علی حیدر ملک: اردو ادب میں ایک ترقی پسند ادیب کا فکری و تخلیقی سفر

اردو ادب کی تاریخ میں ایسے متعدد ادیب ہوئے ہیں جنہوں نے اپنی تخلیقات کے ذریعے نہ صرف ادبی دنیا کو مالا مال کیا بلکہ اپنے عہد کے سماجی، سیاسی اور ثقافتی مسائل کو بھی ادب کے آئینے میں پیش کیا۔ انہیں میں سے ایک نمایاں نام علی حیدر ملک کا ہے، جو اردو ادب کے ایک سنجیدہ، فکر انگیز اور تخلیقی ادیب کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ علی حیدر ملک نے افسانہ نگاری، تنقید اور ترجمہ نگاری کے میدانوں میں ایسے گہرے اور معنی خیز کام کیے جو آج بھی ادبی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔

علی حیدر ملک 17 اگست 1944ء کو گیا، بہار (بھارت) میں پیدا ہوئے۔ گیا تاریخی، مذہبی اور ثقافتی اہمیت کا حامل شہر ہے جو ہندوؤں کے لیے مقدس مقام مانا جاتا ہے۔ یہ شہر علم و ادب کے حوالے سے بھی اپنی شناخت رکھتا ہے۔ علی حیدر ملک کا تعلق بہاری مسلمانوں کے ایک علمی گھرانے سے تھا، جہاں تعلیم اور ادب کو خاص اہمیت حاصل تھی۔

بیسویں صدی کے وسط میں ہندوستانی مسلمانوں کی زندگی میں بڑے سیاسی اور سماجی تبدیلیاں رونما ہو رہی تھیں۔ تقسیم ہند کے بعد کے حالات، ہجرت کی تلخیاں اور نئے وطن میں سمونے کی جدوجہد ان کی ابتدائی زندگی کا حصہ تھی۔ یہی تجربات بعد میں ان کی تخلیقات میں بنیادی موضوعات کے طور پر ابھرے۔

علی حیدر ملک کی ابتدائی تعلیم بہار ہی میں ہوئی۔ انہوں نے اردو، فارسی اور عربی زبانوں سے ابتدائی واقفیت اپنے گھر اور مقامی مدارس سے حاصل کی۔ طالب علمی کے دور ہی سے ان میں مطالعے کا غیر معمولی شوق پیدا ہوا۔ وہ کلاسیکی اردو ادب کے ساتھ ساتھ عالمی ادب کا بھی گہرائی سے مطالعہ کرتے تھے۔ ان کے مطالعے کا دائرہ خاصا وسیع تھا۔ وہ ترقی پسند تحریک کے ادیبوں، خاص طور پر سجاد ظہیر، علی عباس حسینی، کرشن چندر اور ساحر لدھیانوی کی تحریروں سے متاثر تھے۔ اس کے علاوہ روسی ادب، خاص طور پر چیخوف، گورکی اور تولستوی کے کاموں نے ان کی فکر پر گہرا اثر ڈالا۔

علی حیدر ملک 1971ء میں مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) میں سیاسی بحران اور خانہ جنگی کے نتیجے میں کراچی ہجرت کرنی پڑی۔ یہ ہجرت محض جغرافیائی تبدیلی نہیں تھی بلکہ ایک گہرا نفسیاتی، سماجی اور تہذیبی صدمہ تھا۔ اس ہجرت نے ان کی شخصیت اور تخلیقی فکر کو گہرے طور پر متاثر کیا۔ نئے وطن میں اجنبیت کا احساس، شناخت کا بحران اور ماضی کی یادیں ان کی تخلیقی دنیا کا اہم حصہ بن گئیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانوں میں ہجرت، بے وطنی اور شناخت کے موضوعات بار بار ابھرتے ہیں۔

پاکستان آنے کے بعد علی حیدر ملک نے تدریس کے پیشے سے وابستگی اختیار کی۔ انہوں نے کراچی کے ایک کالج میں اردو ادب کے استاد کے طور پر خدمات انجام دیں۔ تدریس کے دوران انہوں نے نہ صرف طلبہ کو ادب سے روشناس کرایا بلکہ نئے لکھنے والوں کی رہنمائی بھی کی۔ وہ ادبی محفلوں اور مشاعروں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے لیکن ان کی شخصیت میں انکسار اور گمنامی نمایاں تھی۔ وہ شہرت اور ناموری کے بجائے معیاری ادب تخلیق کرنے پر یقین رکھتے تھے۔

علی حیدر ملک نے افسانہ نگاری کا آغاز 1960 کی دہائی میں کیا۔ ابتدائی دور میں ان کے افسانوں میں ترقی پسند تحریک کے اثرات واضح طور پر نظر آتے ہیں۔ تاہم وہ محض نظریاتی نعروں تک محدود نہیں رہے بلکہ انہوں نے انسانی زندگی کی پیچیدگیوں، جذبات اور نفسیات کو اپنے افسانوں کا مرکز بنایا۔ ان کا پہلا افسانوی مجموعہ "بے زمین بے آسمان” 1986ء میں شائع ہوا۔ اس مجموعے نے نہ صرف انھیں ایک اہم افسانہ نگار کے طور پر متعارف کرایا بلکہ اردو افسانے میں ایک نئی جہت کا اضافہ بھی کیا۔ "بے زمین بے آسمان” علی حیدر ملک کے فکری اور تخلیقی سفر کی پہلی مکثل ہے۔ اس مجموعے میں شامل افسانے 1967ء سے 1984ء کے درمیان لکھے گئے تھے۔ کتاب کا عنوان ہی ان کے فکری کرب اور وجودی بے چینی کی عکاسی کرتا ہے۔

اس مجموعے کے افسانوں میں مندرجہ ذیل موضوعات نمایاں ہیں:
1. ہجرت اور بے وطنی: 1971ء کے واقعات اور ہجرت کے تجربات نے ان کے افسانوں پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ "بے زمین بے آسمان” میں ہجرت کی نفسیاتی کیفیات، نئے ماحول میں سمونے کی جدوجہد اور ماضی کی یادیں نہایت ہی مؤثر انداز میں پیش کی گئی ہیں۔
2. شناخت کا بحران: تقسیم ہند اور ہجرت کے بعد کے دور میں شناخت کا مسئلہ جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کے لیے ایک اہم موضوع رہا ہے۔ علی حیدر ملک کے افسانوں میں یہ موضوع مختلف پہلوؤں سے ابھرتا ہے۔
3. سماجی ناہمواری اور استحصال: ترقی پسند فکر کے تحت انہوں نے سماجی ناانصافی، طبقاتی تفریق اور استحصال کے موضوعات کو اپنے افسانوں میں جگہ دی۔
4. انسان کی داخلی تنہائی: جدید زندگی میں انسان کے تنہا ہونے کے احساس کو انہوں نے بڑی مہارت سے بیان کیا ہے۔

علی حیدر ملک کا افسانوی اسلوب سادہ، براہ راست اور غیر نمائشی ہے۔ وہ مشکل الفاظ یا پیچیدہ جملوں کے بجائے عام فہم زبان استعمال کرتے ہیں۔ ان کا یہ سادہ اسلوب دراصل ان کی فکر کی گہرائی کو زیادہ مؤثر طریقے سے پیش کرتا ہے۔

ان کے افسانوں کی کچھ خصوصیات درج ذیل ہیں:

1. کردار نگاری: ان کے کردار عام زندگی سے لیے گئے ہوتے ہیں۔ وہ ہیرو نہیں ہوتے بلکہ عام انسان ہوتے ہیں جو زندگی کے مسائل سے نبرد آزما ہیں۔
2. منظر نگاری: وہ منظر نگاری میں ماہر ہیں۔ چند جملوں میں وہ پورا ماحول قاری کے سامنے لے آتے ہیں۔
3. ڈائیلاگ: ان کے ڈائیلاگ فطری اور حقیقی محسوس ہوتے ہیں۔ کرداروں کی نفسیات کے مطابق ان کے مکالمے ترتیب دیتے ہیں۔
4. علامتیں: وہ علامتوں کا استعمال بڑی مہارت سے کرتے ہیں۔ "بے زمین بے آسمان” کا عنوان خود ایک گہری علامت ہے۔

"بے زمین بے آسمان” کے علاوہ علی حیدر ملک کے افسانوں کا ایک اور مجموعہ "علی حیدر ملک کے افسانے” 2015ء میں رنگِ ادب پبلیکیشنز سے شائع ہوا۔ اس مجموعے میں ان کے منتخب افسانے شامل ہیں جو ان کی تخلیقی صلاحیتوں کا مکمل اظہار ہیں۔

علی حیدر ملک کی تنقید میں فکری گہرائی، معروضیت اور توازن نمایاں ہیں۔ وہ ادب کو سماجی اور تاریخی تناظر میں دیکھنے کے قائل تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ ادب محض ذاتی جذبات کا اظہار نہیں بلکہ سماجی حقیقتوں کا آئینہ ہونا چاہیے۔ ان کی تنقید میں نظریاتی سختی کم اور فکری لچک زیادہ نظر آتی ہے۔ وہ ترقی پسند فکر سے وابستہ ہونے کے باوجود ہر قسم کے تعصب سے آزاد رہے۔ ان کی تنقید میں اختلاف رائے کے لیے گنجائش ہوتی تھی اور وہ ادبی مکالمے کو اہمیت دیتے تھے۔

علی حیدر ملک کی سب سے اہم تنقیدی تصنیف "ادبی معروضات” ہے جو 2007ء میں شائع ہوئی اور اردو ادب میں ایک نمایاں حوالہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے ادب اور سماج کے باہمی رشتے پر روشنی ڈالی، ترقی پسند ادبی تنقید کے اصول و طریقہ کار کو واضح کیا، معاصر اردو افسانے، شاعری اور تنقید کا معروضی تجزیہ پیش کیا، اور مختلف ادبی نظریات کے اطلاق پر جامع بحث کی۔ ان کا مؤقف ہے کہ ادب سماج سے الگ نہیں رہ سکتا بلکہ اس کی معنویت اور تشکیل سماجی حالات سے جڑی ہوتی ہے۔ ترقی پسند فکر کے تناظر میں وہ تنقید کو نئے زاویوں سے دیکھتے ہیں اور ادب کے عملی و فکری پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ "ادبی معروضات” اردو تنقید کے طلبہ اور محققین کے لیے ایک معتبر اور رہنما کتاب ہے، جس میں علی حیدر ملک کا فکری توازن، گہرا مطالعہ اور معروضی نقطہ نظر نمایاں طور پر جھلکتا ہے۔

آئندہ منصوبے 1985ء میں مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد نے شائع کی۔ یہ کتاب دراصل اردو زبان و ادب کے مستقبل کے منصوبوں اور سمتوں پر غور و فکر کرتی ہے۔ اس میں انہوں نے اردو زبان کی ترقی، ترویج اور جدید تقاضوں کے مطابق ڈھلنے کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ یہ کتاب ان کی فکری دور اندیشی اور ادبی منصوبہ بندی کی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے۔ وہ محض موجودہ حالات تک محدود نہیں تھے بلکہ مستقبل کے چیلنجوں اور مواقع پر بھی غور کرتے تھے۔

"اردو ٹائپ اور ٹائپ کاری” 1989ء میں مقتدرہ قومی زبان نے شائع کی۔ یہ کتاب اردو زبان کے تکنیکی اور فنی پہلوؤں پر مرکوز ہے۔ اس میں اردو ٹائپ، طباعت، کمپوزنگ اور گرافکس کے مسائل پر تفصیلی بحث کی گئی ہے۔ یہ کتاب اس لحاظ سے اہم ہے کہ اردو ادب میں تکنیکی موضوعات پر کم کام ہوا ہے۔ علی حیدر ملک نے نہ صرف ادبی تنقید بلکہ زبان کے عملی اور تکنیکی مسائل پر بھی گہری نظر رکھی۔

"منتخب مقالات” (1989) علی حیدر ملک کے مختلف ادبی موضوعات پر لکھے گئے مضامین کا مجموعہ ہے۔ اس میں انہوں نے ادب، زبان، ثقافت اور سماج کے مختلف پہلوؤں پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔

علی حیدر ملک نے صبا اکرام کے ساتھ مل کر 1996ء میں "شہزاد منظر: فن اور شخصیت” کے عنوان سے ایک کتاب مرتب کی، جو اردو ادب کے ممتاز ادیب اور شاعر شہزاد منظر کے فن اور شخصیت کا متوازن اور دیانت دارانہ تجزیہ پیش کرتی ہے۔ اس کتاب میں ان کی شاعری کے فنی، لسانی اور فکری پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے، شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو سامنے لایا گیا ہے اور ان کی ادبی خدمات کا جامع جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ یہ تصنیف علی حیدر ملک کی تحقیقی سنجیدگی، تنقیدی بصیرت اور معروضی نقطہ نظر کا ثبوت ہے، جس میں انہوں نے کسی ادبی شخصیت کے تعارف میں افراط و تفریط سے گریز کرتے ہوئے متوازن اور علمی رویہ اختیار کیا۔

علی حیدر ملک نے ترجمہ نگاری کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں، جن کی جھلک ان کی کتاب "عمر خیام اور دوسری غیر ملکی کہانیاں” (1999ء) میں ملتی ہے۔ ان کے ترجمے کی خصوصیات میں اصل متن کی روح اور لہجے کو برقرار رکھنا، زبان کی سادگی اور عام فہمی، اور ثقافتی حساسیت شامل ہیں، جس کے ذریعے وہ مختلف تہذیبوں کے فرق کو مدنظر رکھتے ہوئے ترجمہ کرتے تھے۔ اس مجموعے میں شامل کہانیوں نے اردو قارئین کو عالمی ادب سے روشناس کرایا، اعلیٰ معیار اور اصل متن کے قریب تراجم پیش کیے، اور موضوعاتی و اسلوبی تنوع کو اجاگر کیا۔ یہ کتاب نہ صرف اردو ادب کو عالمی ادب سے جوڑنے کا ذریعہ بنی بلکہ ثقافتی تبادلے اور بین اللسانی روابط کو فروغ دینے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے، جو علی حیدر ملک کی فکری وسعت اور ترجمہ نگاری کی سنجیدگی کا ثبوت ہے۔

علی حیدر ملک ترقی پسند تحریک سے فکری طور پر وابستہ تھے۔ ترقی پسند تحریک کے بنیادی اصول سماجی انصاف، انسان دوستی، استحصال کے خلاف جدوجہد – ان کی تخلیقات میں واضح طور پر نظر آتے ہیں۔ تاہم وہ ترقی پسند تحریک کے کٹر پیروکار نہیں تھے۔ انہوں نے ترقی پسند فکر کو اپنے تخلیقی اظہار کا حصہ بنایا لیکن اس میں اپنی انفرادیت اور تخلیقی آزادی کو قائم رکھا۔

علی حیدر ملک کی تخلیقات میں سماجی شعور اور تاریخی آگہی نمایاں ہیں۔ وہ اپنے عہد کے سماجی، سیاسی اور ثقافتی مسائل کو گہری نظر سے دیکھتے اور انھیں اپنی تحریروں میں پیش کرتے تھے۔ ان کی تاریخی آگہی صرف ماضی تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ حال کو سمجھنے اور مستقبل کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریریں آج بھی اہم اور متعلقہ محسوس ہوتی ہیں۔

علی حیدر ملک ادب کو محض تفریح نہیں بلکہ ایک سماجی ذمہ داری سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک ادیب کا اصل کام قاری کو سوچنے پر آمادہ کرنا، اس کی آگہی میں اضافہ کرنا اور سماجی تبدیلی کا ذریعہ بننا ہے، اسی لیے ان کی تحریریں سطحی پن اور بے مقصدیت سے پاک ہیں اور ہر تحریر میں ایک واضح مقصد اور پیغام موجود ہوتا ہے۔ تدریس کے دوران وہ نئے لکھنے والوں کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کرتے، طلبہ کو ادب پڑھانے کے ساتھ ساتھ ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کی کوشش کرتے تاکہ اردو ادب میں نئی آوازیں سامنے آئیں اور اس کا سفر جاری رہے۔ ان کی شخصیت سادگی اور انکسار، فکری گہرائی، ادبی دیانت اور صبر و تحمل جیسی خوبیوں سے مزین تھی، اور وہ شہرت و ناموری سے دور رہ کر خلوص کے ساتھ علمی و ادبی خدمات انجام دیتے رہے۔ ان کی زندگی اور کام نئی نسل کے لیے کئی سبق رکھتے ہیں: ادبی دیانت کے بغیر کامیابی ممکن نہیں، نظریاتی وابستگی کے باوجود فکری آزادی ضروری ہے، ادیب کی سماجی ذمہ داری ہمیشہ مقدم رہتی ہے، اور مشکلات کے باوجود استقامت ہی اصل کامیابی کا راز ہے۔

علی حیدر ملک کی وفات کے بارے میں مختلف معلومات ملتی ہیں۔ ریختہ کے پلیٹ فارم کے مطابق ان کا انتقال کھلنا، بنگلہ دیش میں ہوا۔ تاہم، ان کی تاریخ وفات کے بارے میں واضح معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ بعض ذرائع ان کی وفات کا سال 2019ء بتاتے ہیں لیکن اس کی کوئی مصدقہ تصدیق نہیں ملتی۔ ان کی وفات کی تاریخ کا غیر واضح ہونا شاید ان کی شخصیت کی عکاسی کرتا ہے – وہ زندگی میں بھی خاموشی اور گمنامی سے کام کرتے رہے اور وفات کے بعد بھی ان کا نام تو روشن رہا لیکن ان کی ذاتی تفصیلات پردہ اخفا میں رہیں۔

علی حیدر ملک کا کام آج کے دور میں بھی اہم اور متعلقہ ہے۔ ہجرت، شناخت کے بحران، سماجی ناانصافی جیسے موضوعات آج بھی اتنے ہی اہم ہیں جتنے ان کے دور میں تھے۔ ان کی تحریریں آج کے قاری کو نہ صرف ماضی سے روشناس کراتی ہیں بلکہ حال کو سمجھنے میں بھی مدد دیتی ہیں۔ ان کا فکری توازن، معروضیت اور سماجی شعور آج کے ادیبوں کے لیے مشعل راہ ہے۔

علی حیدر ملک اردو ادب کے ایک ایسے ادیب تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی ادب کی خدمت میں گزاری۔ انہوں نے افسانہ، تنقید، تحقیق اور ترجمہ نگاری کے میدانوں میں ایسے کام کیے جو نہ صرف معیاری ہیں بلکہ فکری گہرائی اور سماجی اہمیت کے حامل بھی ہیں۔

آج جب ادب میں سطحیت اور بے مقصدیت بڑھ رہی ہے، علی حیدر ملک کا کام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حقیقی ادب وہی ہے جو فکری گہرائی، سماجی شعور اور ادبی دیانت کا حامل ہو۔ ان کی تحریریں آج بھی ہمارے لیے فکری غذا کا کام دیتی ہیں اور یہ ثابت کرتی ہیں کہ سچا ادب کبھی پرانا نہیں ہوتا۔

علی حیدر ملک کی زندگی اور کام اردو ادب کے طلبہ، محققین اور ادب سے دلچسپی رکھنے والے ہر شخص کے لیے ایک سبق ہے۔ وہ ہمیں سکھاتے ہیں کہ ادب محض تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ فکر، شعور اور تبدیلی کا وسیلہ ہے۔ ان کا نام اردو ادب کی تاریخ میں ہمیشہ عزت اور احترام کے ساتھ یاد رکھا جائے گا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے