عورت کی تعلیم اور ہمارا معاشرہ

آج کی دنیا نہایت تیز رفتاری کے ساتھ ترقی کی منازل طے کر رہی ہے۔ ایک پڑھی لکھی خاتون ہی اس نئے ماحول سے بہتر طور پر مطابقت پیدا کر سکتی ہے۔

عورت کائنات کا جمال، شاہکار اور ایک دلکش وجود ہے، جس کے دم سے حیات قائم ہے۔ عورت کے بغیر انسانی نسل کا استحکام اور نشوونما ناممکن ہے۔ عورت ماں کے روپ میں بے لوث محبت، شفقت، ہمدردی، ایثار اور قربانی کی انمول داستان ہے۔ عورت بیوی کی صورت میں خلوص، وفاداری اور چاہت کا حسین افسانہ ہے۔ عورت بہن کی شکل میں اللہ تعالیٰ کی بہترین نعمت ہے تو بیٹی کے روپ میں خدا کی رحمت ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ عورت انسانیت کی عزت ہے۔ مذہبِ اسلام نے عورت کو مرد کے برابر مقام و مرتبہ عطا فرما کر اس کی حیثیت متعین کر دی ہے۔ تاریخِ اسلام میں خواتین کی ہمت و جرأت کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔

اسی لیے کسی دانا کا قول ہے کہ ماں کی گود بچے کی پہلی درس گاہ ہے۔ بچہ اس درس گاہ سے جو کچھ سیکھتا ہے وہ اس کی آئندہ زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ بچے کی بہترین تربیت کے لیے ماں کا تعلیم یافتہ ہونا بے حد ضروری ہے۔

مفکرین کی رائے میں:

“مرد کی تعلیم ایک فرد کی تعلیم ہے، جبکہ عورت کی تعلیم ایک خاندان کی تعلیم ہے۔”

علامہ اقبال کے فارسی شعر کا مفہوم ہے کہ قوموں کو کیا پیش آ چکا ہے، کیا پیش آ سکتا ہے اور کیا پیش آنے والا ہے، یہ سب ماؤں کی جبینوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔

مذہب کو انسانی زندگی میں خاص مقام حاصل ہے۔ مذہب کی بنیادی تعلیمات اور اہم مسائل سے آگاہی مرد کے ساتھ ساتھ عورت کے لیے بھی اشد ضروری ہے۔ ایک پڑھی لکھی عورت دینی و مذہبی تعلیمات اور مسائل سے بہتر طور پر واقف ہوتی ہے۔ وہ اپنی اولاد کی تربیت دینی اصولوں کی روشنی میں بہتر انداز سے کر سکتی ہے اور ملک و ملت کی تقدیر سنوارنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ لیکن ایک ناخواندہ عورت جو دین و مذہب کی تعلیمات سے نا آشنا اور غیر سلیقہ شعار ہو، وہ بچوں کی تعلیم و تربیت کے فرائض بھی بہتر طریقے سے ادا نہیں کر سکتی۔

موجودہ دور سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ دنیا ایک عالمی گاؤں میں تبدیل ہو چکی ہے۔ اگر کسی ملک کی نصف آبادی، یعنی خواتین، پسماندہ ہوں تو وہ قوم کبھی ترقی نہیں کر سکتی۔ لہٰذا عورتوں کے لیے تعلیم کا حصول اور معلوماتِ عامہ سے آراستہ ہونا نہایت ضروری ہو چکا ہے۔

آج کی دنیا نہایت تیز رفتاری سے ترقی کر رہی ہے، اس لیے ایک تعلیم یافتہ عورت ہی اس نئے ماحول سے ہم آہنگ ہو سکتی ہے۔ ایک پڑھی لکھی عورت پیغام رسانی بہتر انداز میں کر سکتی ہے، اپنی رائے کا اظہار اعتماد کے ساتھ کر سکتی ہے اور ملک کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ وہ اپنے خاندانی اور معاشرتی فرائض و ذمہ داریوں سے بھی بخوبی آگاہ ہوتی ہے۔

ضروری نہیں کہ عورت تعلیم حاصل کر کے ملازمت ہی کرے، بلکہ عورت کی اولین ذمہ داری اس کے گھر اور اولاد کی تربیت ہے، جس کا پورے معاشرے پر گہرا اثر پڑتا ہے۔

انسان جب زیورِ تعلیم سے آراستہ ہوتا ہے تو واقعی انسان کہلانے کے قابل بنتا ہے۔ ہر دور میں تعلیم یافتہ افراد کی قدر و قیمت رہی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے