کراچی کےگل پلازہ میں لگی آگ 33 گھنٹے بعد مکمل طورپربجھادی گئی، سرچ آپریشن کے دوران مزید 4 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 10 ہوگئی۔
ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں آگ ہفتے کی رات سوا 10 بجے کے قریب لگی، گراؤنڈ فلور پر لگنے والی آگ دیکھتے ہی دیکھتے تیسری منزل تک پہنچی، خوفناک آتشزدگی سے عمارت کے کئی حصے گر گئے۔
فائر فائٹرز نے 33 گھنٹے بعد آگ پر مکمل طور پر قابو پالیا جس کے بعد اب کولنگ کا عمل جاری ہے۔ حکام کے مطابق آگ پر قابو پانے کے بعد فائر فائٹرز پلازہ کے اندر داخل ہوئے ۔ جلی ہوئی دکانوں میں محدود پیمانے کا سرچ آپریشن کیا گیا ، اس دوران ایک بچے سمیت 3 افراد کے اعضا ملے جنہیں سول اسپتال ٹراما سینٹر منتقل کردیاگیا۔
لوگ بے بسی کی تصویر بنے ہفتے کی رات سوا 10 بجے سے جلتی ہوئی عمارت کے باہر کھڑے اپنے پیاروں کی راہ تک رہے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اہل خانہ سے لاپتہ افرادکےموبائل نمبر حاصل کرلیے ہیں ، 20 سے زائد افراد کی لوکیشن گل پلازہ کی آئی ہے۔
پلازہ کی تیسری منزل پر پھنسے شخص کی موجودگی کے امکان پر ریسکیو آپریشن کیا گیا مگر کوئی نہ مل سکا۔ ترجمان ریسکیو کے مطابق کٹرکی مدد سے کھڑکیوں کو کاٹا جارہاہے، ہتھوڑوں کی مدد سے دیوار کو بھی گرایا جارہا ہے۔
ریسکیو حکام کے مطابق آگ کی وجہ سے عمارت کے پلرز کم زور ہوگئے ہیں، متعدد دراڑیں پڑ گئی ہیں، عمارت انتہائی پرانی ہونے کے باعث گرنے کا خدشہ ہے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو ٹیلیفون کرکے گل پلازہ میں لگنے والی آگ کی تازہ صورتحال دریافت کی۔
صدر مملکت نے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران وزیراعلیٰ سندھ کو امدادی کاموں کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت دی۔
صدر مملکت نے شہید فائر فائٹر فرقان شوکت کی شجاعت کو سراہتے ہوئے اسے سول ایوارڈ کے لیے نامزد کرنے کا کہا، انہوں نے زخمیوں کی نگہداشت اور متاثرین کے گھروں کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کی بھی ہدایت کردی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران سانحہ گل پلازہ پر افسوس کا اظہار کیا، وفاقی حکومت کی جانب سے ہرقسم کی معاونت فراہم کرنے کی پیشکش کردی۔ وزیراعظم نے کہا کہ دکھ و مصیبت کی اس گھڑی میں متاثرین اور سندھ حکومت کے ساتھ ہیں۔