سن 2016 میں جب میں پشاور سے اسلام آباد منتقل ہوا تو اسی زمانے میں چند ہم خیال صحافی دوستوں نے اسلام آباد میں پشتون جرنلسٹس ایسوسی ایشن کی بنیاد رکھی۔ ان دوستوں میں راقم، سراج ظہیر، گوہرمحسود، افتخار مشوانی ، سجاد مشوانی ، سردار یوسفزئی، رحمت محسود، اختر منیر بیٹنی ، زاہد اللہ، عمران اشنا، طاہر جنید خٹک، صوفی یوسفزئی، اشفاق بنگش، ایاز خان اور دیگر شامل تھے۔ اسلام آباد کے جاسمین گارڈن میں ہونے والی ابتدائی میٹنگ میں تنظیم کی باقاعدہ تشکیل عمل میں آئی۔ یہی وہ نشست تھی جہاں سے میری اور سراج ظہیر کی دوستی کا آغاز ہوا، ایک ایسی رفاقت جو وقت کے ساتھ محض پیشہ ورانہ تعلق نہ رہی بلکہ خلوص اور اعتماد پر مبنی بھائی چارے میں ڈھلتی چلی گئی۔
سراج ظہیر ایک سینئر صحافی، باصلاحیت کالم نگار اور عملی میدان میں متحرک جرنلسٹ ہیں۔ انہوں نے آر ایف ای آر ایل کے ساتھ ایک دہائی سے زائد عرصہ نہایت پیشہ ورانہ انداز میں کام کیا۔ صحافت میں ان کی شناخت محنت، دیانت اور مسلسل جدوجہد سے جڑی ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میرا تعلق بھی رفتہ رفتہ اس سطح تک پہنچا جہاں ہم ایک دوسرے کو محض دوست نہیں بلکہ بھائی سمجھنے لگے۔ آج بھی ہمارے درمیان خاندانی نوعیت کے مراسم قائم ہیں جو وقت اور حالات کی سختیوں کے باوجود قائم و دائم ہیں۔
ایک دلچسپ اور محبت بھرا اتفاق یہ ہے کہ سراج ظہیر کا اصل نام سراج گل ہے، میرا اصل نام نسیم گل ہے اور ان کے بھائی کا نام حضرت گل ہے۔ اسی نسبت سے سراج گل اور حضرت گل اکثر محبت سے کہتے تھے کہ جب ہمارے نام کے ساتھ بھی “گل” ہے اور تمہارے نام کے ساتھ بھی تو ہم واقعی بھائی ہیں۔ اس تعلق کی جھلک گزشتہ برس سراج ظہیر کے صاحبزادے نعمان ظہیر کی شادی کے موقع پر دیکھنے کو ملی جب دعوت نامے پر چشمِ بر راہ کے ساتھ “سراج گل، حضرت گل اور نسیم مندوخیل” درج تھا۔ یہ محض نام نہیں بلکہ ایک ایسے رشتے کی علامت تھے جو خلوص، اعتماد اور احترام پر قائم ہو چکا تھا۔
سراج ظہیر سے میرا رشتہ صرف دوستی تک محدود نہیں رہا بلکہ وہ میرے لیے ایک استاد کی حیثیت بھی رکھتے ہیں۔ بین الاقوامی صحافت، انٹرنیشنل اسٹوریز اور جدید اسٹوری ٹیلنگ کے عملی اسرار و رموز میں نے انہی سے سیکھے۔ وہ خود کہا کرتے تھے:
“نسیم، ہم نے بیس برس میں جو سفر طے کیا تم نے وہ ایک ہی نشست میں طے کر لیا۔”
انہوں نے دو دہائیوں میں جو سیکھا، وہ مجھے ایک ہی نشست میں منتقل کر دیا اور میں نے بین الاقوامی اداروں کے لیے لکھنا شروع کیا اور عملی طور پر انٹرنیشنل جرنلزم میں قدم رکھا۔
میں نے آغاز میں سراج ظہیر کو صبر، استقامت اور حوصلے کا پہاڑ قرار دیا تھا، اور اب اسی اصل موضوع کی طرف آتا ہوں۔ مارچ 2020 میں سراج ظہیر کو فالج کا شدید دورہ پڑا۔ بلڈ پریشر کے اچانک حملے نے ان کے ہاتھ پاؤں کو مفلوج کر دیا، چہرہ متاثر ہوا اور بعد ازاں آنکھوں نے بھی کام چھوڑ دیا، جس کے باعث انہیں آنکھوں کا آپریشن بھی کروانا پڑا۔ یہ وہ مرحلہ تھا جب ایک انسان کو سب سے زیادہ ادارہ جاتی تعاون، حوصلے اور انسانی ہمدردی کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس وقت سراج ظہیر مشال ریڈیو کے ساتھ وابستہ تھے اور ایک اچھی ذمہ دارانہ پوزیشن پر کام کر رہے تھے۔ ان کی ماہانہ تنخواہ ڈالر کے حساب سے تیرہ سے چودہ سو ڈالر تھی اور میڈیکل سہولت بھی حاصل تھی۔ مگر بیماری کے بعد مشکلات شروع ہو گئیں۔ اخلاقی اور پیشہ ورانہ طور پر ادارے کا فرض تھا کہ وہ ایک بیمار اور سینئر صحافی کا ساتھ دیتا مگر بدقسمتی سے مشال ریڈیو کے پشتو سروس کے ہیڈ آف ڈپارٹمنٹ مدقق کے رویے نے ان کی مشکلات بڑھا دیں۔ مستقل تنخواہ روک دی گئی اور انہیں ماہانہ نظام سے نکال کر فی رپورٹ ادائیگی پر منتقل کر دیا گیا۔
یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب سراج ظہیر ایک طرف شدید بیماری سے لڑ رہے تھے اور دوسری طرف گھر، خاندان، بچوں اور علاج کی بھاری ذمہ داریاں ان کے کندھوں پر تھیں۔ فی رپورٹ ادائیگی محض تیس یا چالیس ڈالر بنتی تھی۔ ایک بیمار انسان سے یہ توقع رکھنا کہ وہ زیادہ سے زیادہ اسٹوریاں تلاش کرے اور اسی بنیاد پر اپنا ماہانہ گزارہ کرے، انسانی ہمدردی، اخلاقیات اور صحافتی اقدار کے مطابق نہیں تھا۔ ادارہ جاتی عدم توجہی اور ناانصافی کے باعث وہ شدید ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کا شکار ہوئے جس نے ان کی جسمانی بیماری کے ساتھ ساتھ ذہنی صحت پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔
مگر اس سب کے باوجود سراج ظہیر نے غیر معمولی جوانمردی کے ساتھ بیماری کا مقابلہ کیا۔ مسلسل علاج، حوصلے اور عزم کے ذریعے وہ بتدریج صحت یاب ہوئے اور پھر امریکہ کا رخ کیا۔ پاکستان سے امریکہ جا کر انہوں نے ایک نئے مرحلے کا آغاز کیا، جہاں تقریباً ڈیڑھ سال قیام کے بعد وہ دوبارہ وطن واپس لوٹے۔ پاکستان واپسی پر انہوں نے مایوسی کے بجائے محنت کو شعار بنایا اور اپنی فیملی کے لیے ازسرِنو جدوجہد شروع کی۔ بیماری، ناانصافی اور مسافری جیسے کٹھن مراحل کے بعد بھی ان کا حوصلہ پست نہ ہوا، بلکہ انہوں نے ثابت کیا کہ اصل طاقت جسم میں نہیں بلکہ انسان کے عزم اور حوصلے میں ہوتی ہے۔
سراج ظہیر آج بھی میرے نزدیک محض ایک سینئر صحافی یا دوست نہیں بلکہ واقعی صبر، استقامت اور حوصلے کا پہاڑ ہیں ایسا پہاڑ جو ٹوٹتا نہیں، جھکتا نہیں بلکہ دوسروں کو یہ سکھاتا ہے کہ مشکل ترین حالات میں بھی وقار، سچ اور حوصلے کے ساتھ جیا جا سکتا ہے۔
کہتے ہیں کہ مکافاتِ عمل دنیا میں ہی ہوتا ہے اور یہ مدقق کے ساتھ بھی ہوا جس نے سراج ظہیر کو ستایا اور تنگ کیا کہ وہ مشال ریڈیو سے استعفیٰ دیں۔ حالات نے اس کے اعمال کا صریح جواب دیا۔ جب ٹرمپ نے امریکی پابندیاں لگائیں تو مشال ریڈیو کو فنڈ اور وقت دیا گیا اور بالآخر مدقق کو ادارے سے فارغ کر دیا گیا۔ ایک دن فیس بک پر تصویر کے ساتھ اس کی پوسٹ دیکھی تو میں نے لکھا:
“مدقق صاحب، لگتا ہے بادشاہت ختم ہو گئی ہے۔”
جواب میں اس نے کہا:
“چودہ سال بادشاہت بھی بڑی بات ہے۔”
ایسی بادشاہت جس نے دوسروں کو تنگ کیا، دل دکھائے اور طاقت کا ناجائز استعمال کیا۔ دل میں آیا کہ سخت بات کہہ دوں کہ آپ نے بادشاہت چھوڑی نہیں بلکہ ختم کر دی گئی ہے مگر سوچا کہ اگر کسی نے دوسروں کے دل دکھائے ہیں تو میں کیوں اس کے دل کو ستاؤں؟ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی مکافاتِ عمل کے ذریعے اس کا حساب لے لیا۔ انسان کا کام صرف یہ ہے کہ سچ کو بیان کرے، انصاف کا علم بلند رکھے اور ضمیر زندہ رکھے۔
آخر میں میں اپنے تمام صحافی دوستوں، اہلِ قلم، اداروں اور مخیر حضرات سے اپیل کرتا ہوں کہ سراج ظہیر کی بیماری اور بے روزگاری کے اس کٹھن دور میں ان کا ساتھ دیں۔ یہ ساتھ مالی مدد کے ساتھ ساتھ اخلاقی اور ذہنی تعاون بھی ہو تاکہ وہ یہ محسوس نہ کریں کہ مشکل وقت میں وہ اکیلے ہیں۔ سراج ظہیر کے پیچھے ایک خاندان ہے اور مستقل علاج کی ضرورت ہے۔
اگر خدانخواستہ اس حالت میں سراج ظہیر کے ساتھ کوئی بڑا سانحہ پیش آ گیا تو یہ صرف ایک فرد کا نقصان نہیں بلکہ ہم سب کے ضمیر کو ملامت کرے گا۔ دنیا میں سراج ظہیر کوئی عام نام نہیں وہ صرف ایک ہیں اور وہ ہمارا سراج ظہیر ہیں۔ ایسے لوگ مشکل حالات میں زبان، وطن اور سچ کی خدمت اپنی ذات سے بڑھ کر کرتے ہیں۔ آج اگر وہ کمزور ہیں تو یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان کی ڈھال بنیں، کیونکہ انسانیت، صحافت اور بھائی چارہ یہی سکھاتا ہے کہ مشکل وقت میں ہاتھ تھام لیا جائے نہ کہ منہ موڑ لیا جائے۔
جو دوست، صحافی حضرات یا مخیر افراد سراج ظہیر کی اس مشکل گھڑی میں مالی، اخلاقی یا کسی بھی نوعیت کی مدد کرنا چاہتے ہوں وہ براہِ راست مجھ سے رابطہ کر سکتے ہیں۔
میں نسیم مندوخیل اس معاملے میں ذاتی طور پر رابطہ کار ہوں کیونکہ سراج ظہیر ہماری دوسری تنظیم نوے ژوند ادبی، ثقافتی اور فلاحی تنظیم کے سینئر رکن بھی ہیں۔ ان کی مدد صرف ایک فرد کی نہیں بلکہ ایک نظریے ایک زبان اور ایک سچے صحافی کی حوصلہ افزائی ہے۔
آئیے ہم سب مل کر یہ ثابت کریں کہ ہم زندہ ضمیر رکھنے والے لوگ ہیں جو اپنے دوستوں کو بیماری اور بے روزگاری کے اندھیروں میں تنہا نہیں چھوڑتے۔
رابطہ کے لیے ای میل: Zhwandfoundation8@gmail.com