نبی ﷺ کی رشتے داریاں

"نبی ﷺ کی رشتے داریاں” وہاج احمد کی سیرت پر آنے والی نئی کتاب ہے جسے نیشنل بک فاؤنڈیشن اسلام آباد نے شائع کیا ہے۔ یہ ایک ضخیم کتاب ہے جو 435صفحات پر مشتمل ہے۔اس کتاب کو بہت اعلیٰ معیار کے کاغذ پر شائع کیا گیا ہے جس کی وجہ سے اس کی قیمت 3000 روپے سے زائد مقرر کی گئی ہے۔ وہاج احمد ایک سیرت نگار اور محقق ہیں اور اس سے قبل بھی متنوع موضوعات پر کئی کتب تصنیف کر چکے ہیں۔اس کتاب میں بھی انھوں نے نہایت احسن طریقے سے نبی ﷺ کی رشتے داریوں کو بیان کیا ہے۔

کتاب کی خاص بات اس کا تحقیقی اسلوب ہے۔مصنف نے نہایت استقامت اور ذمہّ داری سے تحقیقی شواہد کی روشنی میں تمام تر موصولہ مواد کا تجزیہ کیا اورچھان پھٹک کے بعد صرف اس مواد کو اپنی تحقیق میں شامل کیا جو مستند تھا۔اگر کہیں کوئی مشکل پیش آئی تو مصنف نے تحقیقی اصولوں کے مطابق اسے دلائل کی روشنی میں پرکھا اورجانا۔تحقیقی کام میں مآخذ نہایت اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔مصنف نے اکثر اوقات بنیادی مآخذ سے استفادہ کیا اور اکابرین کی سیکڑوں کتب کی عرق ریزی کے بعد حقائق کو قرطاس پر منتقل کیا۔تاریخ،سیرت اور احادیث کی کتب کے حوالے مصنف کی اس کوشش کو مستند بناتے ہیں۔محمدبن اسحاقؒ،محمد بن عمر الواقدیؒ،عبدالمک ابن ہشامؒ اور محمد بن سعدؒجیسے تاریخ دانوں اور سیرت نگاروں کے حوالے اس کتاب میں جا بجا ملتے ہیں۔

کتاب کو دس(10) اجزا میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر جز کے اختتام پرقاری کی سہولت کے لئے اس جز کا خلاصہ درج کیا گیا ہے۔پہلا جز نبی اکرم ﷺ کے نسبِ پاک کے متعلق ہے جب کہ دوسرے جز میں آپؐ کے والدین کریمین،دادا،دادی اور نانا،نانی کا ذکر ہے۔تیسرے جز میں آپؐ کے چچاؤں،ان کی بیویوں،ان کی اولادوں،دامادوں اور بہوؤں کا تذکرہ ہے۔جزنمبر چار میں نبیﷺ کی پھوپیوں،ان کے شوہروں،ان کی اولادوں،دامادوں اور بہوؤں کا مختصر ذکر کیا گیا ہے۔پانچویں جز میں ازواجِ مطہرات کا ذکر ہے جب کہ چھٹے جز میں آپؐ کی سوتیلی اولاد کا تذکرہ ہے۔ساتوں جز میں آپؐ کے سسرالی رشتے داروں کا احاطہ کیا گیا ہے جب کہ آٹھویں جز میں آپ کے رضاعی رشتوں کا احوال مذکور ہے۔نویں جز میں اصحابِ صفہ کے جان نثاروں کی تفصیل ہے اور دسویں جز میں آپؐ کے آزاد کردہ غلاموں اور رضاکار خادمین کا مختصر ذکر کیا گیا ہے۔

قاری کی دلچسبی کو قائم رکھنے کے لئے کتاب میں اہم واقعات کوزمانی ترتیب سے بیان کیا گیا ہے۔قارئین کی آسانی کے لئے کتاب کے شروع میں ان اصلاحات کی تشریح بھی کر دی گئی ہے جو بار باراس کتاب میں استعمال ہو رہی ہیں۔کتاب کے آغاز میں واقعات کی تواریخ کو بآسانی ذہن نشین کرنے کے لئے پہلے سو ہجری سالوں کی تاریخیں عیسوی کیلنڈر کے مطابق درج کر دی گئیں ہیں۔کتاب کے شروع میں حدیث،تاریخ اور سیرت کی ان کتب کو بھی زمانی ترتیب سے درج کردیا گیا ہے جو بنیادی مآخذ کے طور پر استعمال کی گئیں۔کتاب کے مصنف وہاج احمد تحسین کے مستحق ہیں کہ انھوں نے اس ادق موضوع کو نہایت سلیقے سے قلم بند کیا ہے۔اللہ تعالیٰ ان کی توفیقات میں اضافہ فرمائے۔آمین یا رب العلٰمین۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے