ہم گناہگار ہیں مگر باغی نہیں ہیں

بعض اوقات کوئی لفظ کسی کے منہ سے نکلتا ہی دوسرے کو لرزا دینے کے لیے ہوتا ہے۔ شایدیہ اُس کے اخلاص کی وجہ سے اثرانداز ہونے کی طاقت رکھتا ہے۔ انسان تو کمزور پیدا ہوا ہے۔ اُس کا خالق خود اُس کی کمزوری بیان کرتا ہے۔ مگر اُس کا خالق اتنا مہربان اور قدردان بھی ہے کہ اپنے نیک بندوں کو بھی گناہگار بندوں کے بارے میں حسنِ ظن رکھنے کا حکم دیتا ہے اور بار بار اعلان کرتا ہے کہ مجھ سے معافی مانگ لو، میں سب سے بہترین معاف کرنے والا ہوں۔ ہم گناہگار ہیں مگر باغی نہیں۔ یہ کسی عالمِ دین کے الفاظ نہیں، نہ ہی کسی یونیورسٹی کے پی ایچ ڈی ہولڈر کے لبوں سے نکل کر دل کو چیر دینے والی آہ تھی بلکہ ایک ایسے وجود کی آواز تھی جس کو اس قوم نے پارٹیز اور شادیوں میں صرف ناچنے کے لیے اہمیت دینی ہے یا چوراہوں پر بھیک مانگنے کے لائق سمجھ رکھا ہے۔ یہ صاحبہ ایک ٹرانسجینڈر تھیں جن سے پوچھا گیا کہ آپ ایل جی بی ٹی کے خلاف ہیں یا نہیں۔ تو جواب ملا کہ میں ایل جی بی ٹی کے خلاف ہوں۔

ہم گناہگار ضرور ہیں مگر باغی نہیں۔ ہم اللہ پاک پر ایمان رکھتے ہیں۔ رسول اللہ کو مانتے ہیں، اُن کے بتائے ہوئے طریقے کو صحیح سمجھتے ہیں۔ اللہ پاک کے تمام احکامات پر یقین رکھتے ہیں۔ یہاں بات میں ایک تضاد پایا جاتا ہے جو ضمیر کو سوال کر کے حیرت میں بھی ڈالتا ہے کہ جب پتہ بھی ہے کہ اللہ کون ہے، اُس کے احکامات کیا ہیں لیکن پھر بھی عمل میں اُس کی نافرمانی والے اعمال سرزد کیے جا رہے ہیں۔ یہ ایک طرف ہزاروں وہ طلبہ جو جدید تعلیم حاصل کر کے مغربی نظریات کے اثر میں آ کر کبھی لبرل ازم، کبھی سیکولر ازم اور کبھی نیشنل ازم کی وکالت کرتے نظر آتے ہیں، کہ منہ پر طمانچہ ہے کہ ایک ان پڑھ اور جدوجہد کرنے والا وجود جتنا فہم بھی نہیں آپ میں اور مغربی نظریات کے خلاف کھڑے ہونے کے بجائے اُس کے حمایتی بن گئے۔

دوسری طرف یہ سوالیہ نشان ہے مسلم اُمہ پر کہ کیوں ایسا نظام نہیں متعارف کروایا گیا کہ جہاں مسلمان کو قرآن اور سنت کے مطابق زندگی گزارنے کا پابند بنایا گیا۔

برائی کو روکنے کے دو ہی طریقے ہیں:

ایک اخلاقی تعلیم دے کر احساس پیدا کرنا اور صحیح و غلط کا فرق واضح کرنا اور دوسرا قوانین و ضوابط تاکہ برائی پر سزا دے کر برائی کو کم کیا جا سکے۔ لیکن ہر طبقہ سےسوال ہے کہ ایسا کیوں نہیں ہو سکا؟ کون ذمہ دار ہے اس کا؟ یہ سوال ہر دور میں اٹھتا رہا ہے اور آج بھی ہمارے سامنے کھڑا ہے کہ نظام کیوں قرآن و سنت کے مطابق نہیں بنایا جا سکا اور کیوں مغربی نظریات کو اپنانے میں آسانی محسوس کی گئی۔

اور دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا گناہگار ہونا عملی طور پر اللہ پاک کی بغاوت نہیں ہے؟ جب مجھ میں گناہگار ہونے کا احساس پیدا ہو گیا تو کہاں کمی ہے کہ عملی بغاوت کا احساس پیدا نہیں ہو رہا؟ اور میرے جان بوجھ کر گناہ کرنے کو صرف گناہگار کا لفظ استعمال کر کے اتنا ہلکا کیوں لیا جاتا ہے؟ کیا یہ اپنے ہی الفاظ کا تضاد نہیں؟ یہ وہ سوال ہے جو ہر انسان کے ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے اور اسے سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ گناہ کو معمولی سمجھنا دراصل بغاوت کو چھپانے کے مترادف ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے