نیو ورلڈ آرڈر کی گونج
عالمی سیاست ایک ایسے موڑ پر آ کھڑی ہوئی ہے جہاں طاقت کا توازن تیزی سے یک قطبی نظام سے کثیر القطبی ڈھانچے کی طرف منتقل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ سرد جنگ کے بعد امریکہ طویل عرصے تک دنیا کی واحد سپر پاور کے طور پر عالمی پالیسیوں کا محور رہا، مگر اب حالات بتدریج تبدیل ہو رہے ہیں۔ چین کی دفاعی ، معاشی اور سفارتی طاقت، روس کی عسکری و اسٹریٹیجک مزاحمت، اور خطوں میں بڑھتی ہوئی خودمختار سوچ ایک نئے عالمی نظام یعنی نیو ورلڈ آرڈر کی بنیاد رکھ رہی ہے۔
چین گزشتہ دو دہائیوں میں خاموش مگر منظم انداز میں ایک بڑی عالمی طاقت کے طور پر ابھرا ہے۔ تیز رفتار معاشی ترقی، دفاعی و روزمرہ ٹیکنالوجی میں خودکفالت، بیلٹ اینڈ روڈ جیسے عالمی منصوبے، اور متوازن سفارتکاری نے اسے روایتی مغربی اثر کے مقابل ایک مضبوط متبادل بنا دیا ہے۔ چین کا اثر و رسوخ، معیشت اور اسٹریٹیجک توازن جنوبی ایشیا سے مشرقِ وسطیٰ، یورپ و شمالی امریکہ، لاطینی امریکہ، افریقہ، مشرقی ایشیا اور بحرالکاہل کے خطوں تک پھیلا ہوا ہے، چین پورے عالمی منظرنامے میں غیر معمولی اور فیصلہ کن اہمیت کا حامل ملک بن چکا ہے۔ امریکہ طویل عرصے سے اس پورے خطے میں اپنا اثرورسوخ برقرار رکھنے کے لیے بھارت کو ایک اسٹریٹیجک اتحادی کے طور پر استعمال کرتا رہا، تاہم 2025 کے وسط سے بھارت کی خارجہ پالیسی واضح تذبذب کا شکار رہی جس کے باعث واشنگٹن کے ساتھ تعلقات میں اتار چڑھاؤ آیا۔
اسی تناظر میں وزیرِاعظم نریندر مودی کا چین کا غیر متوقع دورہ خبروں کی زینت بنا، اور اسی دورے کے دوران روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور صدر شی جن پنگ کے ساتھ ایک مشترکہ تصویر نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی۔ اگرچہ بھارت چین سے قربت بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، مگر 1960ء کی دہائی سے جاری سرحدی تنازعات، خصوصاً لداخ اور شَکسگام ویلی (Trans-Karakoram Tract) کے معاملے نے تعلقات میں تضاد برقرار رکھا ہوا ہے۔ شَکسگام کا علاقہ پاکستان نے 1963ء کے سرحدی معاہدے میں چین کے حق میں دے دیا، جسے چین اپنی خودمختاری کا حصہ قرار دیتا ہے جبکہ بھارت اس پر اعتراض اٹھاتا رہا ہے، حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان اس معاملے پر بیانات کی نئی لہر سامنے آئی ہے۔
متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید کا حالیہ دورۂ بھارت بھی ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر طاقت کے مراکز تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں اور چین کے گرد ایک نیا سفارتی و معاشی دائرہ مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس دورے میں دفاعی تعاون، سرمایہ کاری اور اسٹریٹیجک شراکت داری کے کئی پہلو زیرِ غور آئے، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ خطے کے ممالک اب اپنے مفادات کے تحت نئی صف بندیاں تشکیل دے رہے ہیں۔ یہ تمام پیش رفت دراصل اسی بدلتے عالمی توازن کا حصہ ہے جہاں چین ایک ابھرتی ہوئی طاقت کے طور پر روایتی اتحادوں کو نئی جہت دے رہا ہے اور امریکہ کے دیرینہ اثر کو چیلنج کر رہا ہے۔
ایسے ماحول میں پاکستان، چین کے قریبی اسٹریٹیجک اشتراک کے ساتھ،اپنے بڑے چیلنجز دہشت گردی، امن و امان، گڈ گورنینس، سیاسی عدم استحکام اور کرپشن جیسے مسائل کے باوجود نہ صرف خطے بلکہ وسیع مسلم دنیا میں ایک بااعتماد، مستحکم اور مصالحتی کردار کے طور پر ابھر رہا ہے، ایسی دفاعی، جغرافیائی اور سفارتی صلاحیتوں کے ساتھ جو اسے آنے والے نیو ورلڈ آرڈر میں قیادت کی صف میں لا کھڑا کرتی ہیں۔ اب یہ وقت ہی بتائے گا کہ بھارت اس بدلتی ہوئی عالمی بساط میں اپنی خارجہ پالیسی کو مستحکم کر پاتا ہے یا 2025 کی طرح غیر یقینی کا شکار رہتا ہے۔
دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد، امریکی اثرورسوخ، ٹرمپ کے دو ٹوک انداز اور بدلتے عالمی منظرنامے میں چین نے گزشتہ برس کے دوران عالمی سطح پر اپنی سفارتی سرگرمیوں کو غیر معمولی حد تک تیز بھی کیا ہے، جس کے نتیجے میں مختلف خطوں کے اہم رہنما بیجنگ کا رخ کرتے دکھائی دیے۔ پاکستان کے وفود اور ریاست کے سربراہان تو چین کو ہمیشہ اوّلین ترجیح رکھتے ہیں علاوہ ازیں تھائی لینڈ کی قیادت کے بیجنگ کے ساتھ معاہدے، آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم انتھونی البانیز کا دورہ، شمالی کوریا، جنوبی کوریا حتیٰ کہ چین اب روایتی مغربی اتحادیوں کے لیے بھی ناگزیر معاشی طاقت بنتا جا رہا ہے۔ اسی سلسلے کی تازہ ترین کڑی کے طور پر حال ہی میں کینیڈا کے وزیرِ اعظم کا دورۂ بیجنگ بھی عالمی طاقت کے توازن میں ایک اہم اور غیر متوقع اضافہ تصور کیا جا رہا ہے۔
ایک ایسے وقت میں جب امریکہ مسلسل اپنے اتحادیوں کو چین سے دور رکھنے کی حکمتِ عملی پر گامزن ہے، کینیڈین وزیرِاعظم کا بیجنگ کا دورہ عالمی سفارتکاری میں ایک نمایاں تبدیلی کی علامت بن کر سامنے آیا۔ اس دورے میں چین کے صدر شی جن پنگ سے اسٹریٹیجک تعاون پر اتفاق اور باہمی تجارتی رکاوٹوں میں بڑی نرمی نہ صرف معاشی فیصلہ ہے بلکہ عالمی طاقت کے نئے توازن کی کھلی جھلک بھی ہے۔ چینی الیکٹرک گاڑیوں پر کینیڈا کی جانب سے 100 فیصد سے کم کر کے 6 فیصد ٹیرف کر دینا اور چین کی جانب سے کینیڈین زرعی اجناس پر محصولات کا خاتمہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی شراکت داری اب مغربی بلاک کی خواہشات تک محدود نہیں رہے گی۔ بلکہ کینیڈا کی قیادت کی جانب سے نئے عالمی نظام یا نیو ورلڈ آرڈر جیسے الفاظ کا استعمال اور تعلقات کے فروغ کا بیان ایک واضح سفارتی اشارہ ہے کہ مغربی دنیا کے اندر بھی نیو ورلڈ آرڈر کے تصور کو عملی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔
یہ پیش رفت دراصل اس عالمی رجحان کی عکاسی کرتی ہے جس میں امریکی اتحادی طاقتیں اب امریکہ کے دباؤ سے آزاد ہو کر اپنے معاشی و سفارتی مفادات کے مطابق فیصلے کر رہی ہیں۔ لاطینی امریکہ پہلے ہی چین کے ساتھ معاشی تعلقات کو وسعت دے رہا ہے، افریقہ میں چین کا اثر بڑھ رہا ہے، اور یورپ کے اندر بھی امریکی پالیسیوں سے فاصلہ اختیار کرنے کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ ایسے ماحول میں کینیڈا کا چین کی طرف جھکاؤ ایک علامتی موڑ بن سکتا ہے جو آنے والے برسوں میں عالمی صف بندی کو مزید تبدیل کرے گا۔
ان تمام تبدیلیوں کے پس منظر میں سوال یہی ہے کہ چین کب خود کو باضابطہ طور پر اگلی سپر پاور کے طور پر منوانے کا اعلان کرتا ہے کیونکہ زمینی حقائق تیزی سے اسی سمت بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔دنیا اس وقت ایک عبوری دور سے گزر رہی ہے جہاں طاقت، تجارت اور سفارتکاری کے نئے مراکز ابھر رہے ہیں۔ یہ کہنا قبل از وقت نہ ہوگا کہ نیو ورلڈ آرڈر ایک حقیقت بنتا جا رہا ہے، مزید آنے والا وقت اسی نئے عالمی توازن کا تعین کرے گا جہاں ریاستیں اپنے مفاد کو اوّلین ترجیح دیتے ہوئے عالمی سیاست کا رخ متعین کریں گی۔