یہ عام طور پر سمجھا جاتا رہا ہے کہ تجارت ہی وہ واحد ذریعہ ہے جو ریاستوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتی ہے، اختلافات ختم کرتی ہے، اور عالمی امن کو مضبوط کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر معاشی روابط، آزاد منڈی اور تجارتی تعاون کو امن کی بنیاد سمجھا جاتا رہا ہے۔ اگر منڈیوں کو آزاد چھوڑ دیا جائے، ریاستی سرحدیں تجارت کے لیے رکاوٹ نہ بنیں، اور کاروبار کو ہر ملک میں فروغ ملے تو اختلافات خود بخود ختم ہو جائیں گے.یہ وہ تصور تھا جسے جدید دنیا نے اپنایا۔ لیکن موجودہ عالمی حقیقت اس خوش فہمی کو چیلنج کرتی ہے۔ کتاب Weaponisation of Everything میں واضح کیا گیا ہے کہ تجارت اور معیشت اب صرف منافع یا ترقی کا ذریعہ نہیں رہی، بلکہ یہ طاقت اور دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال ہو رہی ہے۔
اس کتاب کے مطابق، وہ تمام شعبے جنہیں کبھی غیر جانبدار سمجھا جاتا تھا.تجارت، مالی نظام، ٹیکنالوجی، توانائی اور اطلاعات.آج عالمی طاقت کی جنگ کے مرکزی میدان بن چکے ہیں۔ خاص طور پر اقتصادی میدان میں تجارت کو اس طرح سے ہتھیار بنا دیا گیا کہ اس کے اثرات فوجی جنگ سے کم نہیں رہتے، مگر یہ جنگ بغیر کسی سرکاری اعلان کے چلتی رہتی ہے۔ اقتصادی طاقت کی اس نئی شکل میں ریاستیں اپنی برتری قائم رکھنے کے لیے معاشی پابندیاں، تجارتی رکاوٹیں، سرمایہ کے بہاؤ پر کنٹرول، اور عالمی منڈیوں میں رسائی جیسے آلات استعمال کرتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں تجارت امن کے بجائے تنازع کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اس مضمون میں ہم اسی اقتصادی پہلو کو سامنے رکھ کر یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ کس طرح تجارت کو بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے، اور اس کے کیا اثرات ہوتے ہیں۔
اقتصادی پابندیاں آج کے عالمی نظام میں طاقتور ریاستوں کا سب سے اہم ہتھیار بن چکی ہیں۔ ان پابندیوں کو عموماً "امن پسند” طریقہ کار کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، یعنی جنگ کے بغیر دشمن ملک کو سزا دینا یا اسے اپنی پالیسی بدلنے پر مجبور کرنا۔ مگر حقیقت میں پابندیاں اقتصادی جنگ کی ہی ایک شکل ہیں۔ جب کسی ملک کے بینکنگ نظام، توانائی کے شعبے، یا بنیادی صنعتوں پر پابندیاں لگائی جاتی ہیں تو اس کا اثر صرف حکومت پر نہیں بلکہ عام شہریوں، غریب طبقے اور نوجوانوں پر بھی پڑتا ہے۔ مہنگائی بڑھتی ہے، روزگار ختم ہوتے ہیں، اور عوام میں ناامیدی پھیلتی ہے۔ اس کے نتیجے میں ملک کے اندر سیاسی بے چینی بڑھتی ہے اور حکومت پر دباؤ بڑھتا ہے۔ کتاب کے مطابق پابندیاں ایک "خاموش جنگ” ہیں۔ یہ جنگ براہِ راست گولیوں سے نہیں بلکہ معاشی دباؤ سے جیتی جاتی ہے۔ اور چونکہ پابندیاں قانونی اور سفارتی زبان میں بیان کی جاتی ہیں، اس لیے انہیں جنگ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ مگر جب ایک ملک کی معیشت مفلوج ہو جاتی ہے تو اس کے اثرات جنگ سے کم نہیں ہوتے۔
آج دنیا میں تجارتی جنگیں عام ہو گئی ہیں۔ جب دو یا زیادہ طاقتور ممالک ایک دوسرے پر ٹیکس، ٹیرف یا دیگر تجارتی رکاوٹیں لگاتے ہیں تو اس کا مقصد صرف تجارت میں عدم توازن درست کرنا نہیں ہوتا بلکہ مخالف ملک کی صنعتی ترقی اور معاشی طاقت کو کمزور کرنا ہوتا ہے۔ اس دور میں ٹیکنالوجی، سیمی کنڈکٹرز، توانائی، اور اہم صنعتی اجزاء کو اسٹریٹجک اثاثے سمجھا جاتا ہے۔ جو ملک ان پر کنٹرول رکھتا ہے وہ عالمی سطح پر برتری حاصل کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر ایک ملک کسی دوسرے ملک کو اہم صنعتی اجزاء یا ٹیکنالوجی کی فراہمی روک دے تو اس ملک کی صنعت، دفاعی صلاحیت، اور معاشی ترقی متاثر ہوتی ہے۔ اس طرح تجارت کو ایک "قدرتی” عمل کی بجائے سیاسی ہتھیار بنا دیا جاتا ہے۔
عالمی سپلائی چین نے دنیا کو ایک دوسرے کے ساتھ گہرا جوڑ دیا ہے۔ آج ہر ملک کی صنعت کسی نہ کسی ملک کے خام مال، اجزاء یا ٹیکنالوجی پر منحصر ہے۔ یہ انحصار ایک طرف تعاون کی علامت ہے، مگر دوسری طرف ایک بڑا خطرہ بھی بن چکا ہے۔ جب کوئی طاقتور ملک سپلائی چین کو کنٹرول کر لیتا ہے، تو وہ دوسرے ملکوں کو دباؤ میں لا سکتا ہے۔ کتاب میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ سپلائی چین میں خلل ڈال کر کسی ملک کی معیشت کو کمزور کرنا، اس کی سیاسی خودمختاری کو متاثر کرنا اور اسے اپنی پالیسی بدلنے پر مجبور کرنا، ایک نئی جنگ ہے۔ سپلائی چین میں رکاوٹیں پیدا کرنے کے لیے کئی طریقے استعمال کیے جاتے ہیں: برآمدی پابندیاں، معیار کے قوانین، لائسنسنگ کے عمل کو مشکل بنانا، یا قدرتی بحران کو سیاسی بحران میں تبدیل کرنا۔ اس طرح کسی بھی ملک کو اس کے داخلی معاملات میں مداخلت سے بچنے کے لیے اپنے وسائل کو خود مختار بنانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
اقتصادی طاقت کی نئی جنگ میں مالیاتی نظام کا کردار سب سے زیادہ اہم ہے۔ عالمی بینکنگ نظام، کرنسی کا تسلط، اور سرمایہ کے بہاؤ کو کنٹرول کرنا، طاقتور ممالک کے لیے ایک مضبوط ہتھیار ہے۔ جب کسی ملک کو بین الاقوامی مالیاتی نظام سے الگ کیا جاتا ہے تو اس کی معیشت کا بنیادی ڈھانچہ متاثر ہوتا ہے۔ اس سے نہ صرف تجارت متاثر ہوتی ہے بلکہ حکومت کی روزمرہ ضروریات بھی پوری نہیں ہو پاتیں۔ کتاب کے مطابق، مالیاتی پابندیاں، SWIFT نظام سے نکالنا، اور بینکنگ نظام کو محدود کرنا، ایک ایسے ہتھیار کی مانند ہے جو دشمن کی معیشت کو اندر سے توڑ دیتا ہے۔ یہ ہتھیار اتنا طاقتور ہے کہ اس کا اثر فوجی طاقت سے بھی زیادہ دیرپا ہو سکتا ہے۔ کیونکہ معیشت کا زوال معاشرتی عدم استحکام، سیاسی بحران، اور انسانی مشکلات کو جنم دیتا ہے۔
آج بہت سی طاقتور ریاستیں اور عالمی ادارے ترقی پذیر ممالک کو قرضے اور سرمایہ کاری کے ذریعے اپنی طرف مائل کرتے ہیں۔ بظاہر یہ ترقی کا ذریعہ ہوتا ہے، مگر اس کے پیچھے ایک سیاسی مقصد بھی ہوتا ہے۔ قرضے اور سرمایہ کاری کے معاہدوں میں اکثر ایسی شرائط شامل ہوتی ہیں جو قرض لینے والے ملک کی پالیسیوں کو محدود کرتی ہیں۔ یہ شرائط کبھی کبھی ملکی خودمختاری کے خلاف بھی ہو سکتی ہیں۔ کتاب میں بتایا گیا ہے کہ اقتصادی امداد یا سرمایہ کاری کے ذریعے کسی ملک کو سیاسی طور پر دباؤ میں لانا بھی تجارت کا ایک خطرناک ہتھیار ہے۔ جب کسی ملک کو قرضے کی قید میں رکھا جاتا ہے تو وہ اپنی پالیسیوں میں آزادانہ فیصلے نہیں کر پاتا۔ اس طرح تجارت اور سرمایہ کاری ایک نئے نوآبادیاتی نظام کی شکل اختیار کر لیتے ہیں، جہاں طاقتور ممالک ترقی پذیر ممالک کے وسائل اور منڈیوں پر قبضہ کر لیتے ہیں۔
اقتصادی جنگ کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس کا حملہ عام عوام پر ہوتا ہے۔ فوجی جنگ میں ہدف زیادہ تر فوجی یا سیاسی قیادت ہوتا ہے، مگر اقتصادی پابندیوں اور تجارتی جنگوں میں عوام کا روزمرہ زندگی متاثر ہوتی ہے۔ خوراک، ادویات، بجلی، ایندھن، اور روزگار سب متاثر ہوتے ہیں۔ اس کا نتیجہ مہنگائی، بے روزگاری، اور سماجی انتشار کی صورت میں نکلتا ہے۔ کتاب کی روشنی میں یہ واضح ہوتا ہے کہ اقتصادی ہتھیاروں کا استعمال اخلاقی طور پر بھی مسئلہ ہے، کیونکہ یہ انسانی حقوق اور بنیادی ضروریات کو متاثر کرتا ہے۔ مگر چونکہ یہ جنگ قانونی اور معاشی زبان میں ہوتی ہے، اس لیے اس کی مخالفت کم ہوتی ہے۔ اس طرح طاقتور ممالک اپنے مقاصد کو "قانونی” اور "مناسب” ثابت کر دیتے ہیں۔
جب تجارت کو بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے تو عالمی نظام کے اصول اور ادارے کمزور پڑ جاتے ہیں۔ عالمی تجارتی ادارے اور قوانین تب مؤثر رہتے ہیں جب طاقتور ممالک ان کا احترام کریں۔ مگر جب بڑے ممالک اپنے مفادات کے لیے قوانین کو نظر انداز کرتے ہیں تو اعتماد ختم ہو جاتا ہے اور عالمی نظام ٹوٹنے لگتا ہے۔ اس کا نتیجہ عالمی سطح پر تقسیم، تجارتی بلاکس، اور نئی سرد جنگ کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ کتاب یہ انتباہ بھی کرتی ہے کہ اگر تجارت کو طاقت کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا جاری رہا تو مستقبل میں عالمی امن اور تعاون کے امکانات مزید کمزور ہوں گے۔ کیونکہ تجارت کی جگہ خوف، بدگمانی اور دشمنی لے لے گی۔ ہر ملک اپنی بقا کے لیے خود انحصاری کی طرف جائے گا، اور عالمی اشتراک کمزور ہو جائے گا۔
تجارت اور معیشت کو بطور ہتھیار استعمال کرنا ایک حقیقت ہے جسے Weaponisation of Everything نے بہت واضح انداز میں بیان کیا ہے۔ یہ کتاب ہمیں بتاتی ہے کہ جدید دنیا میں جنگ کا انداز بدل گیا ہے۔ اب طاقتور ریاستیں فوجی محاذ کے بجائے معاشی، مالی اور تجارتی محاذ پر جنگ لڑتی ہیں۔ تجارت کو امن اور تعاون کے بجائے ایک سیاسی اور اقتصادی ہتھیار بنا دیا گیا ہے۔ اگر ہم واقعی امن اور ترقی چاہتے ہیں تو ہمیں تجارت کو صرف منافع یا ترقی کا ذریعہ نہیں سمجھنا چاہیے، بلکہ اسے ایک طاقتور سیاسی آلہ بھی سمجھنا ہوگا۔ اور عالمی سطح پر اس کے استعمال کے قواعد و ضوابط کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ تجارت انسانیت کی خدمت کرے، جنگ کا ذریعہ نہیں۔