاڑ سکتا ہے اور نہ سنوار سکتا ہے اللہ کی منشا کے بغیر۔ میں بس اتنا کہوں گا امین صاحب جیسے ہیرو ہمارے ملک کے اصل سفیر اور پہچان ہیں جو اس وقت لوگوں کے کام آتے ہیں جب وہ کسی کام کے نہیں رہ پاتے بلکہ خود تدفین کے لیے بھی دوسروں کے ہاتھوں بنی ہوئی قبر کے محتاج ہوتے ہیں۔
امین صاحب کا گھر سیالکوٹ کے کسی ڈیرے سے کم نہیں لگتا۔ بالکل پنجاب سٹائل کا ڈیرہ جس میں ایک بڑا بینر "جی آیاں نوں” کے الفاظ سے آپ کو خوش آمدید کرتے ہوئے دکھائی دے گا۔ ان کی مہمان نوازی ماشاءاللہ میاں بل میاں ہے۔ اپنی پوری توجہ سے مہمان کا خیال رکھنا اور ان کو ایسے باور کرانا کہ وہ اپنے گھر میں ہیں امین صاحب سے کوئی سیکھے۔
مجھے ویانا میں سب سے متاثر کن بات یہ لگی کہ آپ گھر میں کسی بھی نلکے سے پانی پی سکتے ہیں، صفائی اس قدر زیادہ ہے۔ مزید کہ کئی سال دنیا کا بہترین شہر قرار پایا ہے۔ زندگی کی ہر سہولت آپ کو ملتی ہے۔ مجھے اسلام آباد جیسا لگا۔ ایک ہی کھانا زیادہ مشہور ہے وہ شنیٹزل (Schnitzel)، مگر مجھے اللہ پاک حلال اور پاکستانی کھانا ہی عطا کرتا ہے۔ الحمدللہ میں نے اللہ سے ہمیشہ حلال کھانے کی درخواست کی اور اللہ نے پوری کی۔
ڈسٹرکٹ ون (District One) بنی چرچ کی عمارت نے بہت متاثر کیا۔ یورپ میں جگہ جگہ آپ کو ایسے بنے چرچ ملیں گے کہ جن مزدوروں کے ہاتھوں وہ بنے ہیں وہ چومنے کے قابل ہیں۔ مجھے ویانا میں بنا وہ چرچ اتنا پسند آیا کہ میں کئی دفعہ ڈاؤن ٹاؤن وہ چرچ دیکھنے گیا بلکہ ٹکٹ لے کر اندر گیا اور شاباش دی ان ہنرمندوں کو جنہوں نے اتنے زبردست چرچ اور عمارتیں بنائیں۔ ویسے تو نہیں کہتے کہ پچھلے تین صدیوں میں یورپ والے حقیقی ترقی کے حقدار ٹھہرے ہیں۔
دنیا میں کافی جگہ جانے کا اتفاق ہوا مگر ہالسٹاٹ (Hallstatt) آسٹریا کا واقعی دل کو چھونے والا قصبہ ہے۔ ایلپس (Alps) پہاڑوں کے دامن میں خوبصورت جھیل اور اس کے عین وسط میں بنے لکڑی کے چھوٹے چھوٹے مکان جنت نظیر، خوبصورت اور دل کو چھونے والا احساس پیدا کرتے ہیں۔ جھیل کا پانی اتنا صاف کہ آپ کو مچھلیاں اور نیچے پانی میں پڑے پتھر دور سے نظر آتے ہیں۔ اسی طرح سالزبرگ پہاڑوں کا کیا خوبصورت ترین اعلیٰ علاقہ ہے۔
ایک اور شخص جو قابلِ تذکرہ ہے وہ ہے وقاص۔ حافظ آباد کا ایک نڈر اور چیتا قسم کا انسان۔ آج کل غالباً سپین میں ریسٹورنٹ ہے مگر ویانا میں پلینٹ پیزا کے نام سے ایسے پیزے کے ذائقے نکالے کہ بندے کو پنجاب کی روٹی زیادہ اور پیزا کم محسوس ہوتا ہے۔ وقاص اور میں سارے رستے میں کبھی دریا کے کنارے اور کبھی کھلے میدانوں میں تو کبھی پہاڑوں میں کرکٹ کھیلتے رہے۔ ویسے کمال کا بیٹسمین ہے آؤٹ نہیں ہوتا اور ڈریسنگ ایسی کرتا ہے کہ بادشاہوں والی۔ آج کل حافظ آباد میں اپنا ڈیرہ آباد کیا ہے، جہاں جاتا ہے دوستوں کو ساتھ لے کر چلتا ہے۔ گوجرانوالہ والوں کی طرح مزاج ہے، کھانے میں پوچھو کیا کر رہے تھے تو کہتا ہے کھانا کھانے گئے تھے، پھر پوچھو آگے کیا کرنا ہے تو کہتا ہے کھانا کھانے جائیں گے۔ اچھا خاصا ویٹ (Weight) بڑھا دیا بندے نے میرا چند دن میں۔
مجھے وقاص کے ساتھ ایک بہت ہی خوبصورت سفر کا موقع ملا۔ ویانا سے سالزبرگ کی طرف چلتے ہوئے جرمنی، سوئٹزرلینڈ اور آسٹریا کا ایک علاقہ جس کو سمجھ لیں فری زون (سمناون) کہا جائے تو غلط نہ ہوگا یا ایک قسم کا امیگریشن فری ایریا۔ خوبصورت پہاڑ، ان پہ ہری بھری گھاس، جگہ جگہ آبشاریں اور وقاص جیسا یار۔ کیا بہترین امتزاج۔ راستے میں چلتے ہوئے آپ کو ہٹلر کے بنائے جیل خانے بھی نظر آتے ہیں۔
وقاص اور ان کے بھائی اور امین صاحب کے بیٹوں جیسی نئی یوتھ دراصل میں پاکستان کا مستقبل ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کو پاکستان کے ساتھ جوڑے رکھا جائے۔ یہ پاکستان آتے ہیں تو کبھی دلبرداشتہ ہو جاتے ہیں۔ ہمیں اوورسیز کے اثاثے کو ہر حال میں جوڑے رکھنا ہے، اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے۔
جس انداز میں آسٹریا نے خود کو ترقی کی راہ پر ڈالا ہے وہ واقعی بہت بہترین اور حیران کن ہے۔ پاکستانی کمیونٹی کم مگر بہترین لوگوں سے بھرپور ہے۔ اپنی محنت سے نام کمایا ہے اور اچھا کام کر رہے ہیں۔ اللہ ہمیں بھی آسٹریا کی طرح پاک صاف شہر اور ماحول رکھنے کی توفیق دے۔ آمین۔