در حقیقت، انسان سچ کا متلاشی نہیں رہا وہ صرف اپنی رائے کا محافظ بن چکا ہے۔ ہم سچ اس لیے نہیں مانتے کہ وہ سچ ہے، بلکہ اس لیے مانتے ہیں کہ وہ ہمارا ہے۔ جو بات ہمارے زاویۂ نظر سے میل نہ کھائے، وہ فوراً غلط، گمراہ کن، یا خطرناک قرار دے دی جاتی ہے۔ ہم اختلاف کو فکری موقع نہیں سمجھتے، ہم اسے ذاتی حملہ سمجھتے ہیں۔
نطشے نے بہت پہلے خبردار کیا تھا کہ انسان حقیقت برداشت نہیں کر سکتا، اس لیے وہ اقدار گھڑ لیتا ہے۔ مگر ہم نے اس انتباہ کو نظرانداز کیا۔ ہم نے اخلاق، مذہب، قوم، نظریہ—سب کو ڈھال بنا لیا تاکہ ہمیں کبھی اپنے یقین پر شک نہ کرنا پڑے۔ در حقیقت، ہمیں سچ نہیں چاہیے، ہمیں وہ آئینہ چاہیے جس میں ہم ہمیشہ درست نظر آئیں۔
ہم یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ ہمارا زاویہ محدود ہے۔ ہم یہ تسلیم کرنے سے ڈرتے ہیں کہ ممکن ہے ہم غلط ہوں۔ اس لیے ہم “میرا نظریہ” کو “واحد سچ” بنا دیتے ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں سوچ مر جاتی ہے اور عقیدہ جنم لیتا ہے۔ نطشے کا “اوورمین” اس لیے خطرناک تھا کہ وہ سوال کرتا تھا—اور ہم سوال کرنے والوں سے نفرت کرتے ہیں، کیونکہ وہ ہمارے سکون میں خلل ڈالتے ہیں۔
کافکا کی دنیا میں انسان ایک ایسی عدالت میں پھنسا ہے جہاں قوانین موجود ہیں مگر منطق غائب ہے۔ در حقیقت، یہ کوئی خیالی دنیا نہیں یہ ہماری روزمرہ زندگی ہے۔ ہم نظام پر تنقید کرتے ہیں، مگر اسی نظام کی منظوری کے بغیر جینا بھی نہیں چاہتے۔ ہم انصاف مانگتے ہیں، مگر صرف اپنے لیے۔ جب فیصلہ ہمارے حق میں ہو تو وہ “سچ” ہوتا ہے، اور جب خلاف ہو تو “سازش”۔
کافکا کا المیہ یہ نہیں کہ کردار ہار جاتا ہے، المیہ یہ ہے کہ وہ کبھی یہ سوال نہیں کرتا کہ وہ کھیل کا حصہ کیوں ہے۔ ہم بھی یہی کرتے ہیں۔ ہمیں زنجیریں دکھائی دیتی ہیں، مگر ہم ان کی چمک سے متاثر ہیں۔ ہم آزادی کے نعرے لگاتے ہیں، مگر صرف اس حد تک جہاں تک وہ ہمارے مفاد کو چوٹ نہ پہنچائے۔
اور پھر ڈائیوجینز—جو تہذیب کی گندگی میں بیٹھ کر ہنستا تھا۔ وہ چراغ لے کر “انسان” ڈھونڈتا تھا، کیونکہ اسے ہجوم تو بہت نظر آتا تھا، انسان نہیں۔ در حقیقت، ہم تہذیب کے نام پر سب سے زیادہ غیر مہذب ہو چکے ہیں۔ ہم نے لباس پہن لیا، الفاظ سیکھ لیے، آداب رٹ لیے—مگر سچ سے آنکھ ملانے کی ہمت کھو دی۔
ڈائیوجینز کا پاگل پن دراصل ہماری عقلمندی پر طنز تھا۔ وہ ننگا اس لیے تھا کہ ہم اپنی منافقت چھپا نہ سکیں۔ اس نے ہمیں بتایا کہ مسئلہ غربت، ریاست یا مذہب نہیں—مسئلہ یہ ہے کہ ہم خود سے جھوٹ بولتے ہیں، اور پھر چاہتے ہیں کہ دنیا ہمیں سچا مان لے۔
نطشے خدا کو “مرا ہوا” کہتا ہے، مگر ہم نے خدا کو مارا نہیں ہم نے اسے اپنی رائے کا ترجمان بنا لیا۔ ہر شخص کا خدا اس سے اتفاق کرتا ہے، ہر نظریہ خود کو مقدس کہتا ہے۔ در حقیقت، ہم خدا، سچ اور اخلاق—سب کو اپنی انا کے تابع کر چکے ہیں۔
ہم اختلاف برداشت نہیں کرتے، کیونکہ اختلاف ہمیں ہماری کمزوری دکھاتا ہے۔ ہم مکالمہ نہیں چاہتے، ہم توثیق چاہتے ہیں۔ سوشل میڈیا سے لے کر مذہبی منبر تک، ہر جگہ ایک ہی بیماری ہے: جو مجھ سے متفق نہیں، وہ یا تو جاہل ہے یا دشمن۔
در حقیقت، سب سے خطرناک انسان وہ ہے جو خود کو مکمل طور پر درست سمجھتا ہے۔ کیونکہ وہ سیکھ نہیں سکتا، بدل نہیں سکتا، اور سن نہیں سکتا۔ وہ صرف فیصلہ کرتا ہے۔ وہی ہجوم بناتا ہے، وہی عدالت چلاتا ہے، وہی چراغ بجھا دیتا ہے۔
اگر ڈائیوجینز آج زندہ ہوتا تو شاید وہ چراغ بھی نہ اٹھاتا کیونکہ اندھیروں کی کمی نہیں، مگر دیکھنے والوں کی ہے۔ اور اگر نطشے آج بولتا تو شاید فلسفہ نہیں لکھتا، کیونکہ ہم نے سوال کو ہی جرم بنا دیا ہے۔ اور کافکا؟ وہ بس مسکرا کر کہتا: “میں نے تو پہلے ہی بتا دیا تھا۔”
در حقیقت، سچ کبھی شور نہیں مچاتا۔ وہ خاموش ہوتا ہےاور اسی خاموشی سے ہم گھبراتے ہیں۔ کیونکہ اگر ہم نے واقعی سچ سن لیا، تو ہمیں ماننا پڑے گا کہ ہمارا زاویۂ نظر صرف ایک زاویہ تھااور یہی اعتراف ہمیں سب سے زیادہ خوفزدہ کرتا ہے۔