سوشل میڈیا اور عصر حاضر کے نوجوان

آج کے دور میں ہر خوشی، غم اور ہر کامیابی کی تصویر ایک کلک پر منظرِ عام پر آجاتی ہے، سوال یہ بنتا ہے کہ ہم نے محنت کو کس انداز میں ضبط کیا؟ وہ نوجوان نسل جو جنریشن زی کے نام سے جانی جاتی ہے، اس تیزی سے بدلتی دنیا میں پیدا ہوئی ہے جہاں علم اور شواہد تک رسائی کا مطلب اکثر محنت کی قدیم تعریف کو کم تر سمجھ لیا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا نے معلومات کے حصول، ہنر سیکھنے اور خود نمائی کے طریقے بدل دیے ہیں، مگر کیا اسی تبدیلی نے محنت کے تجربے، صبر اور تسلسل کے تصور کو کمزور تو نہیں کر دیا؟

سوشل میڈیا صرف فیس بک یا ٹک ٹاک نہیں بلکہ یہ وہ تکنیکی و سماجی ڈھانچہ ہے جو ویوزرز کو مواد بنانے، شیئر کرنے اور فوراً رائے پانے کا موقع دیتا ہے اور اسی تیزی نے محنت کے روایتی تصورات پر اثر چھوڑا ہے۔

صرف پندرہ بیس سال پہلے تک زیادہ تر معلومات کا حصول کتابوں، اساتذہ اور تجربات سے وابستہ تھا، مگر 2000 کی دہائی کے وسط سے سوشل میڈیا نے انفارمیشن کی رسائی کو جتنی تیز رفتار اور سستا بنایا، اتنا ہی اس نے فوری نتیجہ پانےکی توقعات کو بھی جنم دیا۔

ویڈیوز، مختصر ٹیوٹوریلز، لائیو سیگمنٹس اور سرچ انجنز نے کسی ہنر یا نظریے کو چند سیکنڈز میں قابلِ رسائی بنا دیا۔ اس تبدیلی نے مثبت پہلو بھی دئیے۔ علم کی دائرہ بندی وسیع ہوئی، آوازیں اجاگر ہوئیں، مگر ساتھ ہی محنت میں کمی، جلدی تشہیر، اور دو سے تین قدم میں کامیابی کا خواب میں اضافہ ہوا۔

سوشل میڈیا نے نوجوانوں کی زندگی میں جتنی گہرائی تک رسائی حاصل کر لی ہے، شاید کسی اور ذریعے نے اس قدر نہیں کی ہوگی۔ آج کا نوجوان صبح اُٹھتے ہی سب سے پہلے موبائل فون دیکھتا ہے، اور سونے سے پہلے بھی۔ اس عادت نے رفتہ رفتہ ان کے ذہنوں میں ایک ایسا بدلاؤ پیدا کر دیا ہے جس نے محنت، صبر، مستقل مزاجی اور تدریجی ترقی کے تصور کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیا ہے۔

دن بھر کے کاموں میں بھی یہی ڈیجیٹل اسکرین ان کے ہاتھ، ذہن اور احساسات کے ساتھ جڑی رہتی ہے۔ چاہے وہ پڑھائی کا وقت ہو، ملازمت کی ذمے داری ہو، گھر والوں کے ساتھ بیٹھنے کا وقت ہو۔ وہ دیواریں، روشنی، چہرے اور رشتے دیکھنا بھول کر بٹنوں اور آئیکنز کی دنیا میں رہنے لگا ہے۔

اصل زندگی پیچھے رہ گئی ہے۔ سوشل میڈیا کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ نتیجہ چمکتا ہوا دکھاتا ہے اور محنت کا پس منظر دھندلا۔ جب نتیجہ اتنا چمک دار ہو اور سفر اتنا مخفی، تو نوجوان کیوں نہ یہ سمجھیں کہ محنت اب پرانی بات ہو چکی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ محنت نے کبھی اپنی اہمیت نہیں کھوئی۔ اس کے لیے وقت چاہیے، جو سوشل میڈیا نے چرالیا ہے۔

آج گھنٹوں کی اسکرولنگ انہیں یہ احساس ہی نہیں ہونے دیتی کہ وقت کس تیزی سے گزرتا جا رہا ہے۔ دو منٹ کے لیے فون کھولنے والا نوجوان جب ہوش میں آتا ہے تو ایک نہیں بلکہ دو، تین گھنٹے گزر چکے ہوتے ہیں۔ یہ گھنٹے زندگی کے وہ گھنٹے ہیں جو کبھی واپس نہیں آتے۔یہی وجہ ہے کہ بہت سے نوجوان اپنی شخصیت بنانے کے بجائے اپنی تصویر بنانے میں لگ گئے ہیں۔

وہ اپنی حقیقت سے زیادہ اپنی آن لائن شناخت کی فکر کرتے ہیں، حالانکہ زندگی اسکرین کے باہر گزرتی ہے اندر نہیں۔ پہلے کامیابی کا مطلب تھا: مقصد، قربانی، جدوجہد اور مستقل مزاجی، مگر اب مطلب بدل گیا ہے۔ نظر آنا، دکھائی دینا، پسند کیے جانا، شیئر کرنا ہے، جب کامیابی انٹرٹینمنٹ بن جائے تو اس کا حاصل بھی عارضی اور کھوکھلا رہ جاتا ہے۔

پہلے کامیاب وہ تھا جو علم، کردار، اخلاق اور کام میں طاق ہو۔ آج کامیاب وہ ہے جس کے فالورز زیادہ اور آواز اونچی ہو۔ یہ تبدیلی تربیت کے پورے ڈھانچے کو شکست دے رہی ہے۔ تربیت جو اب کتابوں، اساتذہ اور بزرگوں سے نہیں، بلکہ انفلونسر سے ہو رہی ہے۔ ادب کی تربیت میمز سے، اخلاق کی ٹرینڈز سے، اور خود اعتمادی کی تربیت سیلفیز سے ہو رہی ہے۔

گزشتہ ادوار میں بچوں کی تربیت کا مرکز والدین کی آغوش اور اساتذہ کی بھرپور رہنمائی تھے، لیکن آج وقت بدل گیا ہے سوشل میڈیا نے سب کچھ اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے یہی وجہ ہے کہ آج نوجوانوں کے پاس خیالات تو ہیں، مگر علم اور تجربہ نہیں۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ جب کسی چیز کی معلومات آسانی سے دستیاب ہو تو انسان اسے یاد رکھنے کی بجائے موبائل میں محفوظ کرلیتا ہے۔

نتیجتاً گہرائی میں سیکھنے کی عادت کمزور پڑتی جارہی ہے، جس نے معلومات کے ساتھ محنت کے جذبےکو بدل دیا ہے۔ نوجوانوں میں برداشت ختم ہو گئی ہے، جب ہر چیز فوری ملنے لگے، جیسے ویڈیو ایک سیکنڈ میں چل جاتی ہے، ریل دو سیکنڈ میں بدل جاتی ہے، اور لائکس چند لمحوں میں مل جاتے ہیں، تو اُن کے دماغ اس فوری انعام کےعادی ہو جاتے ہیں۔

وہ لمبے سفر، محنت، طویل منصوبہ بندی اور دیر سے ملنے والے نتائج کو برداشت ہی نہیں کر پاتے۔ انہیں ہر چیز جلد چاہیے، ہر قدم فوری نتیجے کا مطالبہ کرتا ہے، اگر ایک دو ہفتے میں فائدہ نظر نہ آئے تو وہ راستہ ہی چھوڑ دیتے ہیں، چند دن میں مہارت حاصل نہ ہو تونیا کام شروع کر دیتے ہیں۔

یہ بے صبری محنت کی دشمن ہے، جسے سوشل میڈیا نے مزید مضبوط کر دیا ہے۔ نوجوان حقیقی ہنر کی گہرائی میں جانے کی بجائے کم وقتی مواد سازی (content churn) کو ترجیح دیتے ہیں، جبکہ اس کے برعکس، عالمی تحقیقی اور ورک پلیس رپورٹس بتاتی ہیں کہ طویل مدت میں ملنے والی کامیابی محنت، تسلسل اور مہارت پر مبنی ہوتی ہے۔

سوشل میڈیا ایک ٹول ہے۔ مسئلہ اس کے استعمال، تعلیمی نظام میں رہنمائی کی کمی اور معاشی توقعات کا بے ہنگم ہونا ہے، اگر اس کا غلط استعمال ہو تو نقصان دیتا ہے، مگر صحیح استعمال فائدہ بھی دیتا ہے۔ بہت سے نوجوان ایسے بھی ہیں جنہوں نے سوشل میڈیا پر ہنر سیکھا، کاروبار شروع کیا، اپنے فن کو دنیا تک پہنچایا اور اپنی زندگی کو بہتر کیا، انہوں نے شارٹ کٹ نہیں ڈھونڈے، بلکہ سوشل میڈیا کو ایک پلیٹ فارم سمجھ کر اس پر محنت، وقت اور لگن کے ساتھ کام کیا۔

نوجوا ن کس راستے پر چلنا چاہتے ہیں کو یہ فیصلہ ان کو خو د کرنا ہوگا کہ وہ کس راستے پر چلنا چاہتے ہیں۔ وہ راستہ جہاں دکھاوا ہے، مگر انجام کھوکھلا ہے۔یا وہ راستہ جہاں محنت ہے، مگر مستقبل روشن ہے۔ آج کے نوجوان کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ اپنی سوچ بدلے، اپنے وقت کو بچا ئے، اپنی صلاحیتوں پر توجہ دے، مستقبل کے لیے وہ راستہ چنے جو اسےطاقت وربنائے نہ کہ کمزور۔ اپنی زندگی کا کنٹرول خود سنبھالیں، تو بے شمار کامیابیاں سمیٹیں گے۔

آنے والی دہائی میں ٹیکنالوجی کا دائرہ مزید پھیلے گا۔ اے آئی کا انفراسٹرکچر مزید بڑھے گا، بائیوٹیکنالوجی میں پیش رفت نئے سوال کھڑے کرے گی اور ڈیجیٹل نگرانی کے مسئلے پیچیدہ ہوتے چلے جائیں گے۔ اس منظرنامے میں نسلِ نو نے کیا کرنا ہے، یہ اُنہیں سوچنا ہوگا۔

عصر حاضر میں نوجوانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ قدیم و جدید علوم کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ڈیجیٹل دنیا میں راہنمائی، اخلاقی معیارات اور عملی پالیسیوں پر عمل کریں، مزید یہ کہ اس سفر میں قرآن و سنت کی روشنی میں جدید مسائل کا حل تلاش کریں، اور اگلی دہائی کے چیلنجز کے لیے ایک ایسا فکری و اخلاقی فریم ورک تیار کریں جو حق، عدل کو ایک ساتھ رواں رکھے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے