پختون قوم کا سب سے اہم مسئلہ

پختون معاشرہ: دشمنیوں کا کلچر اور اصلاح کی صورتیں
میرے نزدیک پختون قوم کا سب سے اہم مسئلہ ان کی آپسی دشمنیاں ہیں۔ ان دشمنیوں کے نتیجے میں جہاں کچھ لوگ لقمہ اجل بنتے ہیں، وہاں ان خاندانوں کے سینکڑوں بچوں کا مستقبل ضائع ہو جاتا ہے اور عورتیں بے گھر ہو جاتی ہیں۔ اگر حقیقت پسندانہ جائزہ لیا جائے تو ان خاندانوں کی زندگیاں سکون سے خالی نظر آتی ہیں۔

ان کی تمام تر توانائیاں اپنے دفاع اور دوسروں کی جان لینے کی کوشش میں صرف ہو جاتی ہیں۔ ان کی گفتگو کا محور دشمنیاں ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے بچوں اور نوجوانوں کی ذہنیت بھی منفی ہو جاتی ہے۔

حیران کن بات یہ ہے کہ معاشرے کے دیگر افراد ان اختلافات میں جو کردار ادا کرتے ہیں، وہ بھی ان دشمنیوں کے دائرے کو وسیع کرنے کا سبب بنتا ہے۔ اگر فریقین کبھی صلح کے قریب ہوتے ہیں تو کچھ مفاد پرست عناصر صلح کے امکان کو مسدود کر دیتے ہیں۔
اس حوالے سے پولیس کا کردار بھی انتہائی افسوس ناک ہے۔ پولیس ایک فریق سے پیسے لیتی ہے اور دوسرے فریق کو ڈراتی ہے۔ لوگوں کے آپسی اختلافات پولیس اہلکاروں کے لیے آمدن کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔

واقعہ جتنا بڑا ہوتا ہے، سرکاری کارندوں کا حصہ بھی اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے۔ دشمنی میں مبتلا خاندانوں کا پیسہ کچھ دشمنی کی نذر ہوتا ہے اور کچھ "بحقِ سرکار” چلا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ اس قدر غربت کا شکار ہو جاتے ہیں کہ بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہو جاتے ہیں۔ جان کے خوف کی وجہ سے کمانے کے مواقع ختم ہو جاتے ہیں، تو ایسے لوگ آخر کار چوری، ڈکیتی اور منشیات فروشی جیسے جرائم کی راہ اپنا لیتے ہیں۔ اس ماحول سے تنگ آکر شریف اور کارآمد لوگ ہجرت کر جاتے ہیں، یوں معاشرہ خیر پھیلانے والے لوگوں سے محروم ہو جاتا ہے۔

کشمیر میں اگر دشمن ملک کسی سویلین کو قتل کرے تو ہمارے حکمران اقوامِ متحدہ تک دہائی دیتے ہیں، حالانکہ عملاً وہ کچھ کرنے کی جرات نہیں رکھتے۔ لیکن مقامی سطح پر روزانہ دشمنیوں کی وجہ سے کثیر تعداد میں لوگ مرتے ہیں، بچے تعلیم سے محروم اور یتیم ہوتے ہیں، مگر کسی حکمران یا وزیر کو اس مسئلے کی سنگینی کا احساس نہیں ہوتا۔

افسوس تو یہ ہے کہ کسی پارلیمنٹ کے رکن نے بھی کبھی اس پر آواز نہیں اٹھائی، حالانکہ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے سے ایسے ناسور کا خاتمہ کرے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ انہی دشمنیوں میں ملوث لوگوں کو الیکشن کے زمانے میں لیڈر بطورِ ہتھیار استعمال کرتے ہیں۔ دوسری طرف، اگر کوئی ریڑی والا معمولی غلطی کرے تو ریاست فوراً حرکت میں آ جاتی ہے، کاش اس کا آدھا احساس ان دشمنیوں کے خاتمے کے لیے ہوتا۔

جو لوگ پختون قوم کا نعرہ لگاتے ہیں اور تبدیلی کے دعویدار ہیں، ان سے سوال ہے کہ انہوں نے اس سنگین مسئلے کے حل کے لیے کیا کیا؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب مگرمچھ ہیں اور عوام ان کی خوراک۔ ہمیں نعروں کی بجائے عملی کارکردگی کا دانشمندانہ جائزہ لینا چاہیے۔

جس دن ہم نے کارکردگی کی بنیاد پر انتخاب کرنا سیکھ لیا، حکمران طبقہ خود بخود سنجیدہ ہو جائے گا۔

آج کل "شعور” کی بہت باتیں ہوتی ہیں، لیکن یہ محض "مصنوعی فیڈنگ” (Artificial Feeding) ہے۔

اگر یہ حقیقی شعور ہوتا تو ہمارے بنیادی مسائل حل ہو چکے ہوتے۔ مصنوعی شعور لاشعوری سے بھی زیادہ خطرناک ہے کیونکہ اس میں تدبر کی بجائے تکبر ہوتا ہے۔ ہمارا معیارِ انتخاب تقریر، لباس یا جوتوں کا اسٹائل نہیں بلکہ حق اور سچ ہونا چاہیے—یعنی وہ جو ہماری دینی و دنیاوی زندگی، معیشت، تعلیم اور امن و امان کے معیار کو بلند کرے ۔

قرآنِ مجید میں اصلاح کا تدریجی طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے (جیسے شراب کی حرمت)۔ پختون معاشرے کی اصلاح کے لیے بھی ان کی نفسیات، اقدار اور حالات کا علم ہونا ضروری ہے۔ پختون قوم بہادر، سخت جان، اور مہمان نواز ہونے کے ساتھ ساتھ ضدی اور انا پرست بھی ہے۔

لیکن ان میں علماء کا احترام، روایت پسندی، مذہب سے لگاؤ اور وعدے کی پاسداری جیسے اوصاف بھی موجود ہیں۔

اگر ریاست اور معاشرہ ان مثبت اوصاف کو خیرخواہی کے ساتھ استعمال کرے تو یہ مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ مثلاً، پختونوں کی مہمان نوازی ثابت کرتی ہے کہ وہ حریص نہیں ہیں۔ دشمنیوں کی بنیاد حرص نہیں بلکہ ضد اور انا ہے۔ اگر جرگہ سسٹم کے ذریعے فریقین کو یہ باور کرایا جائے کہ صلح کرنا بزدلی نہیں بلکہ مذہب کی پیروی اور بڑوں کا احترام ہے، تو مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔

حتمی تجاویز:

* ریاستی تربیت: ریاست ایسے انتظامی افسران اور پولیس اہلکار تعینات کرے جو ماہرِ نفسیات بھی ہوں اور اخلاص و دیانتداری کے حامل ہوں۔

* علماء کا کردار: علماء منبر و محراب سے قرآن و سنت کی روشنی میں اس حوالے سے جاندار ذہنی سازی کریں، اور ریاست ان کی معاشی ضروریات کا خیال رکھے۔

* مشترکہ کمیٹیاں: سرکاری انتظامیہ، پولیس، اساتذہ، علماء اور مشران پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دی جائیں۔

* عدالتی اصلاحات: عدالتوں کو فعال بنایا جائے، ججوں کو مقدمات میں تاخیر پر سزا دی جائے اور انصاف کو سستا اور فوری بنایا جائے۔

* اراضی کمیشن: ایک تفتیشی کمیشن بنایا جائے جو زمینوں کی پیمائش کرے اور تجاوزات کو فریقین کی شمولیت کے بغیر خود ختم کر کے جرمانے عائد کرے۔

اگر ریاست سنجیدگی کا مظاہرہ کرے تو پختون قوم کی نفسیات کے پیشِ نظر 70 فیصد مسائل خود بخود حل ہو سکتے ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے