گزشتہ چند دنوں سے یہ بحث شدت اختیار کرگئی ہے کہ کیا قراقرم یونیورسٹی جیسے اہم ادارے کا وائس چانسلر کسی لوکل فرد کو ہونا چاہیے یا نہیں، یا کسی لوکل کو کیوں نہیں بنایا جاتا؟ ۔اس بحث نے مجھے پندرہ برس کے اپنے مشاہدات اور تجربات پر سنجیدگی سے غور کرنے پر مجبور کیا ہے۔
گزشتہ ڈیڑھ دہائی کے دوران مجھے گلگت بلتستان میں مختلف اعلیٰ عہدوں پر فائز افسران اور ذمہ داران کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہاں عہدہ جتنا بلند ہوتا جاتا ہے، تعصبات بھی اکثر اتنے ہی گہرے ہوتے چلے جاتے ہیں۔ مذہبی، مسلکی، علاقائی، قبائلی، لسانی اور خاندانی وابستگیاں بعض اوقات میرٹ، انصاف اور ادارہ جاتی تقاضوں پر حاوی نظر آتی ہیں۔
اکثر فیصلے اہلیت اور اصولوں کے بجائے ذاتی پسند و ناپسند، تعلقات اور وابستگیوں کی بنیاد پر ہوتے دکھائی دیتے ہیں، جس کا خمیازہ بالآخر عام، بے اختیار اور معصوم لوگوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔ میں خود بھی پندرہ برس کے دوران کئی مرتبہ، لوکل آفیسران کے ایسے رویّوں کا سامنا کرچکا ہوں، خصوصاً ان افراد کی جانب سے جنہیں کبھی اپنا سمجھا تھا۔
نان لوکل افسران کی طرف سے اگر کہیں ناانصافی ہوجائے تو کم از کم یہ احساس ضرور رہتا ہے کہ سامنے والا اجنبی ہے، اس سے کسی ذاتی توقع کی بنیاد نہیں تھی۔ لیکن جب اپنا کہلانے والا شخص ہی تعصب، جانبداری اور ناانصافی پر اتر آئے تو "لوکل” ہونے کا نعرہ اپنی معنویت کھو دیتا ہے۔
میری ذاتی رائے اور تجربے کی روشنی میں، گلگت بلتستان کے بڑے اور مرکزی عہدوں کے لیے اصل معیار میرٹ، اہلیت، دیانت اور غیرجانبداری ہونا چاہیے، نہ کہ صرف لوکل یا نان لوکل کی شناخت۔ اگر کوئی فرد تعصبات سے بالاتر ہوکر ادارے کو انصاف کے ساتھ چلا سکتا ہے تو وہی اس منصب کا حق دار ہے، چاہے اس کا تعلق کہیں سے بھی ہو۔ اور خاص کار ہمارے لوکلوں میں اتنا شعور آیا نہیں کہ وہ مذہب ،قبیلہ اور علاقہ کی کھڑپنچیوں سے باہر آجائیں۔
میرے پاس لوکل بڑوں کی ایسی متعدد مثالیں موجود ہیں جنہوں نے مذہب و قبیلہ اور علاقہ و زبان کی بنیاد پر دیگر کی زندگی اجیرن کر دی ہے، مگر افراد کے نام لینا مناسب نہیں۔ قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی سے متعلق ایک ذاتی تجربہ ضرور ذکر کرنا چاہوں گا، ضلع غذر میں یونیورسٹی کے ایک لوکل عہدے دار کے ساتھ چند دن کا واسطہ پڑا۔ بدقسمتی سے اس کا رویہ اس قدر جانبدار اور متعصبانہ تھا کہ معاملہ تحریری شکایت تک جا پہنچا اور میں نے آٹھ صفحات پر مشتمل مفصل خط وی سی اور دیگر اعلی حکام کو لکھا۔ اس وقت وی سی اور ایک مرکزی افسر نان لوکل تھے، جس کی وجہ سے کسی حد تک انصاف کی امید باقی رہی۔ اگر وہاں بھی اگر کوئی لوکل ہوتا تو بخدا میں تعصب کی نظر ہوجاتا تو شاید صورتحال کہیں زیادہ خراب ہوتی۔
آخر میں بس یہی عرض ہے کہ
براہِ کرم "لوکل، لوکل” کی تکرار کے بجائے اداروں کے مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے صلاحیت، میرٹ اور کردار کو ترجیح دی جائے۔ جو شخص تعصب کا شکار ہو، وہ نہ ادارے کے لیے موزوں ہے اور نہ ہی کسی بڑے عہدے کے لائق۔ گزشتہ چند سالوں میں قراقرم یونیورسٹی کے اسی وی سی پروفیسر عطاء اللہ شاہ کی پالیسیوں اور فیصلوں پر سخت تنقیدی کالم لکھے، لیکن انہوں نے خاموشی سے ہضم کرلیا، بخدا ان کی جگہ کوئی لوکل ہوتا تو وہ ہمیشہ کے لیے یونیورسٹی میں ہماری انٹری بند کر دیتا۔ لہذا سچ جان کر جیو اور یہ لوکل اور نان لوکل کی لن ترانیاں ختم کریں۔