ہمیں ڈیجیٹل اسکل نہیں آتی” یہ بہانہ کب تک؟

بات کچھ یوں ہے کہ میرا ایک دوست ہے تعلق فیصل آباد سے ہے اور نام ہے عمران ہماری دوستی کا قصہ بھی کچھ کم دلچسپ نہیں دراصل میں ایک بار فیصل آباد گیا ہوا تھا، جہاں میرا قیام اپنے دوست جبران کے ہاں تھا۔ عصر کی نماز ہم نے اکٹھے پڑھی اور نماز کے بعد حسبِ روایت ہلکی سی چہل قدمی کو نکل کھڑے ہوئےکیونکہ فیصل آباد میں بھی شام کی ہوا کبھی کبھی فلسفی بنا دیتی ہے۔

اسی دوران جبران نے اپنے ایک اور دوست سے ملوایا۔ یہ تھے عمران بھائی جبران نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے عمران سے میرا تعارف کروایا یہ حسین احمد ہیں، اسلام آباد سے آئے ہیں، آئی ٹی کے طالب علم ہیں، اور فری لانسنگ میں ویب ڈیولپمنٹ کی سروسز دیتے ہیں۔

عمران بھائی نے مسکرا کر پوچھا ماشاءاللہ! عمر کتنی ہے؟ اور کمائی بھی ہو رہی ہے؟

میں نے ہنس کر جواب دیا: “بس دعا کریں، سیکھ رہے ہیں۔ ویسے آپ کیوں کچھ نہیں کر رہے؟”

یہ سوال شاید ان کے دل میں کہیں اٹکا ہوا تھا بولے “یار، میں ایم فل کر رہا ہوں، بی ایس انگلش کی ہے پرائیویٹ جاب بھی ملی، مگر سرکاری نوکری نہیں۔ گھر والے بھی اب سوال کرنے لگے ہیں کہ اتنی پڑھائی کا فائدہ کیا؟ کمائی نہیں آگے بڑھاؤ نہیں یہاں تک کہ شادی بھی رکی ہوئی ہے۔ سچ پوچھو تو تنگ آ گیا ہوں۔

یہاں مجھے لگا کہ شاید مسئلہ صلاحیت کا نہیں، راستے کا ہے۔ میں نے کہا: “اگر آپ انگلش میں ماہر ہیں تو کنٹینٹ رائٹنگ کیوں نہیں کرتے؟ فری لانسنگ کے ذریعے بہت اچھا کما سکتے ہیں۔

وہ چونک کر بولے: یہ فری لانسنگ آخر ہے کیا بلا؟

میں نے سادہ لفظوں میں سمجھایا: “یہ ایک مارکیٹ ہے، جہاں لوگ اپنی سکلز بیچتے ہیں۔ آپ کنٹینٹ رائٹنگ کی سروس دیں، ریموٹ جاب بھی مل سکتی ہے، فری لانس کام بھی۔”

انہوں نے مزید پوچھا: “کنٹینٹ رائٹنگ میں کرنا کیا ہوتا ہے؟”
میں نے بتایا: “ویب سائٹس کا مواد، ای میلز، بروشرز، سوشل میڈیا کنٹینٹ یعنی لفظوں سے روزی کمانا۔”

وہ ذرا حیران ہو کر بولے: “یہ سب سن کر لگتا ہے میں خواب دیکھ رہا ہوں!”

میں نے مسکرا کر کہا: “نہ خواب ہے، نہ نیند۔ سی وی لے کر دفاتر کے چکر بھی نہیں لگانے پڑتے۔ لنکڈ اِن پر جاب بھی مل جاتی ہے فری لانسنگ پلیٹ فارمز پر کام بھی۔

پھر میں نے انہیں ڈیجی اسکلز پروگرام کے بارے میں بتایا جو حکومتِ پاکستان، ورچوئل یونیورسٹی اور اگنائٹ کی شراکت سے فری کورسز فراہم کرتا ہے۔ بتایا کہ دو کورسز ایک بیچ میں کر لوایک فری لانسنگ، دوسرا کنٹینٹ یا کری ایٹو رائٹنگ۔ تین مہینے کا فری کورس سرٹیفکیٹ بھی، اور سیکھنے کا ٹھوس راستہ بھی۔

عمران بھائی نے میرا نمبر لیا اور کہا: بس گائیڈ کرتے رہنا۔

کورس کے دوران حالات آسان نہیں تھے۔ بے روزگاری، لوگوں کے طعنے، گھر کی فکریں سب چل رہا تھا، مگر دل میں امید کی ایک ننھی سی شمع جل چکی تھی۔ انہوں نے صرف لیکچر دیکھنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ عملی کام بھی کیا۔ میں یہاں خاص طور پر یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ

کورس دیکھنا کافی نہیں، کورس پر کام کرنا ضروری ہے۔
دس لیکچر دیکھنے سے بہتر ہے ایک لیکچر دیکھ کر اس پر عمل کرنا۔

کورس کے دوران ہی عمران نے اپ ورک اور فائیور پر اکاؤنٹس بنائے، پورٹ فولیو تیار کیا، اور لنکڈ اِن پروفائل کو خود اپنے ہاتھ سے آپٹمائز کیا کیونکہ کنٹینٹ رائٹر تھا، لفظوں کا ہنر جانتا تھا۔

نتیجہ یہ نکلا کہ صرف ایک مہینے میں قطر کی ایک کمپنی سے ریموٹ جاب مل گئی ای میلز، بروشرز اور دیگر کنٹینٹ لکھنے لگے ابتدائی تنخواہ 35 سے 40 ہزار کے درمیان تھی۔ گھر کا دباؤ کچھ کم ہوا، اگرچہ شروع میں گھر والوں کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ لیپ ٹاپ پر بیٹھ کر بھی کام ہوتا ہے!

چھ مہینے بعد فائیور سے پہلا آرڈر آیا،پھر فری لانسر ڈاٹ کام سے بھی کام ملنے لگا ساتویں مہینے انہوں نے فیصلہ کیا کہ اب فری لانسنگ کو مکمل وقت دیں گے۔ ریموٹ جاب چھوڑ دی، مگر اس سے ایک قیمتی چیز ملی ایکسپیرینس سرٹیفکیٹ۔

کام بڑھا تو مسئلہ بھی نیا آیا: کام اتنا ہو گیا ہے کہ سنبھال نہیں پا رہا!

میں نے مشورہ دیا کہ بہنوں یا قریبی لوگوں کو سکھا دیں۔ ان کی بہنیں، جو بی ایس انگلش کر رہی تھیں، اس کام میں شامل ہو گئیں۔

ایک دن ان کی بہن نے سوال اٹھایا: “کیا اے آئی کنٹینٹ رائٹنگ کو ختم نہیں کر دے گا؟”

یہ سوال واقعی اہم تھا۔ ہم نے گوگل میٹ پر میٹنگ کی، اور نتیجہ یہ نکلا کہ
اے آئی خطرہ نہیں، مددگار ہے۔
یہ سکلز چھیننے نہیں، سکلز کو بہتر بنانے آیا ہے۔

ان شاء اللہ اس موضوع پر الگ تفصیل سے لکھوں گا۔
آخر میں، میری اپنی بات یہ ہے کہ میں ایک طالب علم ہوں، یونیورسٹی، ذاتی مصروفیات، میٹنگز سب ساتھ چلتا ہے لکھنا آسان نہیں خاص طور پر جب گرامر الفاظ کا انتخاب، اور جملوں کی ساخت خود سے لڑتی ہو۔ مگر اساتذہ کی ایک نصیحت ہمیشہ یاد رہتی ہے:

پڑھو بھی، اور لکھو بھی ادب سے جڑے رہنا۔
اسی لیے میں کوشش کرتا ہوں کہ ایسے تجربات قلم بند کروں، تاکہ آج کا نوجوان راستہ دیکھ سکے، اور بے روزگاری کو شکست دے سکے

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے