پچھلے کالموں میں آپ کے ساتھ یورپ کے مختلف ممالک میں گزرے وقت کا تذکرہ ہوا اور وہاں کی چہل پہل کی باتیں ہوئیں۔ لیکن قارئین کے ساتھ ان ‘دنیائے یورپ’ کے سفرناموں میں لکھی گئی باتوں اور میرے اصل مقصد، یعنی میرے تحقیقی پیپر (Research Paper) پر گفتگو رہ گئی تھی۔ اس لیے سوچا کہ ‘ٹور ڈی یورپ’ کی اختتامی قسط کو اسی علمی اور فکری حوالے سے تحریر کیا جائے، تاکہ دیکھا جا سکے کہ جدید دنیا کے مسائل کا حل ہمیں کس راستے پر نظر آتا ہے۔
انسانیت ایک نئے موڑ پر پہنچ چکی ہے۔ ہم ‘اینتھروپوسین’ (Anthropocene) کے عہد میں، ایک ایسی انتہائی مربوط، پیچیدہ اور باہم جڑی ہوئی دنیا میں جی رہے ہیں جہاں انسانیت زمین پر زندگی کے معاون نظاموں کو تبدیل کرنے والی سب سے غالب قوت بن چکی ہے۔ زمین پر 7.6 ارب ساتھی شہریوں کے ساتھ، جو اگلے 30 سالوں میں 9 ارب ہو جائیں گے؛ ہم گزشتہ 50 سالوں میں ایک بڑے سیارے پر ایک چھوٹی سی دنیا بن کر رہ گئے ہیں۔ انسانی تحفظ، معاشی خوشحالی، سماجی شمولیت، ماحولیاتی پائیداری اور سماجی و ماحولیاتی نظاموں کی مضبوطی کا مطلوبہ معیار حاصل کرنا، خارج کرنے والی طرزِ حکمرانی اور کمزور ریاست کے تناظر میں تقریباً ناممکن ہے۔
جمہوریت کو تنازعات کو غیر تشدد آمیز اور مشاورتی انداز میں حل کرنے کے طریقہ کار کے طور پر وسیع پیمانے پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ حکمرانی سے مراد تمام سطحوں پر ملک کے معاملات کے انتظام میں سیاسی، معاشی اور انتظامی اختیار کا استعمال ہے۔ اس طرح حکمرانی ان طریقہ ہائے کار، عمل، تعلقات اور اداروں پر توجہ مرکوز کرتی ہے جن کے ذریعے شہری اور گروہ اپنے مفادات کا اظہار کرتے ہیں، اپنے حقوق اور فرائض کا استعمال کرتے ہیں اور اپنے اختلافات کو حل کرتے ہیں۔ صلاحیتوں کی نشوونما وہ عمل ہے جس کے ذریعے افراد، تنظیمیں اور معاشرے وقت کے ساتھ اپنے ترقیاتی مقاصد کو حاصل کرنے کی صلاحیت حاصل کرتے اور اسے برقرار رکھتے ہیں۔
موجودہ منظرنامے میں پارلیمان اور عوامی نمائندوں کو اہم عالمی مسائل کے حل تلاش کرنے کے لیے جامع طور پر قیادت کرنی چاہیے، جن میں حیاتیاتی جنگ، پرتشدد انتہا پسندی اور اس کے نتیجے میں ہونے والی دہشت گردی، موسمیاتی ہجرت، انسانی حقوق کی پامالی، بین الاقوامی امن و سلامتی، قانون کی حکمرانی، صنفی مساوات، آزادی اظہار اور صحت و تعلیم کی بنیادی انسانی ضروریات تک سستی رسائی شامل ہے۔ اکیسویں صدی کے مسائل کی نوعیت ایسی پالیسی سازی کا تقاضا کرتی ہے جو عالمی سطح پر موزوں اور مقامی لحاظ سے انتظامی طور پر قابلِ عمل ہو۔ حکومتیں، سیاسی جماعتیں اور سول سوسائٹی جمہوری کلچر کے فروغ کی ذمہ دار اور عوام کے سامنے جوابدہ ہیں۔
پارلیمانی نگرانی اور عوامی رابطوں کا فروغ مختلف مذاہب کے عوامی نمائندوں کے درمیان عالمی اور علاقائی پارلیمانی فورمز کے ذریعے تعامل بڑھانے کے لیے ناگزیر ہے۔ یہ افراد کے جمہوری عمل میں شرکت کے ناقابل تنسیخ حق کے طور پر تسلیم کیا سکتا ہے۔ ہماری تنوع اور زبان، ثقافت اور قانون کی حکمرانی میں ہماری مشترکہ وراثت کا امتزاج، اور مشترکہ تاریخ اور روایت کے ذریعے جڑا ہونا، تمام ریاستوں اور لوگوں کے احترام، مشترکہ اقدار اور اصولوں اور کمزوروں کے لیے فکر مندی کے ذریعے ممکن ہے۔ اس مقالے کا مقصد یہ اجاگر کرنا ہے کہ کس طرح ٹیکنالوجی کی ترقی اور جدید دور کی حرکیات نے زندگی کی بنیادوں کی سمجھ بوجھ کو نقصان پہنچایا ہے اور کس طرح زندگی گزارنے کے نئے فلسفے کو پائیدار ترقی کی بنیاد بنایا جا سکتا ہے۔
بین الاقوامی امن و سلامتی، پائیدار معاشی نمو اور ترقی اور قانون کی حکمرانی سب کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ضروری ہے۔ جنگیں درحقیقت وسائل پر قابو پانے کا ایک غالب عنصر بن چکی ہیں۔ اقتدار کی ہوس نے بین الاقوامی امن و سلامتی کو برقرار رکھنے کا چیلنج پیدا کر دیا ہے۔ ہوا، پانی اور زمین پر کنٹرول کرنے کی طاقت اور ایسا کرنے کے لیے تمام ممکنہ صلاحیتوں کو بروئے کار لانا درحقیقت شمولیت، برابری، انصاف اور بین الاقوامی قانون پر مبنی ایک موثر کثیر الجہتی نظام کے عزم کو کمزور کر رہا ہے۔
یہ بلا شبہ ہے کہ جمہوریت انسانی معاملات کو ایک مخصوص ضابطہ اخلاق کے ذریعے چلانے کی ایک اچھی شکل ہے۔ اس کے باوجود، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جمہوری نظام محض 4 یا 5 صدیاں پرانی ہے۔ اس لیے جمہوریت کو ان دیگر سماجی نظاموں کے طریقوں، اصولوں اور اقدار کی طرف دیکھنا ہوگا جو جمہوریت سے پہلے رائج تھے۔ انسانیت کا اب تک کا راستہ پائیدار رہا ہے، اسے صرف ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی سے خطرہ لاحق ہوا، جب انسانوں کی ذہنی ترقی پیچھے رہ گئی۔ پیسہ اور مادی فوائد کو مقصد نہیں بلکہ فلاح کا ذریعہ سمجھا جانا چاہیے۔ بھوکوں کو کھانا کھلانا، بیماروں کی عیادت کرنا، قیدیوں کو رہا کرنا، اپنے اندر کے شر سے لڑنا، مہربانی اور درگزر، دوسروں کے لیے فائدہ مند ہونا، سچ بولنا اور محتاط رہنا کیونکہ ہم دوسروں سے بہتر نہیں سوائے تقویٰ کے۔ کسی کو دوسرے پر فخر نہیں کرنا چاہیے اور کسی کو دوسرے پر ظلم نہیں کرنا چاہیے۔
اس سلسلے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے بالخصوص پارلیمانی سفارت کاری کے ذریعے۔ پارلیمانی سفارت کاری بنیادی طور پر ایم پیز (MPs) کے ذریعے اور پارلیمان کے ذریعے کسی بھی موزوں موضوع پر بات چیت کو آگے بڑھانے کا نام ہے۔ بدقسمتی سے اس حوالے سے کوئی خاطر خواہ تحقیق نہیں کی گئی ہے، اس پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اللہ کی توفیق سے ایم ایس میں اپنے تھیسز کا مقالہ بھی میں نے اسی پارلیمانی سفارت کاری کے موضوع پر لکھا تھا جس میں کوشش کی تھی کہ اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ بین المذاہب ہم آہنگی میں پارلیمانی سفارت کاری کا کیا کردار ہو سکتا ہے جس پہ کسی اور دن روشنی ڈالیں گے ان شاء اللہ۔
بطور پاکستانی میرے لیے یہ اعزاز کی بات تھی کہ مجھے یہ مقالہ یورپ میں پیش کرنے کا موقع ملا اور یورپ دیکھنے کا بھی۔ بطور پاکستانی ہمارے لیے یورپ تک پہنچنا بھی بہت مشکل ہوتا ہے، لیکن اگر ہم پڑھائی کا اور طریقے کا راستہ اپنائے ہوئے یورپ جائیں تو اس سے نہ صرف ہمارے ملک کا نام روشن ہوگا بلکہ ایک عزت افزائی کا احساس بھی ہوگا۔ دنیا کی پہلی تہذیبیں ہمارے علاقے پاکستان کے ٹیکسلا اور سندھ کے موہنجودڑو سے پھیلیں۔ پہلی یونیورسٹی اور پہلا مربوط شہر ہمارے علاقوں میں بنا۔ ہم انڈس سولائزیشن اور اصل طریقے کے وارث ہیں۔ ہم مزدور نہیں بلکہ پڑھے لکھے اور توانا پاکستانی اچھے لگیں گے۔ باہر دنیا کی ترقی کی بنیاد ہماری تہذیبیں ہیں۔ ہمیں خود کو پہچاننا ہوگا۔
ہم پاکستانیوں میں کس چیز کی کمی ہے؟ سب کچھ تو ہے ہمارے پاس۔ ایک پیارا ملک، خوبصورت اور پُرامن اور احساس سے بھرپور مذہب اسلام۔ تاریخ، ثقافت، جوان سب کچھ سے مالا مال ہیں ہم۔ بس تھوڑا اپنی کمزوریوں پہ سوچنا ضروری ہے۔ ایمانداری والا انڈیکس بہتر کرنا ہے۔ تھوڑا صبر کے ساتھ اپنے ہم وطنوں، رشتہ داروں کی ترقی پہ خوش ہونے کا احساس خود میں پیدا کرنا ہے۔
یہ دنیا ہمارے قدم چومے گی۔ آپ یقین جانیے کوئی بیمار ہوتا ہے تو ہم پڑوسی، رشتہ دار سے پہلے عیادت اور تیمار داری کو پہنچ جاتے ہیں۔ ایک دوسرے کے جنازوں اور خوشیوں سے لے کر مہمان نوازی میں اعلیٰ درجے کی مثال ہیں ہم۔ مگر اس کے باوجود جو مسائل ہیں وہ ہمارے اپنے ہاتھوں کے ہیں۔ ہم ایک دوسرے کے منہ کا رزق دھوکے بازی سے چھین کر سمجھتے ہیں کہ ہم کامیاب ہیں یا تیز ہیں یا بڑے کوئی کنگ ہیں۔
نہیں، یہ ہماری ناکامی ہے۔ اگر ہمیں ترقی کرنی ہے تو من حیث القوم اپنے معاملات پہ نظر ثانی کرنی ہوگی۔ اللہ ہمارا حامی و مددگار ہو۔
وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین