یورپ کا سفر: علم کے بہانے

تو ہوا یوں کہ اللہ کے فضل سے یورپ آنا محفوظ رہا اور یہاں ریگا میں قیام کے دوران، جہاں اللہ نے ایک تحقیقی مقالہ لکھوانے کا بہانہ بنایا، پورا یورپ دیکھنے کا موقع بھی عطا فرمایا۔

یورپ صرف شینگن کے پچیس سے زائد ممالک کا مجموعہ ہی نہیں، بلکہ جغرافیائی لحاظ سے وہ ممالک بھی یورپ میں شمار ہوتے ہیں جو شینگن کا حصہ نہیں، جن میں بالخصوص پرانے بلقان کی ریاستیں شامل ہیں۔ انہی ریاستوں کے ساتھ مجھے رومانیہ اور سربیا جانے کا موقع بھی ملا۔

یوں ہوا کہ 2021ء میں ایک اور اسکالرشپ کے تحت مصر جانا ہوا، اور واپسی ترکی کے راستے اسلام آباد تھی۔ سستا اور موزوں روٹ یہ بنا کہ مصر سے پہلے رومانیہ جاؤں، وہاں سے بذریعہ سڑک سربیا، اور پھر سربیا سے ترک ایئرلائن کے ذریعے اسلام آباد۔

ہم رومانیہ کے دارالحکومت بخارسٹ میں اترے۔ سنا تھا کہ وہاں کے لوگ بے حد خوبصورت ہیں، اور ملک بھی اسی طرح حسین ہے۔ یہ بھی سننے میں آیا کہ وہاں کے لوگ انگریزی اس لیے کم بولتے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں انگریزی دراصل ان کی میراث تھی جو ان سے چھین لی گئی۔ اللہ بہتر جانتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ رومانیہ میں لوگ شاذ ہی انگریزی بولتے نظر آتے ہیں۔

رومانیہ میں پاکستانی سفارت خانے کے عملے نے بے حد مہمان نوازی کی۔ سفیر صاحب کے ڈرائیور، جو ہمارے مری کے علاقے سے تھے، اور اسلام آباد کے مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے ایک دوست ہمیں لینے آئے۔ دونوں سے کرکٹ کے حوالے سے اچھی خاصی رفاقت رہی۔

وقت ہمیشہ کی طرح کم تھا اور دیکھنے کو بہت کچھ۔ سب سے پہلے رومانیہ کی پارلیمنٹ کی عمارت دیکھی، جو دنیا کی سب سے بڑی پارلیمانی عمارت مانی جاتی ہے۔ اگرچہ ہماری پارلیمنٹ بھی کسی سے کم نہیں، دنیا کی پہلی پارلیمنٹ کی عمارت جو سو فیصد شمسی توانائی پر چلتی ہے اور اضافی بجلی قومی گرڈ کو فراہم کرتی ہے۔ رومانیہ کی پارلیمنٹ کی عمارت بھی شاندار ہے، اس کے گرد گاڑی میں گزرتے ہوئے بھی پانچ منٹ لگ جاتے ہیں۔

رومانیہ میں ترک دور کے باقیات و اثرات، خصوصاً مساجد میں، نمایاں نظر آتے ہیں۔ ملک کو بے حد خوبصورتی اور صفائی سے سنبھال کر رکھا گیا ہے۔ کسی بھی زاویے سے یورپ کے کسی ملک سے کم نہیں لگتا۔

وہاں چند پاکستانی اچھے درجے کی کرکٹ کھیلتے ہوئے بھی نظر آئے، بلکہ معلوم ہوا کہ رومانیہ کی قومی ٹیم میں بھی ہمارے چند پاکستانی کھلاڑی شامل ہیں۔ یہ سن کر خوشی ہوئی اور آگے بڑھنے کی تیاری کی۔ رومانیہ کارپیتھین پہاڑوں اور ڈینیوب کے ڈیلٹا پر مشتمل ایک قدیم تاریخی خطہ ہے جہاں اب پاکستانی کمیونٹی محنت اور کھیل کے ذریعے اپنی پہچان بنا رہی ہے۔

بخارسٹ میں گزری ایک رات اور ایک دن نہایت خوشگوار اور آنکھوں کو خیرہ کرنے والے تھے۔ پھر معلوم ہوا کہ بخارسٹ سے رات کو ایک ٹرین نکلتی ہے جو آٹھ سے نو گھنٹے کے سفر کے بعد رومانیہ کے ایک اور شہر تیمیشوارا پہنچتی ہے، جہاں سے دو گھنٹے میں سربیا کے دارالحکومت بلغراد پہنچا جا سکتا ہے۔

ہم نے بھی یہی کیا۔ بیگ اٹھایا، ٹکٹ لیا اور ٹرین پکڑ لی۔ ٹرین کے کنڈکٹر کی بہن کی شادی ایک پاکستانی سے ہوئی تھی۔ مجھے یہ بات اس وقت معلوم ہوئی جب میں نے دیکھا کہ کنڈکٹر پشاوری چپل پہنے ہوئے ہیں۔ پوچھنے پر بتایا کہ ان کے بہنوئی پاکستانی ہیں اور یہ چپل تحفے میں دی گئی تھی۔ جب انہیں میرے پاکستانی ہونے کا علم ہوا تو بے حد خوش ہوئے، دو بار چائے پلائی۔ چائے کا ذائقہ کچھ خاص سمجھ نہ آیا، مگر پی لی۔

حرام کھانے کے خدشے کے باعث میں بخارسٹ سے ہی ازبکستانی تندور کی روٹی اور ترکی کا حلوہ اپنے بیگ میں رکھ کر آیا تھا۔ روٹی اور حلوے کے ساتھ رومانیہ کی چائے پی اور کنڈکٹر صاحب کا شکریہ ادا کیا۔

رات تین بجے چائے پینے کا فائدہ یہ ہوا کہ نیند اڑ گئی، اور بخارسٹ سے تیمیشوارا کے درمیان کے سرسبز اور دلکش مناظر دیکھنے کا بھرپور موقع ملا۔ بچوں کی طرح ٹرین کی کھڑکی سے سر نکال کر صبح پانچ سے آٹھ بجے تک باہر کے مناظر دیکھتا رہا۔

راستے میں ریل گاڑی خراب بھی ہوئی اور تقریباً دوپہر کو ہم تیمیشوارا پہنچے۔ بس اسٹیشن پر معلوم ہوا کہ یہاں سے سربیا کے لیے کوئی براہِ راست بس نہیں جاتی، ٹیکسی کرانی پڑے گی، جو شام سات بجے روانہ ہونی تھی۔ سوچا، کیوں نہ ان پانچ گھنٹوں میں شہر گھوم لیا جائے۔

کچھ سیب اور کیلے خریدے، ایک پارک میں بیٹھ کر کھائے، اور پھر پیدل ہی تیمیشوارا کے پرانے چرچ، نیا شہر، اور جو سامنے آیا دیکھتے چلے گئے۔ سچ پوچھیں تو یہ ایک بے حد خوبصورت شہر ہے، دل خوش ہو جاتا ہے۔

شام کو واپس اسٹیشن آئے، ٹیکسی آئی اور دو گھنٹے میں بلغراد پہنچا دیا۔ بلغراد تک کا سفر نہایت خوشگوار اور بارڈر کراسنگ بے حد سادہ تھی۔ ٹرین میں بیٹھے بیٹھے ہی امیگریشن ہو گئی اور پلک جھپکتے ہی ہم رومانیہ سے سربیا میں داخل ہو گئے۔

بلغراد پہنچ کر چھ یورو میں ایک بستر لیا، جس کمرے میں پہلے ہی نو بستر تھے۔ پھر سیدھا بس پکڑی اور ڈاؤن ٹاؤن کی سیر کو نکل گیا۔ رات ایک بجے واپس آیا، چار بجے کا الارم لگایا، فجر پڑھی اور پھر دریا کے ساتھ ساتھ شہر کے مزارات اور مناظر سے لطف اندوز ہوتا رہا۔

دوپہر ایک بجے فلائٹ تھی، یعنی ہمارے پاس تقریباً چھ گھنٹے تھے۔ وقت ضائع نہیں کیا، اور جب صبح آٹھ بجے احساس ہوا کہ ہم بلغراد کو کبھی پیدل اور کبھی بس میں چاروں شانوں سے دیکھ چکے ہیں، تو واپس ہاسٹل آ گئے۔

وہاں سے بیگ اٹھایا، ایک ترک مسافر جو ٹیکسی میں ہی ایئرپورٹ جا رہا تھا، اس کے ساتھ ہو لیے، اور سربیا سے بذریعہ استنبول واپس اسلام آباد پہنچے۔ وسطی بلقان میں واقع سربیا اپنی یوگوسلاو تاریخ اور دریاؤں کے سنگم جیسے جغرافیے کے ساتھ اب پاکستانی ہنرمندوں اور مسافروں کے لیے ایک نیا مرکز بن رہا ہے۔

سربیا پھر ایک آدھ مرتبہ جانا ہوا۔ کبھی موقع ملا تو اس پر قلم اٹھائیں گے، ان شاء اللہ۔

ان قسطوں میں بار بار اس مقالے کا ذکر کرتا رہا ہوں، اسے مختصر انداز میں اگلے کالم میں پیش کروں گا، ان شاء اللہ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے