امن کا نعرہ لانے والوں کے ہاتھوں پر خون

امن کا نعرہ لانے والوں کے ہاتھوں پر خون ہے۔ منافق ہمیشہ خوبصورت الفاظ استعمال کر کے عوام کو دھوکہ دیتے ہیں۔ وہ اپنی طاقت اور دولت کے زور پر انسانیت کو تباہ کر رہے ہیں۔ مسلم امہ کے منافق حکمران بھی اس میں برابر کے شریک ہیں۔ کب تک مظلوموں کا خون چوس کر اپنی عیاشی کا سامان بناتے رہو گے؟

کیا فرعون اور اس کی بادشاہت قائم ہے آج تک؟ کیا شَدَاد کے خزانے آج انہیں کوئی راحت پہنچا رہے ہیں؟ کیا نمرود کا تکبرریزہ ریزہ نہیں ہوا؟ ہوش کے ناخن لینے کا وقت ہے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک امت کے ساتھ غداری کا جرم مرتکب نہ ہو۔ یا امت بڑی عزیز ہے میرے نبی کو۔ میرے نبی نے اس امت کے لیے راتوں کو سجدوں میں دعائیں مانگی ہیں۔ قیامت میں اس امت کے ساتھ ظلم کی انتہا کر کے نبی پاک کو کیا منہ دکھاؤ گے؟ خدا اور رسول اللہ کی ناراضی اور لعنتیں نہ مول لو۔ظالم کا ہاتھ جلد ٹوٹ جاتا ہے۔

دو دن کا تکبر کا خمار اتر جاتا ہے اورقبر میں ہڈیاں تک سڑ جاتی ہیں ۔ غزہ اس دور کا سب سے بڑا قربانی والا علاقہ ہے۔ میرے نبی کی جہاد والی سنت کو زندہ کرنے والی جماعت ہے۔ میرے نبی کے دشمنوں کا برابر مقابلہ کیا اور عبرت ناک شکست دی ہے۔ وہ بے چین ہے۔ ہر طرح اپنی عزت بچانے کا راستہ ڈھونڈ رہا ہے۔ اس جماعت کے دشمنوں کی صف میں مت جا کر کھڑا ہونا امت کی دعائیں ان کے ساتھ ہیں امت کی بددعاؤں میں مت شامل ہونا۔ غزہ کے خلاف مت سوچنا، مت نکلنا مت لڑنا ورنہ ہم بھی تمھاری ذلت آمیز شکست کا انتظار کریں گے انشاءاللہ اور یہ آنکھیں تمھاری وجود کو مٹا دیکھیں گی جیسے نمرود اور فرعون کا غرور خاک میں مل گیا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے