محاسبہ

زندگی یک رنگی ہے نہ یک رُخی، بلکہ اس کا ہر دن اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے اور ہر گزرتا لمحہ ایک نیا تجربہ اور نیا منظر نامہ پیش کرتا ہے۔ کبھی خوشیوں کی کیفیت ہوتی ہے، کبھی مصروفیات کا ہجوم اور کبھی معمولاتِ زندگی کی وہی روایتی دھوپ چھاؤں۔ مگر نئے سال کی دہلیز پر خود احتسابی کا جو موقع ملتا ہے ، وہ باقی دنوں سے قدرے مختلف ہوتا ہے اور میرے نزدیک اسے مختلف ہونا بھی چاہیے۔

میں نئے سال کی نمود سے پہلے، معمول سے ہٹ کر اپنے گھر کی چھت پر تنہا بیٹھا گزرے مہینوں کے شب و روز کو عالمِ خیال میں دہرا رہا تھا۔خاموشی اگر تنہائی کا ساتھی بن جائے تو ہمیں اپنی ذات کی دولت مل جاتی ہے لیکن بدقسمتی سے ہم داخل اور خارج کے شور میں ایسے الجھے رہتے ہیں کہ ہمیشہ ہمارا دامن خالی ہی رہتا ہے۔ ایک پل میں اٹھنے والے شور نے مجھے مجھ سے چھین لیا نگاہ اٹھا کر تو دیکھا تو خلقتِ خدا کا ایک اژدھام نظرا آیا ۔دور افق پر لوگوں کے جوش و خروش، قہقہوں کی گونج اور آتش بازی کا شور سنائی دے رہا تھا۔ یوں لگ رہا تھا ،جیسے وقت گزرنے پر سب کو خوشی حاصل ہو رہی ہو۔ لیکن اس ہنگامے کے بیچ ایک سوال مسلسل میرے اندر ڈوبتا ابھرتا رہا ۔ کہ "آخر کار، سال گزر جانے پر انسان اتنے خوش کیوں ہوتے ہیں؟” میں دیر تک سوچتا رہا اور بار بار خود سے یہی سوال کرتا رہا کہ ہماری زندگی سے ایک سال ختم ہونے پر یہ خوشی اور سرشاری کیا معنی رکھتی ہے؟ وہ دن جو گزر گئے، وہ لمحے جو ضائع ہو گئے یا ریت کی مانند ہاتھ سے پھسل گئے، دوبارہ واپس نہیں آ سکتے۔ وقت تو رکنے والا نہیں ، وہ بس آگے ہی آگے بڑھتا ہے اور ہمیں پیچھے چھوڑ جاتا ہے۔

میرے اندر اٹھنے والے سوالوں نے مجھے پریشان کیا تھا۔ میں وقت کے پنجرے میں قید انسان اور وقت سے اس کے تعلق پر سوچتا رہا۔ میری پریشانی بڑھتی رہی ، میں خود سے سوال کرتا رہا کہ آیا یہ خوشی اور جشن ہی سال بدلنے کا اصل مقصد ہے؟ کیا اس غل غپاڑے میں کوئی ایک بھی ایسا لمحہ میسر آسکتا ہے جوہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرے کہ ہم نے سال کے آغاز میں جس سفر کا آغاز کیا تھا آج اس سال کے اختتام پر ہم کہاں کھڑے ہیں؟ کیا ہم پہلے سے زیادہ باشعور ہوئے؟ کیا محض تاریخ کے ہندسے بدلنے ہی کو ہم کامیابی سمجھ لیں؟ میں آدھی رات تک اسی کشمکش میں رہا لیکن میرے سوال کا کوئی جواب مجھے نہ ملا۔ پھر جب سونے کو جی چاہا، تو میں نے دیکھا کہ بعض لوگ اس وقت بھی آتش بازی میں مصروف تھے۔

میں شور اورخاموشی کے درمیان تصورات کی آغوش میں ان سوالات کے جوابات اپنے اندر تلاش کرتا رہا۔مجھے یہ لگ رہا تھا کہ زندگی کا اصل حسن شور میں نہیں بلکہ شعور میں ہے۔ اور وقت کا احترام جشن سے نہیں محاسبے سے ہوتا ہے۔ اسی جائزے کی بنیاد پر میں نے آنے والے سال کے لیے ایک نیا لائحہ عمل بھی تیار کیا اور خود سے عہد کیا کہ گزرے سال میں جتنے سبق سیکھے ہیں انہیں کبھی فراموش نہیں کروں گا اور میں اپنے ہر نئے سال کو صرف تبدیلی کا جشن نہیں بلکہ سوچ اور عمل کی بہتری کا سال بناؤں گا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے