سر مورٹیمر وہیلر کہتے ہیں کہ
تاریخ مٹ جائے تو قومیں اپنی شناخت کے بحران میں مبتلا ہو کر ،فکری یتیم بن جاتی ہیں۔
جنوری کی اُس خنک شام، میں محوِ سفر تھا، میری منزل تھی، بھڑ ماؤنڈ، اور مقصد تھا تاریخ کی سرگوشی کو سننا۔
تقریباً آدھے گھنٹے کا سفر طے کر کے ،میں، پہنچ گیا، آج کے ٹیکسلا کی آرکیالوجیکل سائیٹ، بھڑ ماؤنڈ ۔ بھڑ ماؤنڈ، جو ٹیکسلا کی قدامت کی اولین دلیل ہے ۔ بھڑ ماؤنڈ، جو تین زمانوں کا نمائندہ ہے ۔ عظیم الشان گندھارا تہذیب کی بنیادوں میں جس چمن کی خوشبو ،مہک رہی ہے وہ یہی، بھڑ ماؤنڈ ہے ۔
بھڑ ماؤنڈ کے آثار، کئی ماہرین آثار قدیمہ کی تلاش کا حاصل ہیں۔ تلاش کے اس سفر کا پہلا قدم 1913 میں سر جان مارشل نے اُٹھایا ،پھر 1944 میں سر مورٹیمر وہیلر ،1966 میں ڈاکٹر محمد شریف ، 1998 میں بہادر خان اور 2002 میں ڈاکٹر اشرف خان نے خاک کی چادر کو ہٹایا ،صدیوں پہلے وقت کی خاک اوڑھ چکے پتھروں کو جگایا ،ان سے ہمکلام ہوئے اور ان کی داستان سنی۔ بھڑ ماؤنڈ میں ڈپٹی ڈائریکٹر سب ریجنل آفس ٹیکسلا میوزیم ،عاصم ڈوگر کی نگرانی میں ، تاریخ کی تلاش کا سفر آج بھی جاری ہے ۔
ٹیکسلا کا یہ قدیم ترین فصیل دار شہر کسی باقاعدہ منصوبہ بندی کے بغیر آباد کیا گیا تھا۔ گلیاں تنگ ،غیر ہموار اور بے قاعدہ تھیں ۔مکانات کچی اینٹوں اور پتھروں سے بنائے گئے تھے ۔ نکاسی آب کا نظام محدود تھا ۔
بھڑ ماؤنڈ، چھٹی صدی قبل مسیح سے ، ہخامنشی ، موریہ اور یونانی ،تین زمانوں کا نمائندہ ہے ۔
بھڑ ماؤنڈ سے مختلف اوقات میں ہونے والی آثاریاتی کھدائیوں کے نتیجے میں پنچ مارک سکے ، چاندی اور تانبے کے سکے ، ترازو کے باٹ ، درآمد شدہ برتن اور مورتیاں دریافت ہوئی ہیں ۔
میں اُس شام بھڑ ماؤنڈ میں نَو دریافتہ آثار کے پاس ہی کھڑا تھا۔
میں نے آنکھیں بند کیں تو وقت کی طنابیں سمٹنے لگیں ۔ یہ 326 قبل مسیح کا زمانہ ہے ۔ یونانی آندھی ایشیائے کوچک ، شام ، فلسطین ،مصر ، میسوپوٹیمیا ،ایران اور افغانستان کو اپنی لپیٹ میں لیتے ہوئے ،دریائے سندھ عبور کر کے ، ٹیکسلا تک پہنچنے کو ہے۔ ٹیکسلا، علمی و تجارتی مرکز ہے۔ راجہ امبھی یہاں کا حکمران ہے ،جو ایک بہترین سفارت کار ،مفاہمت پسند انسان ہے۔
راجہ اپنے علاقے کی حیثیت اور مرتبے سے بھی خوب واقف ہے ۔راجہ، گہری سوچ بچار کے بعد اس نتیجے پر پہنچ چکا ہے کہ یونانیوں کو عسکری قوت سے روکنا ناممکن ہے لہٰذا مزاحمت کے بجائے اتحاد بہتر حکمت عملی ہے ۔
راجہ فیصلہ کر چکا ہے۔ سکندر یونانی ٹیکسلا پہنچ چکا تو راجہ امبھی نے اپنے فیصلے کے مطابق سکندر یونانی سے ہاتھ ملا لیا ہے اور اس کی اطاعت قبول کر لی ہے۔ یونانی آندھی تھم چکی ہے ۔راجہ کے اس فیصلے سے اُس کا علاقہ خونریزی اور ہولناک تصادم سے بچ گیا ہے، علاقے کی حیثیت اور مرتبہ بھی برقرار ہے اور شہر کی علمی اور تجارتی سرگرمیاں بھی جاری ہیں ۔میں نے محسوس کیا کہ
ہوا میں خنکی بڑھنے لگی ہے ۔ میں نے آنکھیں کھولیں تو سورج ڈوبنے کو تھا ۔میں نے نشیب میں نگاہ ڈالی تو اندھیرا آہستہ آہستہ ماضی کے خاموش پتھروں کو اپنی لپیٹ میں لے رہا تھا ۔
فتح کیا ہوتی ہے ؟ نقصان کسے کہتے ہیں ؟ دانشمندی کیا کہلاتی ہے ؟ حکمت کیا ہے اور سیاست کی کیا تعریف ہے ؟ انسانیت کا کیا تقاضا ہے ؟ انسانیت کی بقاء ،مفاہمت میں ہے یا مزاحمت میں ؟ ایک پورس بھی تو تھا ! امبھی نے نفع کا سودا کیا یا گھاٹے کا؟ بھڑ ماؤنڈ کے اس خرابے سے یہ تمام سوالات، جن کے جوابات مجھے اپنی آج کی دنیا میں ڈھونڈنے ہیں ، اپنے ذہن کی گٹھڑی میں باندھ کر ، میں پلٹ آیا۔