یہ بات ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ انسان کا کیا گیا ایک چھوٹا سا عمل بھی دوسرے انسان پر گہرے اثرات چھوڑتا ہے۔ انسان کی موجودگی، اس کا رویہ، اس کی گفتگو اور اس کے معمولی سے معمولی فیصلے نہ صرف اس کے اپنے ماحول کو متاثر کرتے ہیں بلکہ اس کے آس پاس رہنے والے افراد بھی اس اثر سے محفوظ نہیں رہتے۔ یہ اثرات چھوٹے دائرے سے شروع ہو کر بڑے دائروں تک پھیلتے چلے جاتے ہیں۔ فرد سے خاندان، خاندان سے معاشرہ اور بعض اوقات پورا سماج بلکہ پوری دنیا اس کی لپیٹ میں آ جاتی ہے۔ جس شخص کا سماجی، معاشی یا علامتی مقام جتنا بلند ہوتا ہے، اس کی ہر بات اور ہر عمل کا اثر بھی اتنا ہی وسیع اور گہرا ہوتا ہے۔
اسی تناظر میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں جو شخصیات مشہور اور معروف ہوئیں، وہ کس بنیاد پر مقبول بنیں؟ ان کی مقبولیت کے پسِ منظر میں کون سے عوامل کارفرما تھے؟ اور سب سے اہم بات یہ کہ جب کوئی فرد کسی بھی وجہ سے کامیاب یا مقبول ہو جاتا ہے تو اس پر ایک غیر اعلانیہ مگر نہایت بھاری ذمہ داری عائد ہو جاتی ہے۔ اس ذمہ داری کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ وہ ہر قدم سوچ سمجھ کر، حکمت اور احتیاط کے ساتھ اٹھائے، کیونکہ اب وہ صرف اپنی ذات کا نمائندہ نہیں رہتا بلکہ اس کے عمل سے ہزاروں، بلکہ لاکھوں ذہن متاثر ہوتے ہیں۔ اس کی زندگی ایک مثال بن جاتی ہے، چاہے وہ اس کا اعتراف کرے یا نہ کرے۔
اگر ہم پی ٹی وی کے پرانے ڈراموں کو دیکھیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ اس دور میں مواد کس قدر بامقصد اور معاشرتی حقیقتوں سے جڑا ہوا تھا۔ وہ ڈرامے محض تفریح نہیں تھے بلکہ سماجی شعور پیدا کرنے کا ذریعہ بھی تھے۔
مثال کے طور پر ایک کہانی یہ دکھاتی تھی کہ ایک متوسط یا غریب طبقے سے تعلق رکھنے والی لڑکی اپنے سامنے والے گھر میں اپنی ہی عمر کی لڑکی کی شادی کو اس قدر نمود و نمائش، فضول خرچی اور دولت کی نمائش کے ساتھ دیکھتی ہے کہ اس کے ذہن پر اس کا شدید نفسیاتی اثر پڑتا ہے۔ وہ احساسِ کمتری، محرومی اور بے قدری کا شکار ہو کر خودکشی کر لیتی ہے۔ بعد ازاں اس کی ماں پولیس اسٹیشن جا کر مقدمہ درج کرواتی ہے اور کہتی ہے کہ میری بیٹی کو کسی نے چھری یا گولی سے نہیں مارا بلکہ اسے اس بے لگام نمائش نے قتل کیا ہے۔ یہ ایک ڈرامائی کہانی ضرور تھی، مگر اپنے وقت کے سماجی سیاق میں نہایت حقیقت کے قریب تھی۔
وہ پرانا دور تھا، ذرائع ابلاغ محدود تھے، اثرات کا دائرہ بھی نسبتاً چھوٹا تھا۔ مگر آج کا دور بالکل مختلف ہے۔ آج ایسی ہزاروں کہانیاں روز جنم لیتی ہیں۔ کچھ ہمیں نظر آ جاتی ہیں، کچھ خاموشی سے دفن ہو جاتی ہیں، بغیر کسی خبر، بغیر کسی شور کے۔ آج جب کسی مشہور اور طاقتور شخصیت کی زندگی کی نمود و نمائش میڈیا کے ذریعے پوری دنیا میں دکھائی جاتی ہے تو یہ سوال ناگزیر ہو جاتا ہے کہ کیا اس سے ہزاروں ذہن متاثر نہیں ہوں گے؟ کیا یہ مناظر ان لوگوں کے دلوں میں حسرت، احساسِ محرومی، مایوسی اور نفسیاتی دباؤ پیدا نہیں کریں گے جو پہلے ہی غربت، بے روزگاری اور سماجی دباؤ کا شکار ہیں؟
یہاں یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ خرچ کرنا بذاتِ خود کوئی برائی نہیں۔ اگر کوئی صاحبِ حیثیت ہے، اگر کوئی بادشاہ ہے تو وہ اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کرے گا اور اسے یہ حق بھی حاصل ہے۔ مسئلہ خرچ کرنے کا نہیں، مسئلہ اس خرچ کی نمائش اور اس کے سماجی اثرات کا ہے۔ خاص طور پر وہ لوگ جن کے ہاتھوں میں عوام کی امانت ہوتی ہے، جنہیں ریاستی یا سماجی طاقت حاصل ہوتی ہے، ان کے لیے اس طرح کی نمائش کسی طور زیب نہیں دیتی۔ ان کا کام رجحانات کو متوازن کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ ایسے رجحانات کو فروغ دینا جو معاشرے میں احساسِ کمتری، مقابلہ بازی اور غیر ضروری دباؤ کو جنم دیں۔
ایک ایسا ملک جہاں کی اکثریت غربت، مہنگائی اور عدم تحفظ کی زندگی گزار رہی ہو، اگر وہاں کے حکمران یا بااثر طبقے بے تحاشا نمائش کریں تو عوام کا اعتماد مجروح ہوتا ہے۔ لوگ یہ سوال کرنے لگتے ہیں کہ ہم کس پر بھروسا کریں؟ ہمیں کس سے امید رکھنی چاہیے؟ یہ محض سیاسی اختلاف کا معاملہ نہیں کہ کسی کو کسی جماعت سے جوڑ دیا جائے۔ یہ ایک گہرا سماجی مسئلہ ہے جو ہمارے معاشرے کو مزید بیمار کر رہا ہے۔ اس کا براہِ راست اثر انسانی نفسیات پر پڑتا ہے اور بالواسطہ طور پر شادی جیسے ادارے کو مزید پیچیدہ اور بوجھل بنا دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو نعمتیں عطا کی ہیں اور ان نعمتوں کا شکر ادا کرنا، ان سے فائدہ اٹھانا کوئی گناہ نہیں۔ مگر شکر اور نمائش میں فرق ہے۔ سب سے پہلے ضرورت ہوتی ہے، پھر آسائش آتی ہے، جو فطری اور قابلِ قبول ہے۔ اس کے بعد زیبائش بھی کسی حد تک قابلِ فہم ہو سکتی ہے۔ مگر جب یہ زیبائش نمائش میں بدل جائے تو یہ نہایت خطرناک شکل اختیار کر لیتی ہے۔ یہ نہ صرف انسان کو اندر سے خالی کر دیتی ہے بلکہ دوسروں کے لیے بھی اذیت، محرومی اور حسرت کا سبب بنتی ہے۔ اس کے اثرات صرف ایک نسل تک محدود نہیں رہتے بلکہ کئی نسلوں تک منتقل ہو سکتے ہیں۔
اسی لیے بحیثیتِ معاشرہ ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ جن لوگوں کے پاس اللہ کا دیا ہوا مال و دولت ہے، وہ اسے استعمال ضرور کریں، مگر ایسی نمائش کے ذریعے رجحانات قائم نہ کریں جو کسی کے غم میں اضافہ کرے، کسی کی مشکلات کو بڑھا دے، کسی کی جان لینے کا سبب بن جائے یا کسی کو شدید احساسِ کمتری میں مبتلا کر دے۔ ایسی نمائشیں بالآخر جرائم، نفسیاتی بیماریوں اور سماجی انتشار کا راستہ ہموار کرتی ہیں۔ ہمیں اجتماعی طور پر یہ کوشش کرنی چاہیے کہ ہم خیر کا سبب بنیں، شر کا نہیں، روشنی بانٹیں، اندھیرے نہیں۔ یہی ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد ہو سکتی ہے۔