تصوف و احسان کی جنم بھومی اگرچہ سرزمینِ عرب میں ہوئی، مگر اس کی فکری بالیدگی اور تہذیبی تاثیر جس خطے میں اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہوئی، وہ برصغیر ہے۔
امام ابو نعیم اصفہانی کی حلیۃ الاولیاء اور امام سلمی کی الطبقات الصوفیہ بلاشبہ متقدمین اولیا و متصوفین کے حالات و کیفیات، تصوف کے ابتدائی نقوش اور فکری سانچے فراہم کرتی ہیں، مگر تصوف بطور ایک زندہ روایت، منظم سلاسل، اجتماعی اثر پذیری اور تمدنی وسعت کے ساتھ جس معاشرے میں رچ بس گیا، وہ ہندوستان کی سرزمین تھی۔
یہاں تصوف محض افراد کی روحانی تربیت تک محدود نہ رہا، بلکہ سماج کی اصلاح، تشکیلِ فکر اور تہذیبی رہنمائی کی ایک ہمہ گیر تحریک بن کر ابھرا۔ اسی لیے سلاسلِ اربعہ، خصوصاً نقشبندیہ کو یہاں غیر معمولی قبولِ عام نصیب ہوا۔
کسی نے بجا طور پر لکھا ہے کہ ہندوستان میں ابتدا ہی سے اسلام پر تصوف کا رنگ اس قدر غالب رہا کہ بیسویں صدی کے آغاز تک کسی کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہ آتی تھی کہ کسی صوفیانہ سلسلے میں داخل ہوئے بغیر انسان اسلام کی برکات سے پوری طرح مستفید ہو سکتا ہے۔
تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو خواجہ معین الدین چشتی اجمیری، بابا فرید گنج شکر، خواجہ نظام الدین اولیاء، خواجہ بختیار کاکی، خواجہ مخدوم جہانیاں جہاں گشت اور خواجہ باقی باللہ جیسے اکابرِ تصوف کی ابتدائی تعلیمات اگرچہ دیگر خطوں میں پروان چڑھیں، مگر برصغیر کی فکری، روحانی اور تہذیبی زمین ان کے عملی فیض کے لیے نہایت موزوں ثابت ہوئی۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ یہاں کے معاشرے نے تصوف کو محض ایک روحانی مشغلہ نہیں، بلکہ ایک اصلاحی، فکری اور عملی نظام کے طور پر قبول کیا۔
اگرچہ چاروں سلاسل یہاں یکساں طور پر رائج رہے، تاہم آخری صدیوں میں سلسلۂ نقشبندیہ کو نسبتاً زیادہ عروج حاصل ہوا۔ غالباً اس کی وجہ یہ تھی کہ اس سلسلے کے اذکار، اعمال اور روحانی کیفیات برصغیر کے مزاج سے زیادہ ہم آہنگ ثابت ہوئیں۔
خواجہ بہاؤ الدین نقشبند رحمہ اللہ کی ذاتِ بابرکات سے بخارا میں شروع ہونے والے اس سلسلے کو ان کے صوفیانہ منہج کے مطابق اصل قوت، وسعت اور منظم اصلاحی تحریک کی شکل برصغیر میں ملی۔ یہاں جن اکابر نے اسے فکری اور عملی استحکام بخشا، ان میں خصوصیت کے ساتھ خواجہ باقی باللہ، ان کے مریدِ خاص حضرت مجدد شیخ احمد سرہندی اور معاصر شیخ عبد الحق محدث دہلوی کے نام سرفہرست ہیں۔ ان سب میں سب سے روشن اور فیصلہ کن نام حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی کا ہے۔
ان کی تجدیدی بصیرت نے نقشبندیہ کو محض خانقاہی دائرے سے نکال کر فکری و تمدنی سطح پر امت کی رہنمائی کا ذریعہ بنا دیا۔ وحدت الوجود کے دقیق مباحث ہوں یا اکبری دربار کے فکری انحرافات، ہر مرحلے پر انہوں نے شریعت کی بالادستی اور سنت کی مرکزیت کو نمایاں کیا۔ یوں برصغیر میں نقشبندیہ ایک ایسا ہمہ گیر سلسلہ بن گیا جس میں عوام بھی تھے اور خواص بھی، شاعر و ادیب بھی، اہلِ علم بھی اور اہلِ دل بھی۔
اسی تسلسل میں حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ ایک عظیم سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ اپنے والدِ بزرگوار کی نسبت سے نقشبندیت اور مجددیت دونوں کے امین تھے۔ ان کے بعد ان کے خانوادے اور تلامذہ کے ذریعے یہ روحانی روایت پورے برصغیر میں پھیلتی چلی گئی۔
شاہ صاحب کی کتاب انفاس العارفین اس موضوع پر نہایت وقیع اور دل چسپ تصنیف ہے۔ بندے کو استادِ محترم حضرت مولانا عبد الحلیم چشتی صاحب رحمہ اللہ کے حکم پر دورانِ تخصص اس کے فارسی متن اور فہارس پر کام کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ اس مطالعے کے دوران دو شخصیات کے نام بکثرت سامنے آئے: ایک شیخ عبد الاحد المعروف شاہ گل رحمہ اللہ، اور دوسرے ان کے ممتاز خلیفہ شیخ سعد اللہ المعروف گلشن دہلوی رحمہ اللہ۔
شیخ عبد الاحد حضرت مجدد کے پوتے تھے۔ بیراگیوں کے ہاتھوں سرہند کی تباہی کے بعد وہ دہلی تشریف لائے، جہاں ان کے فیض سے علمی و روحانی حلقے سیراب ہوئے۔ شیخ گلشن دہلوی اور مرزا مظہر جانِ جاناں، جن کے نام سے تفسیر مظہری منسوب ہے، دونوں نہ صرف جلیل القدر صوفی تھے بلکہ قادرالکلام شاعر بھی تھے۔ اسی نسبت سے اس سلسلے نے اردو زبان و ادب کی تشکیل اور نشوونما میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ ولی دکنی، بیدل اور سرخوش جیسے نامور شعرا اسی فکری و روحانی فضا کے پروردہ تھے۔
1857ء کے بعد جب دہلی کے علمی و روحانی مراکز اجڑ گئے تو خاندانِ مجددیہ کے چشم و چراغ شاہ احمد سعید دہلوی موسیٰ زئی شریف (ڈیرہ اسماعیل خان) تشریف لائے۔ ان کے مخلص مرید حاجی دوست محمد قندہاری پہلے ہی وہاں موجود تھے۔ بعد ازاں یہ سلسلہ خواجہ محمد عثمان، ان کے صاحبزادے مولانا سراج الدین دامانی اور دیگر اکابر کے ذریعے پاکستان میں پھیلا، اور متعدد خانقاہیں قائم ہوئیں۔
حضرت مجدد کے خلفا میں ایک نہایت درخشاں نام شیخ آدم بنوری کا ہے، جنہیں اہلِ نظر ان کے صاحبزادگان سے بھی بڑھ کر قرار دیتے ہیں۔ مولانا ابو الحسن علی ندوی رحمہ اللہ نے ماذا خسر العالم میں ان کا ایمان افروز تذکرہ کیا ہے۔ شیخ آدم بنوری کے فیضان سے میاں اللہ یار لاہوری، پھر ان کے خلیفہ میاں عبد الحکیم کاکڑ المعروف نانا صاحب کے ذریعے یہ سلسلہ بلوچستان اور افغانستان میں پھیلا۔ نانا صاحب جلیل القدر عالم، فقیہ، محدث اور صاحبِ نسبت بزرگ تھے۔ ان کی وفات ضلع زیارت، بلوچستان میں ہوئی، جہاں آج بھی ان کا مزار مرجعِ خلائق ہے۔
نانا صاحب کے بعد یہ نسبت میاں نور محمد صاحب کے ذریعے شمالی بلوچستان کے معروف روحانی خاندان، آغا خاندان میں منتقل ہوئی، جہاں تقریباً دو سو سال تک نسل در نسل قائم رہی۔ سید حسین شاہ رحمہ اللہ سے لے کر سید محمد صدیق جان آغا، سید محمد جان آغا، سید محمد نور جان آغا، سید عبد الباقی جان آغا اور سید شاہ محمد جان آغا کے ذریعے یہ امانت ان کے فرزندان سید محمد طاہر آغا المعروف باچا آغا صاحب اور سید عبد القاہر آغا المعروف آغا جان آغا صاحب تک پہنچی۔
یہ دونوں بزرگ نصف صدی سے زائد عرصے تک اس خطے کے لیے روحانی سایہ بنے رہے۔ ان کی خانقاہ ذکر، فکر، نسبت اور شریعت و طریقت کے حسین امتزاج کا عملی نمونہ تھی، افراط و تفریط سے پاک، سادہ مگر باوقار۔ باچا آغا صاحب تین برس قبل اور آغا جان آغا صاحب ایک ماہ قبل اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے۔
یہ باعثِ مسرت ہے کہ ان کے متعلقین اور متوسلین کے اتفاقِ رائے سے جانشین مقرر ہو گئے۔ سید باچا آغا صاحب کے جانشین مولانا سید نجی اللہ آغا صاحب نامزد ہوئے، جو دارالعلوم کراچی کے فاضل اور کوئٹہ ایئرپورٹ کے امام و خطیب ہیں، جبکہ سید عبد القاہر آغا صاحب کے جانشین مولانا محب اللہ آغا صاحب قرار پائے، جو بیک وقت معہد الندوہ الاسلامی کوئٹہ کے رئیس، الریان اکیڈمی کے بانی، بی ایم سی ہسپتال کے خطیب و امام، جامعہ دارالعلوم کراچی کے فاضل اور بلوچستان یونیورسٹی سے ایم فل ہیں۔
اللہ تعالیٰ دونوں حضرات کو توفیق عطا فرمائے کہ وہ اپنے اکابر کے مشن کو اخلاص، اعتدال اور وقار کے ساتھ زندہ رکھیں۔ آمین۔