دنیا کی سیاست میں امن کی میزیں ہمیشہ خاموش سوالوں سے بھری ہوتی ہیں۔ ان میزوں پر الفاظ تو انسانیت، جنگ بندی اور مفاہمت کے ہوتے ہیں، مگر فیصلے اکثر طاقت، مفاد اور اثر و رسوخ کی بنیاد پر طے پاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی جانب سے بورڈ آف پیس میں شمولیت کا فیصلہ محض ایک سفارتی خبر نہیں بلکہ ایک سنجیدہ قومی بحث کو جنم دیتا ہے۔ سوال سادہ ہے مگر گہرا: امن کس قیمت پر؟
بظاہر یہ فورم ایک مثبت تصور کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ جنگ زدہ علاقوں میں انسانی امداد، جنگ بندی کی حمایت اور استحکام کی باتیں دل کو تسلی دیتی ہیں۔ خصوصاً غزہ جیسے المیے کے تناظر میں پاکستان کی شمولیت اخلاقی طور پر قابلِ فہم دکھائی دیتی ہے۔ پاکستان ہمیشہ فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور بین الاقوامی قانون کی بات کرتا آیا ہے۔ ایسے میں کسی امن کوشش سے خود کو الگ رکھنا بھی آسان فیصلہ نہیں تھا۔
لیکن عالمی سیاست میں نیت سے زیادہ اہم ڈھانچہ ہوتا ہے۔
بورڈ آف پیس اقوام متحدہ کے دائرہ کار سے باہر ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس کی قیادت اور سمت پر سوالات فطری ہیں۔ جب امن کے فیصلے طاقتور ریاستوں کی نگرانی میں ہوں تو غیر جانبداری کمزور ہو جاتی ہے۔ پاکستان کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ ماضی میں بعض عالمی اتحاد وقتی ضرورت کے تحت اختیار کیے گئے، مگر ان کے اثرات دہائیوں تک ملک کو بھگتنا پڑے۔
خطے کی حساس صورتحال بھی اس فیصلے کو پیچیدہ بناتی ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی توازن پر قائم ہے . امریکہ، چین، روس، مسلم دنیا اور خطے کے مفادات کے درمیان نازک ہم آہنگی۔ ایسے میں کسی ایک بلاک سے جڑے فورم میں شمولیت کا تاثر سفارتی توازن کو متاثر کر سکتا ہے، چاہے نیت کچھ بھی ہو۔
داخلی سطح پر بھی عوامی جذبات ایک حقیقت ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستانی عوام غزہ کی تباہی کو محض خبروں میں نہیں دیکھ رہے، وہ اسے دل پر محسوس کر رہے ہیں۔ اگر یہ امن فورم فلسطینیوں کو عملی تحفظ نہ دے سکا، اگر یہ محض بیانات تک محدود رہا، تو اس میں شرکت عوام کی نظر میں بے معنی سفارت کاری تصور کی جا سکتی ہے۔
ایک اور پہلو خاموش مگر اہم ہے . ذمہ داریوں کا بوجھ۔ ایسے عالمی فورمز وقت کے ساتھ محض مشاورت تک محدود نہیں رہتے۔ مالی، سیاسی اور سفارتی توقعات آہستہ آہستہ جنم لیتی ہیں۔ موجودہ معاشی حالات میں ہر اضافی وعدہ سوچ سمجھ کر اٹھایا جانا چاہیے۔
اس کے باوجود یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ عالمی سیاست میں غیر موجودگی بھی ایک کمزوری بن جاتی ہے۔
میز پر نہ بیٹھنے والا فیصلوں کا حصہ نہیں بنتا۔ پاکستان کی شمولیت اسے یہ موقع دیتی ہے کہ وہ اندر بیٹھ کر آواز اٹھائے، یک طرفہ بیانیے کو چیلنج کرے اور یہ یاد دہانی کراتا رہے کہ امن صرف جنگ بندی کا نام نہیں بلکہ انصاف کے بغیر ممکن نہیں۔
اصل امتحان اب شروع ہوتا ہے۔
اگر پاکستان نے اس فورم کو رسمی شرکت تک محدود رکھا تو تاریخ اسے ایک کمزور فیصلہ سمجھے گی۔ لیکن اگر پاکستان نے واضح مؤقف کے ساتھ انسانی حقوق، جنگ بندی کی نگرانی اور فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ مسلسل دہرایا تو یہی فورم دباؤ کی ایک موثر آواز بن سکتا ہے۔
امن کی میزیں کبھی غیر جانبدار نہیں ہوتیں۔ سوال یہ نہیں کہ ہم اس میز پر بیٹھے یا نہیں — اصل سوال یہ ہے کہ ہم وہاں خاموش رہے یا حق کے ساتھ کھڑے رہے۔
کیونکہ انصاف کے بغیر امن محض وقفہ ہوتا ہے . مستقل
حل نہیں۔