ایچ آئی وی کے ساتھ جینے والے خواجہ سرا افراد کی ذہنی صحت کا بحران

ایچ آئی وی کے ساتھ جینا صرف ایک جسمانی بیماری سے نمٹنے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک مسلسل نفسیاتی اور سماجی جدوجہد بھی ہے۔ خیبر پختونخوا میں خواجہ سرا افراد کے لیے یہ جدوجہد دوہری ہو جاتی ہے، جہاں ایک طرف بیماری کا بوجھ ہے اور دوسری طرف صنفی شناخت سے جڑی بدنامی۔ بدقسمتی سے، ایچ آئی وی کے تناظر میں خواجہ سرا افراد کی ذہنی صحت پر بہت کم توجہ دی گئی ہے، حالانکہ یہی خاموش پہلو ان کی زندگیوں کو سب سے زیادہ متاثر کرتا ہے۔

خواجہ سرا افراد پہلے ہی معاشرتی سطح پر تنہائی، عدم قبولیت اور تشدد کا سامنا کرتے ہیں۔ جب ایچ آئی وی کی تشخیص اس حقیقت میں شامل ہو جاتی ہے تو خوف، شرمندگی اور خود الزام تراشی مزید گہری ہو جاتی ہے۔ بہت سے افراد یہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ وہ “دو بار مجرم” ٹھہرائے جا رہے ہیں .ایک بار اپنی شناخت کی وجہ سے اور دوسری بار بیماری کی بنیاد پر۔ یہ احساسات ڈپریشن، شدید اضطراب، نیند کی خرابی اور خود اعتمادی کے خاتمے کی صورت میں سامنے آتے ہیں، مگر ان مسائل کو شاذ و نادر ہی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔

ایچ آئی وی کے علاج کا نظام عموماً دوا تک محدود رہتا ہے۔ مریض کو اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی فراہم کر دی جاتی ہے، مگر ذہنی صحت کی کونسلنگ، نفسیاتی معاونت یا جذباتی سہارا اکثر غائب ہوتا ہے۔ خواجہ سرا افراد کے لیے یہ خلا اور بھی خطرناک ہے، کیونکہ انہیں صحت کے مراکز میں پہلے ہی امتیازی رویوں کا سامنا ہوتا ہے۔ تضحیک، غلط نام سے پکارنا، یا نجی معلومات کو افشا کرنا ایسے تجربات ہیں جو علاج کے عمل کو نفسیاتی اذیت میں بدل دیتے ہیں۔

ذہنی صحت کے مسائل کا ایک بڑا سبب مستقل خوف ہے۔ خواجہ سرا افراد کو یہ ڈر لاحق رہتا ہے کہ اگر ان کی ایچ آئی وی اسٹیٹس سامنے آ گئی تو وہ اپنی رہائش، روزگار یا کمیونٹی سپورٹ کھو سکتے ہیں۔ یہ خوف انہیں سماجی روابط سے کاٹ دیتا ہے، جس کے نتیجے میں تنہائی بڑھتی ہے۔ کچھ افراد علاج جاری رکھتے ہیں مگر خاموشی کے ساتھ، جبکہ کچھ مکمل طور پر نظامِ صحت سے باہر ہو جاتے ہیں۔ یہ صورتِ حال نہ صرف فرد کی صحت بلکہ عوامی صحت کے لیے بھی خطرناک ہے۔

تشویشناک بات یہ ہے کہ ذہنی صحت کی سہولیات عمومی طور پر ہی محدود ہیں، اور خواجہ سرا افراد کے لیے تو یہ تقریباً ناپید ہیں۔ نہ تو سرکاری ایچ آئی وی پروگرامز میں باقاعدہ سائیکو سوشل سپورٹ شامل ہے اور نہ ہی صحت کے عملے کو اس حوالے سے تربیت دی جاتی ہے کہ وہ صنفی حساسیت کے ساتھ ذہنی دباؤ کو پہچان سکیں۔ نتیجتاً، ذہنی صحت کے مسائل نظرانداز ہوتے رہتے ہیں اور بعض اوقات خود کو نقصان پہنچانے کے رجحانات تک بات پہنچ جاتی ہے۔

اس بحران کا حل محض ادویات کی فراہمی میں اضافہ نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایچ آئی وی کے علاج کو ایک جامع عمل کے طور پر دیکھا جائے، جس میں ذہنی صحت کو مرکزی حیثیت حاصل ہو۔ صحت کے مراکز میں تربیت یافتہ کونسلرز کی موجودگی، رازداری کے مضبوط اصول، اور خواجہ سرا افراد کے لیے محفوظ اور باعزت ماحول ناگزیر ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، کمیونٹی کی سطح پر سپورٹ گروپس اور پیر کونسلنگ جیسے اقدامات ذہنی دباؤ کم کرنے میں مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔

ریاستی سطح پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ذہنی صحت اور صنفی تنوع کو صحتِ عامہ کی پالیسیوں کا حصہ بنائے۔ خواجہ سرا افراد کی قانونی شناخت اور حقوق کو تسلیم کرنا کافی نہیں، جب تک یہ شناخت عملی طور پر صحت کے نظام میں احترام کے ساتھ نافذ نہ ہو۔ ذہنی صحت کی خدمات کو ایچ آئی وی پروگرامز میں شامل کیے بغیر بدنامی کا دائرہ نہیں ٹوٹ سکتا۔

ایچ آئی وی کے ساتھ جینے والے خواجہ سرا افراد کی خاموش اذیت ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ علاج صرف جسم کا نہیں، ذہن کا بھی ہونا چاہیے۔ جب تک ذہنی صحت کو نظرانداز کیا جاتا رہے گا، بدنامی ختم نہیں ہو گی اور صحت کا نظام ان لوگوں کو ناکام کرتا رہے گا جنہیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم خاموشی توڑیں اور انسان کو مکمل طور پر دیکھیں—جسم، ذہن اور وقار کے ساتھ

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے