محترم جناب سیکریٹری عثمان احمد صاحب!
آج میں آپ کو براہ راست مخاطب کر رہا ہوں۔ اگر یہ براہ راست انداز خطاب آپ کو ناگوار گزرے تو پیشگی معذرت خواہ ہوں۔ مگر کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جو فائلوں، نوٹس اور رپورٹس کے بجائے دل سے دل تک پہنچانے کی ضرورت ہوتی ہیں، میں بھی اپنے دل کی بات آپ کے دل و دماغ تک، آپ کو ڈائریکٹ مخاطب کرکے پہنچانا چاہتا ہوں۔
محترم جناب!
برسوں سے آپ کے بارے میں یہی سنا ہے کہ آپ ایک وژنری آفیسر ہیں، ایک ایسا افسر جو محض دفتری کارروائی نہیں بلکہ اثرات اور نتائج پر یقین رکھتا ہے۔ اللہ کرے میرا سنا ہوا سچ ثابت ہو۔
سیکریٹری صاحب!
اللہ تعالیٰ نے آپ کو بنیادی تعلیم جیسا جلیل القدر منصب سنبھالنے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔اللہ کرے آپ اس ڈیپارٹمنٹ کو چار چاند لگانے میں کامیاب ہوجائیں۔
جناب سیکریٹری صاحب!
جب بھی میں نے انہی صفحات پر تعلیم کے مسائل، خصوصاً طالبات اور اساتذہ کے مسائل قلم بند کیے، تو اکثر اربابِ اختیار کی ناراضی اور ناروا رویوں کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر کیا کروں! مجھے تعلیم سے عشق ہے، شغف ہے، محبت ہے، وابستگی ہے، میں عصری علوم اور دینی علوم کا بیک وقت استاد ہوں۔ اور اگر میرے دس جنم بھی ہوتے تو میں ہر جنم میں استاد ہی بنتا۔
محترم عثمان صاحب!
گلگت شہر، گلگت بلتستان کا دارالحکومت ہے، اور اس کے بالکل دامن میں، آپ کے مرکزی سیکریٹریٹ، عدالتِ عالیہ اور صوبائی اسمبلی سے محض پچیس کلومیٹر کے فاصلے پر ایک بڑی، گنجان اور محروم آبادی آباد ہے، جسے پڑی بنگلہ کہا جاتا ہے۔
سچ کہوں تو یہ علاقہ زندگی کی کئی بنیادی سہولیات سے محروم ہے، مگر میرے نزدیک سب سے بڑی محرومی طالبات کی تعلیم ہے۔ آپ کا آبائی گاؤں چھوموگڑھ ہے، اس کے بالمقابل پڑی بنگلہ میں اس وقت ہزاروں معصوم بچیاں موجود ہیں، جو پانچویں جماعت پاس کرنے کے بعد تعلیم جیسی بنیادی ضرورت سے مکمل طور پر محروم ہو جاتی ہیں۔
میں نے دو ہزار بائیس میں پڑی بنگلہ منتقل ہونے کے بعد پڑی بنگلہ کی غریب طالبات کی تعلیم پر ایک کالم لکھا تھا۔ دوستوں نے بتایا کہ چیف سیکریٹری وانی صاحب نے وہ کالم "ایکشن فورم” کے گروپ میں شیئر کیا ہے۔ یقین جانیں، اس دن مجھے بے حد خوشی ہوئی تھی کہ شاید اب گرلز پرائمری اسکول میں فوری طور پر مڈل اور میٹرک کی کلاسز کے اجرا کا حکم صادر ہو جائے گا۔کیونکہ گرلز ہائی سیکنڈری سکول کی عمارت بن کر تیار تھی۔مگر افسوس! طویل انتظار کے باوجود ایسا نہ ہو سکا۔
سیکریٹری صاحب!
گرلز ہائی سیکنڈری اسکول کی شاندار عمارت برسوں پہلے تعمیر ہو چکی ہے۔ گزشتہ سے پیوستہ سال ایجوکیشن فیلو پروگرام کے ذریعے معلمات کی کمی بھی بڑی حد تک پوری کر دی گئی۔ اس کے باوجود آج تک یہ اسکول صرف پرائمری سطح تک محدود ہے۔
یوں غریب طالبات کے لیے مڈل اور میٹرک محض ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔
ایک عجیب اور خوشگوار حقیقت یہ بھی ہے کہ پڑی بنگلہ کی بچیوں کی بنیادی تعلیم کے لیے چند دینی مدارس اور مولوی صاحبان نے گھروں کسی حد تک انتظام کر رکھا ہے، میرے گھر میں بھی انتہائی محدود پیمانے پر، طالبات کی بنیادی دینی تعلیم مفت دی جاتی ہے، مگر مڈل اور میٹرک جیسی عصری اور لازمی تعلیم کے لیے سینکڑوں طالبات اور ان کی مائیں بے بسی سے صرف آسمان کی طرف دیکھ رہی ہیں۔ اور شاید انتظار میں ہیں کہ کوئی مسیحا آجائے۔
محترم سیکرٹری صاحب!
میری آپ سے مودبانہ گزارش ہے کہ کسی دن بغیر اعلان، بغیر پروٹوکول، خاموشی سے گرلز اسکول پڑی بنگلہ کا خود وزٹ کیجیے۔ مصدق ذرائع سے معلومات لیجیے۔
اگر آپ نے یہ ذمہ داری صرف ماتحت افسران کو سونپی یا علاقے کے چند معتبرین سے رائے لی، تو ممکن ہے سب کچھ "اوکے”رپورٹ ہو جائے۔
مگر اگر آپ خود کثرت آبادی کا مشاہدہ کریں، اسکول کا دورہ کریں، طالبات، ماؤں اور عام لوگوں سے براہ راست بات کریں اور معلومات لیں، تو مجھے یقین ہے کہ ایک ذمہ دار اور حساس سیکریٹری کی حیثیت سے آپ فوری طور پر ہائی سیکنڈری تک کلاسز کے اجرا کا حکم دیں گے۔
سیکریٹری صاحب!
کیا آپ مجھ سمیت ہزاروں طالبات کی اس جائز اور بنیادی خواہش کا احترام کرتے ہوئے، ہنگامی اور ترجیحی بنیادوں پر گرلز اسکول پڑی بنگلہ میں کم از کم میٹرک تک کلاسز کے اجرا کا حکم جاری کرکے دعائیں سمیٹیں گے؟
اگر آپ نے میری اس استدعا پر عمل کیا تو یقین جانیے، اجرِ عظیم صرف آپ کے حصے میں نہیں آئے گا، بلکہ میں بھی اس کارِ خیر میں شریکِ اجر ٹھہروں گا، کیونکہ میں نے قلم کے ذریعے آپ کو اس نیکی کی طرف متوجہ کیا۔
آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں کہ
ایک پڑھی لکھی ماں ہی ایک باشعور قوم کی بنیاد رکھتی ہے اور اس ماں کو "پڑھی لکھی” بننے کے لئے آپ بنیاد بن کر دو جہانوں میں اجرعظیم کے مستحق ٹھہر سکتے ہیں۔ اور پڑی بنگلہ کی غریب طالبات اور ان کے خاندانوں کے لیے "مسیحا” بن سکتے ہیں۔