پاکستان کی عسکری برتری اور مسلم دنیا میں بدلتا طاقت کا توازن

دفاعی و سفارتی حلقوں میں 2025 کو پاکستان کی عسکری تاریخ کا ایک غیر معمولی سال قرار دیا گیا۔ مئی 2025 کے دوران پاک بھارت کشیدگی میں جس شدت کا مظاہرہ دیکھنے میں آیا، اس کے بعد خطے کی اسٹریٹجک صورتِ حال یکسر تبدیل ہوتی دکھائی دی۔ اس جھڑپ میں پاکستان نے نہ صرف اپنی فضائی برتری منوائی بلکہ جدید جنگی حکمتِ عملی، مربوط کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم اور مقامی سطح پر تیار کردہ دفاعی سازوسامان کے مؤثر استعمال سے بھارت کو شدید دباؤ میں رکھا۔ اس دوران بھارتی فضائیہ کے جدید طیاروں کو شدید نقصان پہنچا، جس کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں پر سنجیدہ توجہ مرکوز ہوئی۔ یہی وہ پس منظر تھا جس کے نتیجے میں اسلام آباد میں مختلف ممالک کے سفارتی اور دفاعی وفود کی آمد دیکھی گئی، جبکہ پاکستان کے اعلیٰ سطحی عسکری اور حکومتی نمائندوں نے بھی کئی ممالک کی دعوت پر خصوصی دورے کیے۔

اسی تناظر میں پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں غیر معمولی گرمجوشی دیکھنے میں آئی۔ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعاون پہلے ہی مضبوط بنیادوں پر استوار تھا، تاہم ستمبر 2025 میں اسے ایک نئے دفاعی فریم ورک میں ڈھال دیا گیا۔ پاکستان اور سعودی عرب ایک ایسے دفاعی معاہدے پر متفق ہو گئے جس میں مشترکہ سلامتی، عسکری تعاون اور دفاعی پیداوار شامل تھی۔ معاہدے کے مطابق کسی بھی ایک ملک کے خلاف کسی بھی جارحیت کو دونوں ملکوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔

پاکستان کی دفاعی صنعت، بالخصوص جے ایف۔17 تھنڈر، اس پورے منظرنامے میں مرکزی حیثیت اختیار کرتی دکھائی دی۔ عالمی دفاعی جرائد اور تھنک ٹینکس کے مطابق جے ایف۔17 تھنڈر کم لاگت، جدید ایویانکس، بی وی آر میزائل صلاحیت، بہتر رینج اور ملٹی رول کمبیٹ فیچرز کے باعث ایک ابھرتا ہوا عالمی برانڈ بن چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ کئی ممالک یورپ، امریکہ اور روس کے مہنگے جنگی طیاروں کے بجائے پاکستانی پلیٹ فارم میں دلچسپی کیوں لے رہے ہیں۔ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کے حالیہ دورہِ سعودی عرب و عراق میں ہونے والی ملاقاتوں کو بھی اسی دفاعی سفارت کاری کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں مشترکہ پیداوار اور ممکنہ خریداری جیسے امکانات زیرِ بحث آئے۔

سعودی عرب روانہ ہونے سے پہلے بنگلہ دیشی ائیر چیف سے ملاقات اور اس ملاقات میں بنگلہ دیش کی بھی ان طیاروں میں خصوصی دلچسپی قابل ذکر ہے، یہ تمام عوامل خطے میں ایک نئے دفاعی اتحاد کے خدوخال واضح کرتے ہیں، جن کی جھلک آئندہ عالمی سیاست میں مزید نمایاں ہو سکتی ہے۔

اسی ابھرتے ہوئے دفاعی منظرنامے کے تسلسل میں 2025 کے دوران یہ بحث بھی زور پکڑتی دکھائی دی کہ آیا یہ ممکنہ اسٹریٹجک تعاون کسی وسیع تر علاقائی اتحاد کی شکل اختیار کر سکتا ہے یا نہیں۔ ایران نے بھی بعض سفارتی سطحوں پر ایسے کسی فریم ورک میں دلچسپی کا اظہار کیا، تاہم عالمی پابندیوں اور بدلتی ہوئی علاقائی سیاست کے باعث فی الحال اس کی عملی شمولیت ممکن نہ ہو سکی۔ اس کے برعکس ترکیہ کے حوالے سے اب یہ مستند اطلاعات آ رہی ہیں کہ وہ پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے، جس سے مسلم دنیا میں ایک نئے دفاعی توازن کی بنیاد پڑ سکتی ہے۔

پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب پر مشتمل ممکنہ دفاعی اتحاد کو عالمی اور علاقائی سطح پر غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے، کیونکہ دفاعی ماہرین کے مطابق اس سے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ اس سے آگے تک طاقت کے توازن میں نمایاں تبدیلی آ سکتی ہے۔ اس معاہدے کے تحت کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو تینوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا، جو نیٹو کے آرٹیکل فائیو سے مماثلت رکھتا ہے، جبکہ ترکیہ پہلے ہی نیٹو کا رکن ہے۔ اس وقت جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور یہاں تک کہ افریقہ میں بھی پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے مفادات ہم آہنگ ہو چکے ہیں۔ ترکی و سعودی عرب اس معاہدے کو سکیورٹی اور دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے طور پر بھی دیکھتا ہے، خاص طور پر جب امریکہ کے قابل اعتماد ہونے پر دنیا بھر میں سوالات اٹھ رہے ہیں۔ علاوہ ازیں، مسلم ممالک کا ایسا اتحاد ایک خوش آئند عمل ہے، جس سے مسلم دنیا میں ایک مضبوط اور منظم دفاعی بلاک کے قیام کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

لیکن اس کے ساتھ ساتھ جارحیت کے مقابلے کے لیے ضروری ہے کہ تمام ہی ممالک نہ صرف دفاعی طور پر مضبوط ہو جائیں بلکہ تمام ہی ممالک بالخصوص پاکستان اپنی معیشت کو بھی اتنا ہی طاقتور بنانے پر توجہ دیں جتنا مضبوط نظام مغربی ممالک میں ہے۔

قارئین! دوسری جانب ایران اس وقت شدید مہنگائی اور معاشی دباؤ کے باعث ایک نازک مرحلے سے گزر رہا ہے، جہاں احتجاجی مظاہرے کئی شہروں میں پُرتشدد شکل اختیار کر چکے ہیں۔ بین الاقوامی ذرائع کے مطابق جھڑپوں میں ہلاکتوں اور گرفتاریوں کی تعداد تشویشناک حد تک بڑھ چکی ہے، جبکہ ایرانی حکام اموات کے اعداد و شمار کی باضابطہ تصدیق سے گریزاں ہیں۔ یہ احتجاج ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران کا موجودہ سیاسی و حکومتی نظام، جو 1979 کے انقلاب کے بعد بادشاہت کے خاتمے کے نتیجے میں قائم ہوا تھا، شدید اندرونی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ شاہِ ایران محمد رضا پہلوی کے بعد اب ان کے صاحبزادے رضا پہلوی جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں اور وقتاً فوقتاً ایران میں بادشاہت کی بحالی کے حق میں بیانات دیتے رہے ہیں، تاہم ایرانی ریاست اس بیانیے کو بیرونی مداخلت سے جوڑتی ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے حالیہ صورتحال پر ردِعمل دیتے ہوئے مظاہروں کو غیر ملکی ایجنڈے کا شاخسانہ قرار دیا اور واضح کیا کہ عوامی املاک کو نقصان پہنچانے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔ اسی تناظر میں ایران نے اقوامِ متحدہ سے مداخلت روکنے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ پاکستان سمیت خطے کے ذمہ دار ممالک نے ایرانی حکومت کے استحکام، ریاستی خودمختاری اور پرامن حل پر زور دیا ہے۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ ایران کی عوام اس بحران میں کس سمت کا انتخاب کرتی ہے اور آیا موجودہ نظام اصلاحات کے ذریعے دباؤ کم کرنے میں کامیاب ہو پاتا ہے یا حالات کسی نئی کروٹ بیٹھتے ہیں۔ ایران میں فوری اور انقلابی تبدیلی کا امکان کم ہی ہے، مگر یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اندرونی دباؤ، معاشی مشکلات اور عوامی بے چینی بتدریج نظام کو تبدیلی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔طاقت کا ڈھانچہ مضبوط ہے، اس لیے اچانک تو تبدیلی ممکن نہیں بلکہ سست، کنٹرولڈ اور مرحلہ وار تبدیلی ممکن دکھائی دیتی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے