نیکی اور ریاست

جب تک ریاستی سطح پر اصلاح معاشرہ کے لیے کوئی سنجیدہ اور موثر طریقہ کار بروۓ کار نہ لایا جاۓ اس وقت تک کسی طرف سے بھی اصلاح کے لیے کی جانی والی کاوشیں کماحقہ کامیاب نہیں ہوسکتی۔خواہ وہ ممبر و محراب ہو،اصلاحی جماعتیں ہو،مدارس ہو،تعلیمی ادارے ہو،بلکہ الٹا یہ ہوتا ہے کہ ان محاذوں سے اصلاح کا کام کرنے والے خود بھی معاشرتی برائیوں کے لپیٹ میں آجاتے ہیں۔ ان میں اور عام لوگوں میں فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ وہ ظاہری وضع قطع کے لحاظ سے نیک نظر آتے ہیں جبکہ معاشرے کے دیگر افراد کی ظاہر ان کی طرح نہیں ہوتی۔مگر روح کے لحاظ سے دیکھا جاۓ تو سب ایک جیسے نظر آئینگے، اس حوالے سے کسی کو فوقیت نہیں دی جاسکتی۔اور ہمارے معاشرے میں یہ سب کچھ ہمارے سامنے ہو رہا ہے ۔

لھذا جو لوگ معاشرے کے حقیقی اصلاح کا جذبہ دلوں میں رکھتے ہیں ان کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ انفرادی اور معاشرتی اصلاح کے ساتھ ساتھ حکومتی اصلاح کے لیے بھی اپنے وسائل اور ذرائع کا کماحقہ استعمال کریں تاکہ ان کے کاوشوں کے نتیجے میں صالح حکومت کا قیام عمل میں لایا جاۓ۔صالح حکومت کا قیام ہی صالح معاشرے کی ضمانت ہوتی ہے ۔جب تک صالح حکومت کا قیام عمل میں نہیں لایا جاتا اس وقت تک انفرادی اور معاشرتی اصلاح کی تکمیل نہیں ہو سکتی۔لھذا اسلامی بنیادوں پر انفرادی و معاشرتی اصلاح کی تکمیل کے لیے صالح حکومت کا قیام ایک ناگزیر امر ہے۔

لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ یہ کام جتنی اہمیت کا حامل ہے اتنی ہی اس سے بے اعتنائی برتی جاتی ہے ۔یہاں تک کہ مذہب کے ساتھ خاص لگاؤ رکھنے والے لوگ بھی اسے محض ایک دنیاوی کام سمجھتے ہیں۔ اور اس میدان کو ان لوگوں کے لیے چھوڑ دیتے ہیں جو آخر کار ان کے مذہب کے ساتھ محض دلی لگاؤ اور ظاہری وضع قطع پر بھی اثرانداز ہوتے ہیں۔

اصلاح حکومت جیسے اہم کام سے بےاعتنائی کے ۔ بہت سے وجوہات ہیں جیسے معاشرہ کا دین کے حقیقی تصور سے تقریبا مجموعی طور پر بے خبر رہنا،امت کا مجموعی طور پر تن آسانی میں مبتلا ہونا،مذہب کے صرف چند تعلیمات کی تلقین کا باقی رینا،مجموعی طور پر مایوسی کی فضا کا ہونا،وغیرہ۔

ان میں سب سے زیادہ جو قابل توجہ اور امت مرحومہ کے لیے باعث تشویش امر ہے وہ یہ ہے کہ امت کی اکثریت اس باب میں انہی لوگوں کے خیالات سے متاثر ہے جو مذہب اور حکومت کو آپس میں جدا کرتے ہیں۔

اس سے بھی زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ جو لوگ اصلاح حکومت کے لیے جد وجہد کرتے ہیں انہیں وہ سرے سے خاطر میں نہیں لاتے کہ یہ لوگ بھی کوئی نیکی کا کام کر رہے ہیں۔ بلکہ الٹا انہیں بے دین سمجھتے ہیں۔

آہ! ان مذہبی لوگوں کا یہ رویہ ان ہی افراد کے زیر اثر ہے جو اسلام کو بدھ مت،ہندؤں مت وغیرہ کی طرح محض پوجاپاٹ ہی کا مجموعہ سمجھتے ہیں۔ اور جو لوگ اصلاح حکومت کا کام کرتے ہیں تو یہی مذہب اسلام کی حقیقت سے ناواقف اور غیر اسلامی نظریات سے متاثر لوگ ان کی متشدانہ قسم کی مخالفت کرتے ہیں۔ اور ان کی مخالفت یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ سرے سے اصلاح حکومت کے لیے کام کرنے والوں کے پیچھے نماز پڑھنے کے بھی قائل نہیں ہوتے۔چونکہ معاشرہ کے عام لوگ خود تو دین اسلام کے حقیقی تصور سے عاری ہوتے ہیں اور ان کے سامنے اگر دین کا کوئی مستند نمونہ ہے تو وہ یہی ظاہری اعتبار سے دیندار لوگ ہیں۔ پھر ان کے تقلید میں عام لوگ بھی حکومت کی اصلاح کے لیے کام کرنے والوں کے ساتھ یہی رویہ اختیار کرتےہیں۔

جس کے نتیجے میں اصلاح حکومت کے لیے کام کرنے والوں کو عوام کی طرف سے مطلوبہ سپورٹ نہیں ملتی بلکہ الٹا مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور انجام کار ہوتا یہ ہے کہ حکومتی اصلاح کا کام موجود ہونے کے باوجود غیر موثر رہتا ہے ۔

اس ضمن میں اہل علم ہی وہ طبقہ ہوتا ہے جو معاشرے کا اسلام کے حوالے سے مجموعی مزاج کو بدل سکتا ہے ۔مگر یہ میدان بھی فرقہ واریت اور مسلکی تقسیموں کی وجہ سے بنجر پڑا ہے ۔یہ ضرور ہے کہ مسلکی بنیادوں پر حکومتی اصلاح کی آوازیں معاشرے میں سنائی دیتی ہیں۔ مگر چونکہ یہ اجتماعی مسئلہ ہے اور اجتماعی مسائل کو اجتماع ہی کے ذریعے حل کہا جاسکتاہے جبکہ مسلک اجتماعی چیز نہیں ہوتی۔اصلاح حکومت کا مسئلہ اپنی فطرت ہی میں اس نوعیت کا ہے کہ یہ اجمتاعی سعی کا متقاضی ہے نہ کہ کسی مسلکی محاذ کے ذریعے اس کا حل ممکن ہے ۔

اپنی نوعیت کے لحاظ سے اس مسئلہ کے حل کا پہلا step یہ ہے کہ اہل علم حضرات امت اور اسلام کے نمائندوں کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کریں ۔اس کام کے لیے ان کے رویوں،تصنیفات،تقریوں،دروس اور اداروں کو ہر قسم کی مسلکی تقسیمات سے آذاد ہونا چائیے۔اسلام کے حوالے سے امت کے مجموعی مزاج کے اصلاح کے لیے وہی اہل علم موزوں ہوسکتے ہیں جن کی ہر ادا سے حقیقی طور پر اسلام اور امت کی نمائندگی ٹپکتی ہو نہ کہ مسلکی۔یہاں حقیقی طور پر امت کی نمائندگی کا لفظ اس لیے استعمال کیا گیا کہ امت کی نمائندگی کا رویہ جیسے ظاہر میں ہو ویسے دل و دماغ میں بھی موجود ہو۔کیونکہ یہ کام ان اہل علم کا نہیں جو اسلام اور امت کے بناوٹی نمائندے بنتے ہیں اور دل و دماغ میں مسلک کا بت رکھتے ہو۔ایسا نہ ہو کہ سٹیج پر تو اسلام اور امت کے نمائندگی کا اظہار کیا جاۓ مگر اپنے حلقے میں جاکر ان ہی کے نمائندگی کا اظہار کیا جاۓ ۔اس کام کے لیے ایسے اہل علم کی ضرورت ہے جن کے سٹیج کے رویے اور درس کے دوران رویے میں کوئی فرق نہ ہو۔

الحمد للہ ہمارے ہاں ایسے علماء کی کمی نہیں جو دلوں میں امت کو مسلک پر ترجیح دینے والے ہیں۔ مگر مسلکی دباؤ کی وجہ سے ہم عملی میدان میں ایسے اہل علم کے انوارات اور برکات سے محروم ہیں۔ اس مسئلہ کے حل کے لیے چند علماء نے اپنی reputation اور مسلک میں اپنے خاص مقام کی عارضی قربانی دینی ہوگی۔اور جب ایک مرتبہ مسلک کے خوف کا یہ بت ٹوٹ جاۓ تو بہت تھوڑے عرصے میں ہمارے پاس ایسے اہل علم کی ایک کثیر تعداد موجود ہوگی جن کے عملی رویوں سے اسلام اور امت کی نمائندگی کی خوشبو آئیگی۔اور آخر کار علمی حلقوں میں مسلک کی بجاۓ اسلام اور امت کی نمائندگی کی فکر اتنی مضبوط ہوجائیگی کہ اس وقت مسلکی نمائندگی کے رویوں کو معیوب سمجھا جائیگا جیسے کہ آج اسلام اور امت کے نمائندگی کے رویوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔

آج تو جو جتنا مسلک پرست ہے اپنے حلقے میں وہ اتنا مقبول ہے مگر اسلام اور امت کے نمائندگی کے رویوں کے وقت مسلک پرست مبغوض ہوگا جبکہ عملی اور فکری طور پر اسلام اور امت کی نمائندگی کرنے والے اہل علم کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاۓ گا۔یہاں ضمنی طور پر ایک بات کی وضاحت کرنا ضروری ہے کہ اس بحث کا یہ مطلب بھی نہیں کہ مسلک کوئی بری چیز ہے بلکہ اہل علم میں مسلکی اختلافات کا ہونا اور اس بنیاد پر مختلف مسالک اختیار کرنا ایک ناگزیر امر ہے ۔اس حوالے سے جو چیز بری اور قابل مذمت ہے وہ مسلک پرستی اور مسلک کی نمائندگی کرنے والا رویہ ہے ۔

علمی مسلکی اختلافات ہرگز بھی مسلمانوں کے اجتماعیت کے لیے خطرناک نہیں اگر خطرناک ہوتے تو اسلام میں سرے سے مسلکی اختلاف کی گنجائش بی نہ ہوتی۔اس وقت پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین کے مابین ہمیں کوئی مسلکی اختلاف نظر نہ آتا۔یہ معروضی دلائل واضح طور پر مسلکی اختلافات کے جائز ہونے کے عکاسی کرتے ہیں۔ البتہ مسلکی اختلافات کے ضمن میں جو معیوب چیزیں ہیں ان کی نہ قرآن و سنت میں اجازت ہے اور نہ ہی صحابہ کرام کے زندگیوں میں ہمیں ایسی کوئی نظیر نظر آتی ہے ۔

جب ہمارے ساتھ اسلام اور امت کی نمائندگی کرنے والے اہل علم کی خاطر خواہ تعداد عملی زندگی کے سکرین پر نمودار ہو جائینگے تو اس وقت ہم اس لا ئق بنے گے کہ اسلامی تعلیمات کے حوالے سے ہمارے عمومی مسخ شدہ مزاج کی اصلاح کی جا سکی گی.

یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ مسلکی رویہ ہے کیا ،کس قسم کا مسلکی رویہ امت کو تقسیم کرتا ہے ،کس قسم کا مسلکی رویہ اقامت دین جد و جہد میں رکاوٹ بنتا ہے۔اس قسم کے مسلکی رویہ کے سمجھنے کے لیے ہم چند مثالیں لیتے ہیں۔مسلکی پرستی یہ ہے کہ اپنے گروہ کی وہ راۓ جو اجتہاد پر مبنی ہو اس کے پیروی کا لوگوں سے مطالبہ کیا جاۓ،مسلک کی بنیاد پر پارٹیاں بنانا،مسلک کو امامت کبری کے لیے معیار بنانا،مسلک کے بڑوں کے ساتھ غیر مشروط اطاعت والا رویہ اختیار کرنا ،اجتہادی مسائل کو بنیاد بنا کر دوسروں کی تضلیل و تفسیق کرنا ،دعوت کے میدان میں اپنے مسلک کی خاطر اسلام میں ترجیحات کے فطری ترتیب کو خاطر میں نہ لانا ،دعوت کے لیے قرآن و سنت کے تعلیمات کو چھوڑ کر بزرگوں کے کرامات اور عجائب کو موضوع بجث بنانا، کسی خاص مسئلے میں اپنے مسلک کے اجتہادی علمی موقف کو عقیدے کا رنگ دینا،اس کے بنیاد پر مناظرے کرنا اور اختلاف کرنے والوں کو گمراہ قرار دینا۔ضروری نہیں کہ یہ کام اہل علم قصدا کرتے ہو بلکہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کوئی یہ کام اخلاص کے ساتھ کرتا ہو۔مگر دونوں صورتوں میں عملی نتائج ایک جیسے ہونگے کہ ان کا یہ رویہ امت کو بھی تقسیم کرتا ہے اور اصلاح حکومت کے لیے اٹھنے والے تحریکوں کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اہل علم مسلکی نمائندگی کا رویہ ترک کر کے اسلام اور امت کے نمائندگی کا فریضہ سرانجام دینا شروع کریں تو اس کے ذریعے حکومت کی اصلاح کا پہلا مرحلہ کیسے طے ہوگا۔دیکھا جاۓ تو کسی بھی مشن اور تحریک کا سب مشکل مرحلہ اس مشن یا تحریک کی فکری اشاعت ہوتی ہے اور اشاعت بھی ایسی ہو کہ تحریک کے فکری پہلو کے حوالے سے دلوں اور دماغوں کو مطمئن کیا جاسکے۔تحریک کی فکری تفہیم کے ذریعے دیگر افکار اور نظاموں پر اس کی علمی برتری ثابت کی جاۓ۔

اس کے ساتھ دیکھا جاۓ تو اسلام اور امت کی راہنمائی کرنے والے اہل علم حکومتی اصلاح کے لیے اٹھنے والے تحریک کے مزاج کو لوگوں کے سامنے واضح کرینگے۔عوامی سطح پر اس قسم کی علمی تربیت کی وجہ سے اسلامی بنیادوں پر حکومتی اصلاح کے راستے میں جو رکاوٹیں ہوگی کافی حد تک انہیں دور کیا جاۓ گا۔اس لیے کہ معاشرے میں مغربی جمہوریت،سوشلزم وغیرہ کے افکار سے زیادہ تر لوگ اس لیے متاثر ہیں کیونکہ انہوں نے حکومتی اصلاح کے لیے اپنے فہم کےمطابق ان افکار کو سب سے زیادہ معقول اور عملی خیال کیا ہے۔اب اگر ان کے سامنے اسلام کے حقیقی تصویر کو پیش کیا جاۓ تو ممکن ہے کہ ان میں زیادہ تر لوگ حکومت کی اصلاح کے لیے دوسرے نظریات کو خیرباد کہے یا کم از کم اس قسم کے لوگوں کے پاس عوام کو قائل کرنے کا وہ موقع باقی نہیں رہے گا جو انہیں حکومت کی اصلاح کے لیے اسلامی فکر کےعام ہونے سے پہلے میسر تھا۔

اس کے نتیجے میں ایک طرف اسلامی حکومت کے قیام کے راستے میں آنے والے دوسرے مزاحمتی نظاموں کا راستہ روکا جائیگا جبکہ دوسری طرف معاشرے میں ان کی دعوت کے نفوذ کو بھی کمزور کیا جائیگا۔ایک اور بڑا فائدہ اس سے یہ حاصل ہوگا کہ اسلام کے نمائندہ اہل علم عوام کی راہنمائی ان تحریکوں کی طرف کرینگے جن کا رویہ واقعی اسلامی حکومت کے قیام کے لیے موزوں ہو۔اسلام کے نام پر موجود تحریکوں کی طرف جب مسلکی یبنیادوں پر راہنمائی نہیں ملی گی تو یہ تحریکیں یا تو اپنے رویوں کی اصلاح کرینگے یا کم از کم دین کے نام پر یہ تحریکیں مزید نہیں چل پائی گی۔اہل علم کی اس راہنمائی کے نتیجے میں حقیقی بنیادوں پر اسلامی حکومت کے قیام کے لیے جد و جہد کرنے والے تحریکوں کو افرادی قوت ملی گی۔

یہ تحریکیں اپنی فطری ساخت کی بنا پر ان میں آنے والے افراد کی فکری تربیت کو عملی بنیاد پر کریگی جس کی وجہ سے ایسے تحریکوں میں اخلاص کے ساتھ کام کرنے والے لوگ پیدا ہونگے۔اب ظاہر ہے کہ جس تحریک کے پشت پر ایسے افراد وافر مقدار میں میں موجود ہو جن کا ان تحریکوں کے ساتھ مضبوط فکری و نظریاتی رشتہ ہو۔جن میں صبر،استقامت،للہیت،اور خلوص ہو۔تو اب ان کے پاس وہ سب کچھ موجود ہیں جن کی بنیاد پر تحریکیں عملی طور پر حکومتی اصلاح کے پوزیشن میں آتی ہیں۔

اگر اس بحث پر غور کیا جاۓ تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی بنیادوں پر حکومتوں کے اصلاح کے لیے سب سے اہم اور بنیادی کام اہل علم کرتے ہیں مگر ایسے اہل علم جو حقیقی معنوں میں اسلام اور امت کے نمائندگی کرنے والے ہو نہ کہ مسلک کے بنیاد پر لوگوں کی راہنمائی کے قائل ہو۔مسلکی بنیاد پر راہنمائی کرنے والے اہل علم صرف یہ نہیں کہ اسلامی نظام کے قیام کے لیے کچھ کرتے نہیں بلکہ ایسے اہل علم حقیقی معنوں میں اسلامی نظام کے قیام کے لیے اٹھنے والے تحریکوں کو نقصان بھی پہنچاتے ہیں۔اس وقت چونکہ حکومتوں کی بگاڑ کی وجہ سے مجموعی طور پر ہر شعبہ بگاڑ کا شکار ہے اس لیے آج امت کو ایسے اہل علم کی شدید ضرورت ہے جو امت کی راہنمائی والا رویہ اختیار کریں اور مسلکی رویوں کو ترک کر دیں۔

جو اہل علم ان سنگین اور امت کے قابل رحم حالات میں بھی مسلکی رویوں پر قائم رہے اور مسلکی رویے کو اسلام کے مجموعی رویے پر ترجیح دیں تو امت کی نمائندگی کرنے والے اہل علم حضرات کی ذمہداری بنتی ہے کہ اس قسم کے رویوں پر دردمندانہ اور موثر انداز سے علمی تنقید کریں۔جس کے نتیجے میں یا تو وہ اپنے اختیار کردہ مسلکی رویوں پر نظرثانی کرکے اپنی اصلاح کریں اور یا کم از کم عوام پر ان کی وجہ سے پڑنے والے منفی اثرات کا راستہ روکا جاسکے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے