کراچی کو بیچ دو

میں چاروں طرف سے پھنس چکا ہوں۔خطرناک قسم کی آگ لگی ہوئی ہے۔میرا نکلنا بہت مشکل ہوگیا ہے۔ مجھ سے کوئی غلطی کوتاہی ہوگئی ہو تو مجھے معاف کردینا۔یہ الفاظ ہیں گل پلازہ میں پھنسے ہوئے ایک شخص کے جس کی آڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے۔پچھلے دنوں گل پلازہ صدر میں آگ لگنے کا سانحہ کراچی میں پیش آیا۔ اس سے چند ماہ پہلے ایک مال کے سامنے ایک بچہ گٹر میں گر کر جان کی بازی ہار چکا تھا۔اس کے بعد مئیر صاحب بچے کے گھر گئے اور معافی مانگی اور وعدہ کیا کہ آیندہ خیال رکھا جائے گا۔ پھر اب گل پلازہ کا سانحہ رونما ہوگیا۔ اس دوران بھی روزانہ کی بنیاد پر کراچی کے شہری بے رحم ڈمپر کے نیچے کچلے جاتے رہے۔لوگ مئیر صاحب سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔لیکن مئیر کراچی کی ایک ہی رٹ ہے کہ میں نہیں مانتا میں نہیں مانتا۔اس وقت ہمارے یوٹیوبر حضرات اپنے فالوورز بڑھانے اور سیاست دان اپنے نمبر بڑھانے کی دوڑ میں بہت آگے نکل چکے ہیں۔شعیب منصور صاحب کی ایک فلم کا ڈائیلاگ تھا کہ جب کھلا نہیں سکتے تو پیدا کیوں کرتے ہو۔ یہاں بھی یہی سوال ذہن میں آتا ہے کہ اگر شہر سنبھال نہیں سکتے ہو تو ذمہ داری کیوں لیتے ہو۔

چچا غالب نے فرمایا تھا کہ

آتش دوزخ میں یہ گرمی کہاں
سوز غم ہائے نہانی اور ہے

گل پلازہ میں لگنے والی آگ کے بعد یہی کہا جاسکتا ہے کہ
سوز غم ہائے نہانی اور ہے

دراصل گل پلازہ کی آگ تو اپنی جگہ ہے مگر اس شہر کو مفادات کی آگ نے پچھلے کئی عشروں سے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔اس آگ میں ہمارا پیارا شہر کراچی سلگ رہا ہے جل رہا یہ سیاسست کی آگ ہے اقتدار کی آگ ہے۔ جس میں کراچی جل کر کوئلہ بن چکا ہے اور اس سے نکلنے والا دھواں پورے ملک کی ترقی کو آلودہ کر رہا ہے۔

سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ آخر کون سا ایسا مسئلہ ہے۔ جو حل نہیں کیا جاسکتا ہے۔کراچی کو جب خراب کیا جاسکتا ہے تو اسے بہتر کیوں نہیں کیا جاسکتا ہے۔ کراچی میں ہر ایک دو ماہ بعد کوئی ایسا بڑا حادثہ ہوجاتا ہے کہ لوگ کراچی سے جان چھڑانے کی کوشش کرنے لگتے ہیں۔اب گل پلازہ والے معاملے میں بھی کوئی اس حادثے کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں ہے ہر پارٹی ایک دوسرے پر الزام تراشیاں کر رہی ہے اور گل پلازہ کے متاثرین کے مستقبل کا کیا ہوگا۔اس بارے میں سب خاموش ہیں۔افسوس اس بات پر بھی ہوتا ہے کہ کراچی ہر معاملے میں پہل کرتا ہے۔

پاکستان میں جہاں کہیں بھی کسی کو مدد کی ضرورت ہو کراچی آگے بڑھتا ہے۔ مگر کراچی کی کوئی مدد نہیں کرتا۔ٹی وی پر مختلف کلپ دیکھیں تو غصہ آتا ہے اور حیرانی بھی ہوتی ہے کچھ سمجھ میں بھی نہیں آتا ہے کہ آخر اس وقت گل پلازہ کے حوالے سے کیا اپڈیٹ ہے۔ کوئی کہ رہا ہے ہم نے اتنی رقم دی ہے کوئی کچھ کہ رہا ہے مگر اصل کام تو حکومت کا ہے اور ذمہ داری بھی اسی کی ہے۔کچھ عرصے پہلے تابش ہاشمی نے اپنے پروگرام میں مئیر کراچی سے پوچھا کراچی کہ کس سال تک کراچی بہتر ہوجائے گا؟ مئیر صاحب نے بڑے دبنگ انداز میں جواب دیا کہ کراچی بہتر ہونا شروع ہوگیا ہے۔اس پر تابش نے ادھر ادھر دیکھنا شروع کیا ایک اور سوال یہ بھی کیا گیا کہ آخری بار سکون سے کب سوئے تھے اس پر مئیر صاحب فرمانے لگے کہ میں روز سکون سے سوتا ہوں۔

پھر چچا غالب کا شعر یاد آرہا ہے کہ

موت کا ایک دن معین ہے
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی

بات مئیر صاحب کی بھی نہیں ہے ۔سب کو مل کر سوچنا نہیں بلکہ عمل کرنا پڑے گا ورنہ وہ دن دور نہیں جب کراچی والے کراچی کو خیرباد کہ دیں گے۔ اس وقت شہر کراچی دنیا کے خطرناک ترن شہروں میں سے ایک ہے۔ کئی کروڑ آبادی کے اس شہر میں درست انتظامیہ کی اشد ضرورت ہے سالانہ ٹریفک حادثات میں ہی کتنے گھروں کے چراغ گل ہوجاتے ہیں۔ پھر آئے روز پلازہ اور دیگر عمارتوں میں نامعلوم افراد کی جانب یا حادثاتی طور پر آگ لگ جاتی ہے۔پچھلے دنوں تو ایک لسٹ نظر سے گزری کس میں کراچی میں بے شمار جگہوں پر آگ لگنے کے حوالے سے ایک فہرست تیار کی گئی تھی۔ ایک پارٹی کارکن نے کہا کہ آگ تو لگتی رہتی ہے۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ پلاننگ بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ ان لوگوں سے پوچھیں جن کے بچے گل پلازہ کی آگ میں جل کر بھسم ہوچکے ہیں جو لاپتہ ہوچکے ہیں اور جن کی ہڈیاں دکھائی جا رہی ہیں اف کیا قیامت خیز منظر ہے۔
ذوق کا شعر دیکھیے

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں مرجائیں گے
مر کے بھی چین نہیں پایا تو کہاں جائیں

اللہ اس طرح کے سانحات سے سب کو محفوظ رکھے۔ مگر یہ سوال ذہن میں ضرور آتا ہے کہ آخر کراچی کا کیا ہوگا؟ کراچی والے کب تک اپنے بچوں اور بزرگوں کی لاشیں اٹھاتیں رہیں گے۔ جب ہم بھارت کو جنگ کو دھول چٹا سکتے ہیں تو کیا کراچی کو بہتر بنانا اس سے بھی زیادہ مشکل ہے؟ہمیں ہمارا کراچی واپس کرو وہ کراچی جس کا ذکر ہمارے بزرگ کرتے تھے۔جسے روشنیوں کا شہر کہا جاتا تھا۔جس کو دیکھ کر حوصلہ ملتا تھا۔ سب پارٹیوں کو چاہئیے کہ مل کر کراچی کو ٹھیک کریں اسے دبئی نہیں بلکہ کراچی ہی بنادیں ورنہ تابش ہاشمی نے بڑی زبردست بت کہی ہے کہ

حکومت کراچی کو نہیں چلا سکتی تو پی آئی اے کی طرح اسے بیچ دے ہم مل کرخرید لیں گے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے