قومی سلامتی اور شہری آزادی: ایک نازک توازن

حکومتِ پاکستان کی جانب سے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے خلاف حالیہ اقدامات ایک ریاستی حق اور قومی سلامتی کے تناظر میں قابلِ فہم ہیں۔ ہر خودمختار ملک کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنے قوانین کے مطابق امیگریشن کے معاملات طے کرے اور اپنی سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بنائے۔ اس اصول سے اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں۔

یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ وہ افراد جو پاکستان میں بغیر قانونی دستاویزات کے مقیم ہیں، وہ اپنی اپنی اصل ریاستوں سے تعلق رکھتے ہیں، خصوصاً افغان مہاجرین جو ایک طویل عرصے سے پاکستان میں مقیم رہے ہیں۔ ریاست کو یہ مکمل حق حاصل ہے کہ ایسے غیر ملکی شہریوں کے بارے میں قانون کے مطابق فیصلے کرے اور ان کی واپسی کے لیے اقدامات کرے۔ اس معاملے کو غیر ضروری یا غیر اہم قرار دینا درست نہیں۔

تاہم، توجہ طلب پہلو وہاں سامنے آتا ہے جہاں اسی عمل کے دوران پاکستانی شہری بھی متاثر ہو رہے ہیں، خاص طور پر وہ افراد جن کے شناختی یا شہریت سے متعلق معاملات تاحال تصدیقی مراحل میں ہیں اور جن کے مقدمات عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں۔ ان میں بڑی تعداد قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی ہے، جہاں تاریخی اور انتظامی وجوہات کی بنا پر دستاویزی معاملات نسبتاً پیچیدہ رہے ہیں۔

آئینِ پاکستان شہریوں کے بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ آرٹیکل 9 کے تحت آزادی کا حق اور آرٹیکل 10-A کے تحت منصفانہ ٹرائل کا اصول ہمارے قانونی نظام کی بنیاد ہیں۔ اعلیٰ عدلیہ مختلف فیصلوں میں یہ رہنمائی فراہم کر چکی ہے کہ جب کوئی معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہو تو حراست کے بجائے ضمانت یا مشروط آزادی جیسے اقدامات زیادہ مناسب اور قانون کے مطابق ہوتے ہیں، تاکہ انصاف کے تقاضے بھی پورے ہوں اور شہری آزادی بھی متاثر نہ ہو۔

اگر ایسے افراد کو، جن کے کیسز ابھی حتمی فیصلے کے منتظر ہوں، طویل عرصے تک حراست میں رکھا جائے تو اس سے نہ صرف ان کی ذاتی اور خاندانی زندگی متاثر ہوتی ہے بلکہ یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر بعد ازاں ان کی شہریت ثابت ہو جائے تو اس عرصے میں ہونے والے ذہنی، معاشی اور سماجی نقصانات کا ازالہ کس طرح ممکن ہوگا۔ قانون کا مقصد ہمیشہ ریاستی مفاد اور شہری حقوق کے درمیان توازن قائم رکھنا ہوتا ہے۔

اس تناظر میں روخانہ رحیم وزیر کا معاملہ بھی توجہ کا متقاضی ہے۔ وہ قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والی ایک صحافی اور تجزیہ کار ہیں، جو مختلف پلیٹ فارمز پر خواتین کے حقوق اور سماجی مسائل پر مسلسل لکھتی رہی ہیں۔ ان کی تحریریں مثبت مکالمے، اصلاح اور شعور کے فروغ کا ذریعہ رہی ہیں۔ اس وقت وہ شناختی کارڈ کی بلاکیج کے باعث، جبکہ ان کا کیس عدالت میں زیرِ غور ہے، اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ حراست میں ہیں، جو ایک انسانی اور فکری پہلو رکھتا ہے۔

یہ کہنا بجا ہوگا کہ ایسی صورتِ حال میں ایک نرم، سہل اور واضح پالیسی زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔ غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف کارروائی اپنی جگہ، مگر ان پاکستانی شہریوں کے لیے جن کے مقدمات عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں، ضمانت یا مشروط رہائی جیسے قانونی راستے اختیار کرنا نہ صرف آئینی اصولوں کے مطابق ہوگا بلکہ انسانی ہمدردی اور انصاف کے تقاضوں کو بھی پورا کرے گا۔

ریاست کی مضبوطی صرف قانون کے نفاذ میں نہیں بلکہ عوام کے اعتماد میں بھی پوشیدہ ہوتی ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ متعلقہ ادارے اس پہلو پر سنجیدگی سے غور کریں گے اور ایسی حکمتِ عملی اپنائیں گے جو قومی سلامتی کے تقاضوں اور شہری حقوق دونوں کے لیے باعثِ اطمینان ہو۔۔۔۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے