یقیناً آپ کے ساتھ بھی بارہا ایسا ہوا ہوگا، میرے ساتھ تو یہ اب معمول کی بات بن چکی ہے۔ فکر و نظر، تنقید و تعریف، اختلاف و اتفاق پر مشتمل تحریروں کا یہ سلسلہ برسوں سے جاری ہے۔ قلم جب حرکت میں آتا ہے تو ردعمل بھی ساتھ ساتھ جنم لیتا ہے، اور یہی ردعمل اصل میں ہمارے اجتماعی مزاج کا آئینہ دار ہوتا ہے۔
اب اگر کسی کو کوئی تحریر پسند آ جائے، اگر وہ اس کے ذاتی مفاد، فکری جھکاؤ یا وقتی ذوق سے ہم آہنگ ہو، تو داد و تحسین کے ٹوکرے برسائے جاتے ہیں، تحریر کو وائرل کیا جاتا ہے، اور لکھنے والے کو آسمان پر بٹھا دیا جاتا ہے۔ لیکن اگر وہی قلم کسی اور موقع پر کوئی ایسی بات کہہ دے جو ناگوار گزرے، سوچ کو چبھ جائے یا مفادات پر ضرب لگائے، تو فوراً تضحیک و تشنیع کا بازار گرم کر دیا جاتا ہے۔
بعض اوقات تو نوبت یہاں تک آ جاتی ہے کہ اگر بس چلے تو نقصان پہنچانے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا۔
میرے ساتھ یہ معاملہ کوئی ایک بار نہیں ہوا، شاید بیسویں بار ہوا ہے۔ عجیب تماشہ ہے کہ ایک ہی شخص ایک تحریر پر تعریف کے پل باندھ رہا ہوتا ہے اور کسی دوسری تحریر پر سیخ پا ہو کر اپنی اصل اوقات دکھا رہا ہوتا ہے۔
تعریف میں حد سے گزر جانا اور اختلاف میں اخلاق سے نیچے اتر جانا، یہی تو ہمارا اجتماعی رویہ بنتا جا رہا ہے۔
یہ ہمارے عمومی مزاج کی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم اکثر صرف تعریف اور ذاتی فائدے کو سامنے رکھتے ہیں، جبکہ تنقید یا اختلاف کو برداشت کرنے کے بجائے اسے دبانے کے لیے اپنی سطح سے نیچے گرنے میں بھی عار محسوس نہیں کرتے۔ دلیل کے مقابلے میں گالی، فکر کے جواب میں کردار کشی، اور اختلاف رائے کے بدلے ذاتی حملے، یہ سب ہمارے فکری دیوالیہ پن کی علامتیں ہیں۔
اہل قلم کے ساتھ ایسا ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے۔ جو سچ لکھے، وہ کسی نہ کسی کو ناگوار ضرور گزرتا ہے، اور جو ناگوار گزرے، وہ نشانے پر آتا ہے۔ شاید یہی اہل قلم کی آزمائش بھی ہے اور پہچان بھی۔