بونیر بیشونئی: سیلاب، Pima کا فری میڈیکل کیمپ اور سردیوں میں بجھتی امید

بونیر بیشونئی: سیلاب، پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن (PIMA) کا فری میڈیکل کیمپ اور سردیوں میں بجھتی امید

خیبر پختونخوا کے ضلع بونیر کے پیر بابا کا بیشونئی گاؤں اگست میں سیلاب کے باعث شدید متاثر ہوا، جہاں قدرتی آفت نے درجنوں گھروں کو تباہ کیا اور سینکڑوں خاندانوں کو بے گھر کر دیا۔ سیلاب کے دنوں میں جب پہاڑوں سے اچانک چشمے ابل پڑے، آسمانی بجلیوں کی شدت غیر معمولی حد تک بڑھ گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے آدھی سے زیادہ بستی ملبے میں تبدیل ہو گئی، تو میں خود اس وقت بونیر گیا تھا۔ یہ محض ایک رپورٹنگ کا سفر نہیں تھا بلکہ ایک صحافی اور انسان کی حیثیت سے حالات کو قریب سے دیکھنے اور حقیقت کو سمجھنے کی کوشش تھی۔

بیشونئی گاؤں میں میں نے سیلاب متاثرین سے ملاقات کی، تباہ شدہ گھروں کو دیکھا اور ان خاندانوں کی آنکھوں میں بسی بے بسی کو محسوس کیا جو ایک ہی لمحے میں سب کچھ اور اپنے خاندان کے افراد کھو بیٹھے تھے۔ اسی دوران میں نے پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کی جانب سے قائم کیے گئے فری میڈیکل کیمپ کا دورہ کیا جو پندرہ اگست 2025 سے مسلسل کام کر رہا ہے۔ اس میڈیکل کیمپ میں اب تک ہزاروں سیلاب متاثرین کا مفت علاج کیا جا چکا ہے اور مریضوں کو بلا معاوضہ ادویات فراہم کی گئی ہیں، جو اس کٹھن وقت میں متاثرہ آبادی کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔

اس فری میڈیکل کیمپ کے سربراہ ڈاکٹر قادر خان سے میری خود ملاقات ہوئی اور میں نے ان کا باقاعدہ انٹرویو بھی کیا۔ جب میں کیمپ پہنچا تو وہ اس وقت بھی مریضوں کا چیک اپ کر رہے تھے۔ انہوں نے نہ صرف مجھے پورا میڈیکل کیمپ دکھایا بلکہ میرے ساتھ خود بیشونئی گاؤں تک گئے اور وہ گھر دکھائے جو سیلاب میں مکمل طور پر تباہ ہو چکے تھے۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ یہ ٹیم صرف کیمپ تک محدود نہیں رہی بلکہ سیلاب سے متاثرہ گھروں تک جا کر بھی مریضوں کا علاج کرتی رہی، جو خالص انسانی خدمت کی ایک روشن مثال ہے۔

سیلاب کے بعد علاقے میں وبائی امراض، آنکھوں اور جلدی بیماریاں، بخار، معدے کے مسائل اور خواتین و بچوں کی صحت سے متعلق پیچیدگیاں تیزی سے بڑھیں، مگر پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کے اس کیمپ نے بروقت طبی سہولیات فراہم کر کے ایک بڑے انسانی المیے کو مزید پھیلنے سے روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ڈاکٹر قادر خان کی سربراہی میں ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل اسٹاف اور رضاکار دن رات خدمات انجام دیتے رہے۔ وسائل کی کمی کے باوجود انسانیت کا پرچم بلند رکھا گیا۔

اس تباہ کن سیلاب میں پشتو کے معروف شاعر اور دانشور پروفیسر نواز یوسفزئی کے گھرانے پر قیامت ٹوٹ پڑی، جب ان کے خاندان کے گیارہ افراد لقمۂ اجل بن گئے۔ گاؤں کا دورہ کرنے اور نقصانات کی رپورٹ مرتب کرنے کے بعد جب میں ان کے گھر فاتحہ خوانی کے لیے روانہ ہوا تو قدم بوجھل تھے اور دل شدید رنج و الم سے بوجھل۔ مگر کیا کرتا؛ ایک دوست کے غم میں شریک ہونا، اس کے دکھ کو بانٹنا اور اسلامی احکامات کے ساتھ ساتھ پختونولی کی روایات کو نبھانا بھی ہم پر لازم تھا۔

اسی دوران بونیر میں میری ملاقات بیرسٹر گوہر (چیئرمین پی ٹی آئی) اور عوامی نیشنل پارٹی کے علاقائی رہنما میاں سید لائق باچا سے بھی ہوئی۔ میں نے بیرسٹر گوہر سے واضح سوال کیا کہ کیا بونیر میں آنے والا یہ تباہ کن سیلاب آسمانی بجلیوں کی غیر معمولی تعداد اور پہاڑوں سے چشموں کے اچانک پھوٹ پڑنے کا نتیجہ ہے، جو کلائمیٹ چینج سے جڑا ہوا ہو؟ تو انہوں نے اس وقت اسے محض ایک آفت قرار دیا اور کلائمیٹ چینج کی بات سے اتفاق نہیں کیا۔

میں نے ان کے سامنے یہ مؤقف رکھا کہ جنگلات کی بے دریغ کٹائی، درختوں کا غیر قانونی اخراج اور فارسٹ مافیا کی سرگرمیاں ایسی آفات کو جنم دیتی ہیں، اور یہی کلائمیٹ چینج کی ایک بڑی وجہ ہے۔ اس پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اگر کسی مستند ذریعے سے یہ ثابت ہو جائے کہ کوئی فارسٹر یا متعلقہ اہلکار اس میں ملوث ہے تو اسے سزا دی جائے گی۔ اسی موقع پر انہوں نے یہ بھی کہا کہ بونیر میں سیلاب سے متاثرہ گھروں کی تعمیر کی جائے گی، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج تک وہ وعدے عملی شکل اختیار نہ کر سکے۔

آج جبکہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت موجود ہے، عوام کی یہ جائز توقع ہے کہ سیلاب متاثرین کے گھروں کی تعمیر جلد از جلد مکمل کی جائے اور ساتھ ہی فری میڈیکل کیمپ جیسے فلاحی اقدامات کو سرکاری سطح پر ادویات اور تعاون فراہم کیا جائے۔ اگر حکومتی مدد شامل ہوتی تو شاید پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کا یہ فری میڈیکل کیمپ آج بند ہونے کے مرحلے میں داخل نہ ہوتا۔

میں اس وقت سے اب تک ڈاکٹر قادر خان کے ساتھ رابطے میں ہوں اور حال ہی میں انہوں نے مجھے بتایا کہ فنڈز کی شدید کمی کے باعث یہ میڈیکل کیمپ اب تقریباً اختتام کے مرحلے میں ہے، حالانکہ سردیوں کا موسم شروع ہو چکا ہے اور اس وقت متاثرہ آبادی کو پہلے سے کہیں زیادہ طبی سہولیات کی ضرورت ہے۔ اگر یہ کیمپ بند ہو گیا تو اس کا سب سے بڑا نقصان بونیر کے غریب عوام کو ہوگا، جن کے پاس نجی علاج کا کوئی متبادل موجود نہیں۔

اسی لیے میں مخیر حضرات، صاحبِ حیثیت افراد، سماجی تنظیموں اور اداروں سے دل کی گہرائیوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ مالی مدد، ادویات کی فراہمی یا کسی بھی ممکنہ تعاون کے ذریعے پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کا ساتھ دیں، تاکہ یہ کیمپ سردیوں میں بھی چلتا رہے اور بونیر کے عوام بیماریوں، محرومی اور خاموش اموات سے بچ سکیں۔

آخر میں بس یہی کہنا ہے کہ میں نے خود دیکھا ہے، میں نے خود سنا ہے اور میں گواہی دے رہا ہوں کہ اگر یہ کیمپ بند ہوا تو یہ صرف ایک فلاحی مرکز کا خاتمہ نہیں ہوگا بلکہ امید کے ایک چراغ کا بجھ جانا ہوگا۔

انسانیت اسی کا نام ہے کہ مشکل وقت میں ایک دوسرے کا سہارا بنا جائے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے