جمہوریت اور سرمایہ داریت کے نئے قالب: مولانا فضل الرحمٰن کا مقدمہ

بیسویں صدی "نظریاتی سیاست” کی صدی کہلائی جاتی ہے ۔ اس صدی کے اوائل میں عالمی اور مقامی سیاست واضح طور پر دو دھاروں میں منقسم نظر آتی ہے ۔ ایک طرف مغرب کا جمہوری نظام ہے ، جس کی پشت پر پوری طاقت سے سرمایہ داریت کھڑی ہے اور دوسری طرف اشتراکیت کی معاشی فکر ایک خاص طرز کا ارتکاز اختیار سموئے آمریت کا پرتو معلوم ہوتی ہے ۔

برصغیر میں اشتراکیت کے خلاف علمی و عملی سطح پر بہت کچھ لکھا گیا حالانکہ وہ "ردعمل” اور وقتی ابھار سے زیادہ کچھ نہیں معلوم ہوتا لیکن سرمایہ داریت کے حوالے سے یہاں کے علمی رویے زیادہ تر سمجھوتے پر آمادہ نظر آتے ہیں ۔ بہرحال بڑے کینوس پر یہ دو دھارے متوازی سفر کرتے ہوئے نظر آتے اور اسی کے لازمی اقتضاء کے طور پر تیسری دنیا میں بالخصوص یہ تقسیم نمایاں دیکھی جاتی۔ جسے ہمارے ہاں بالعموم دائیں بازو کی سیاست اور بائیں بازو کی سیاست کی بلیغ تعبیر دی جاتی رہی ہے ۔ یہاں تفصیل کا موقع نہیں لیکن حیرت انگیز طور پر مذہبی سیاست کا دیوبندی نکتہ نظر ، جماعت اسلامی وغیرہ کے برعکس زیادہ تر بائیں بازو کے حلقہ ہائے فکر سے میلان اور اشتراک عمل کرتا آیا ہے۔

سوویت یونین کے سقوط کے بعد طاقت کا توازن بگڑا اور گزشتہ چار دہائیوں سے تقریباً ، مغربی سرمایہ داریت کا دیو جمہوریت کے قبا میں پائے کوب ہو کر بلاشرکت غیرے دنیا پر راج کر رہا ہے ۔

مولانا فضل الرحمٰن پاکستان میں جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ ہیں اور جمعیت اپنا فکری انتساب جمعیت علماء ہند اور دیوبند کے ان علماء کی طرف کرتی ہے جن کا ماضی برصغیر میں کسی خاص مذہبی یا مسلکی بنیاد پر سیاست کے بجائے معاشی و معاشرتی رجحانات کے ہمہ جہت پہلوؤں کو پیش نظر رکھ کر "سیکولر” رہا ہے ۔ (ظاہر ہے کہ یہاں سیکولر کی اصطلاح اپنے معروف معانی سے خالی اور ایک خاص سیاق میں استعمال ہو رہی ہے) برصغیر جیسے کثیر المذہبی خطے کے لیے بجائے فرقہ واریت کے یہی اپروچ موزوں تھی ۔

ایڈم اسمتھ کہتا ہے کہ برطانیہ میں عیسائیت کو تین ہزار ایسے چھوٹے چھوٹے فرقوں میں تقسیم کر دینا چاہیے جو ملکی وحدت کو پارہ پارہ کر دیں اور ہر فرقے کی پوری توجہ ملکی معاملات سے ہٹ کر اپنے نظریاتی تشخص کے دفاع اور فروغ پر مخصوص ہو۔ ریاست کو ان تمام فرقوں کے درمیان ایک غیر جانبدار ناظر کا کردار ادا کرنا چاہیے اور فرقہ وارانہ بحثوں کو فروغ دیتے ہوئے کسی کو بھی حاکمیت قانونِ سرمایہ سے حکم عدولی کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔
(سرمایہ داری کے نقیب از ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری، صفحہ ۸۱ طبع اول ستمبر ۲۰۱۹ء، لیگی بلکس، لاہور)

مولانا نے پاکستان میں مذہبی نظریاتی سیاست کے لیے جس معتدل رویے اور لچکدار طرز عمل کا حسین امتزاج پیش کیا ہے وہ واقعتاً "منہج الجامع” معلوم ہوتا ہے ۔ یعنی نظام کی سطح پر جوہری اور جزوی نوعیت کی مذہبی اصلاح و ترمیم اور عملی طور پر جمہوری و آئینی حکمت عملی ماضی کو حال کے ساتھ بڑی عمدگی کے ساتھ مربوط کر رہی ہے ۔

معروضی سیاسی سوالات سے ہٹ کر ، سوچنے والے اذہان کے لیے مولانا کی تقاریر میں آجکل ایک نیا نکتہ سامنے آ رہا ہے ۔ ان نکتے میں ان کا مقدمہ یہ ہے کہ مغربی جمہوریت کے لبادے میں چھپا سرمایہ داریت کا بے رحم دیو رفتہ رفتہ نقاب سرکا رہا ہے اور جمہوریت کی علامتی بقا کے باوجود عملی اقتدار پورے ارتکاز کے ساتھ کارپوریٹ سیکٹر کی طرف منتقل ہو رہا ہے ۔ اگرچہ ماضی میں بھی جمہوری نظام کی بالادستی پوری دنیا میں نمائشی ہی رہی ہے تاہم سیاسی قیادت اور کارپوریٹ قیادت ایک دوسرے کو اکاموڈیٹ کرنے کے باوجود الگ الگ دھارے کے طور پر موجود رہے لیکن اب کارپوریشنز خود کو متوازی انداز میں اخلاقی ، سماجی طور پر ذمہ دار اور مسائل کا حل پیش کرنے والا ادارہ کے طور پر پیش کر رہی ہیں۔

مولانا کے اس مفروضہ کی ایک نمایاں مثال ڈونلڈ ٹرمپ اور ایلون مسک کا ریلیشن ہے ۔ ٹرمپ اور ایلون مسک کے تعلق کو سامنے رکھیں تو یہ ریاستی طاقت اور کارپوریٹ طاقت کے باہمی میل کی ایک علامتی مثال بن کر سامنے آتا ہے۔ ٹرمپ بطور سیاسی رہنما ریاستی اختیار، بیانیہ سازی اور عوامی سیاست کی نمائندگی کرتے ہیں، جبکہ ایلون مسک سرمایہ، ٹیکنالوجی، ڈیٹا اور مستقبل کی معیشت پر غیر معمولی کنٹرول کے ساتھ جدید کارپوریٹ طاقت کی مجسم صورت ہیں۔ دونوں کے درمیان تعلق کسی مستقل نظریاتی ہم آہنگی سے زیادہ مفاد، اثر و رسوخ اور طاقت کے تبادلے پر قائم رہا ہے۔ کبھی قربت، کبھی تناؤ، مگر مرکز میں ہمیشہ یہ حقیقت مسلم کہ جدید سیاست اب محض پارلیمان یا وائٹ ہاؤس میں نہیں بنتی بلکہ سلیکون ویلی، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور کارپوریٹ فیصلوں کے ساتھ جڑی ہوتی ہے۔

لاہور کے حالیہ سفر میں ، عزیزی سید جواد احمد کی معیت اور ایک محترم دوست کی عنایت سے محترم مولانا علی داؤد صاحب سے جامعہ اشرفیہ لاہور کے جوار میں ایک غیر رسمی مگر نہایت دلچسپ نشست رہی ۔ دوران گفتگو مولانا علی داؤد صاحب نے Joel Bakan کی کتاب THE NEW CORPORATION کے مطالعہ کی طرف توجہ دلائی ۔

جوئل باکن کینیڈا کی یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا میں قانون کے پروفیسر ہیں۔ وہ روڈز اسکالر رہ چکے ہیں اور کینیڈا کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس، برائن ڈکسن، کے ساتھ بطور لاء کلرک خدمات انجام دے چکے ہیں۔

انہوں نے آکسفورڈ، ہارورڈ اور ڈالہوزی یونیورسٹیوں سے قانون کی اعلیٰ ڈگریاں حاصل کیں۔وہ عالمی سطح پر ایک ممتاز قانونی ماہر کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ انہوں نے قانون اور اس کے سماجی و معاشی اثرات پر وسیع پیمانے پر تحریر کیا ہے۔وہ مشہور دستاویزی فلم اور ٹیلی وژن منی سیریز The Corporation کے شریک تخلیق کار اور مصنف ہیں، جو انہی کی اسی نام کی کتاب پر مبنی ہے۔اسی طرح انہوں نے دستاویزی فلم The New Corporation بھی لکھی اور ہدایت کی، جو اس کتاب پر مبنی ہے۔

بخدا ، لاہور کی فضا علم نواز ہے ۔ سید جواد احمد سے فوری کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے اور اس پر ڈسکشن کی درخواست کی ۔کتاب کے تعارف سے ہی مولانا فضل الرحمٰن کے بیان کردہ اس نکتہ کی توثیق ہو جاتی ہے ۔ مثلاً مصنف کے مطابق:

اپریل 2019 میں امریکہ میں ورلڈ ٹریڈ فورم کا سالانہ اجلاس ہوتا ہے جس میں "نئی کارپوریشن اخلاقیات” متعارف کروائی جاتی ہیں ۔ اب کارپوریٹ سیکٹر محض شیئر ہولڈرز نہیں رہے گا بلکہ وہ براہ راست سماجی مسائل دیکھے گا ۔ بڑی کمپنیوں کے سی ای اوز ، بزنس گروپس ، مالیاتی ادارے اور ملٹی نیشنل کمپنیز ملکی پالیسیوں پر اثر انداز ہونگی ، قانون سازی کا رخ متعین کریں گی اور میڈیا ، ریاستی بیانیہ اور مارکیٹ پر مزید قابو پائیں گی ۔ جس کے لازمی نتیجہ کے طور پر سیاست یا سیاستدان غیر موثر ہو جائیں گے ۔ اس منظر میں حکم کمپنی سرکار کا ہوگا حکومت اسے رسمی منظور کرے گی (مولانا فضل الرحمٰن کے الفاظ میں صرف انگھوٹا لگائی گی) اور عوام الناس جگر کا تماشا دیکھیں گی ۔
جوئل باکن کے مطابق جمہوریت کا قالب برقرار رہے گا لیکن اس سرمایہ داریت حلول کر کے مکمل اختیارات اپنے ہاتھ میں لے گی ۔

سبحان اللہ! منظر نامہ یہ ہوگا کہ پبلک کسٹمر ہوگی ۔ شہری برانڈ ہونگے ۔ سرمایہ تک رسائی کا عنوان انصاف قرار پائے گا اور ریاست کارپوریٹ مفاد کی مینیجر ہوگی ۔ (مولانا علی داؤد صاحب نے بتایا ، صحیح یاد نہیں ، کہ بعض مغربی مفکرین کے نزدیک ریاست بذات خود ایک کارپوریشن ہی ہے)

ریاست اور سرمایہ کی یہ بے اصول تال میل ایک مطلق العنان نظام پر منتج نظر آ رہی ہے ۔ جسے مولانا فضل الرحمٰن سرمایہ داریت اور آمریت کا ملغوبہ کہتے ہیں ۔

جائل باکن کہتے ہیں کہ اس نظام میں احتساب کا عمل کمزور ہو جاتا ہے ۔ اختلاف رائے یا احتجاج بغاوت کے مترادف قرار دیا جاتا ہے اور عوام الناس عملاً غیر متعلق محسوس ہوتے ہیں ۔ (حالیہ آئینی ترامیم سے بہتر کیا مثال ہو سکتی ہے)

جائل باکن مزید کہتے ہیں کہ جب طاقت بظاہر ہی سہی لیکن جمہوری یا پارلیمانی جواب دہی سے آزاد ہو جاتی ہے تو پھر قوانین طاقتوروں کے لیے نرم اور کمزوروں کے لیے سخت تر ہو جاتے ہیں ۔ (تا حیات استثنیٰ اور کم عمری کی شادی دونوں قوانین بیک وقت ہماری اسمبلی سے پاس ہو رہے ہیں) یہ جبر ٹینکوں کے بل بوتے پر نہیں قانون ، معیشت اور بیانیہ کے کندھوں پر سوار ہو کر آتا ہے ۔ جبر کی یہ جدید شکل اگرچہ روایتی آمریت کی طرح نہیں ہے لیکن یہ قانون کی حکمرانی ، معاشی ضروریات اور خوشحالی اور استحکام کے نعروں کے ساتھ آتی ہے ۔ یہ آمریت بزورِ طاقت نہیں بزورِ قانون آئے گی ۔ جب تک ریاست اور سرمایہ اسی ساخت میں جڑے رہیں گے، "نئی کارپوریشن” پرانا ہی جابر نظام نئی اخلاقی زبان میں چلاتی رہے گی۔

مصنف دلچسپ بندہ ہے ۔ کہتا ہے کہ کارپوریشن جمہوریت سے لڑتی نہیں بلکہ اسے استعمال کرتی ہے ۔ جمہوری سرگرمیاں ختم نہیں ہوتی بلکہ وہ کارپوریٹ مفاد کے مطابق ڈھال دی جاتی ہیں ۔

تعارفی کلمات میں مصنف نے امریکی معیشت کے کچھ تجزیہ کے بعد اس خوش فہمی کا اظہار کیا ہے کہ مغربی معاشرہ زیادہ تر اس نظام کو قبول نہیں کر پائے گا ۔

مصنف کا یہ جملہ نہایت اہمیت کا حامل ہے کہ "اگرچہ کارپوریشنز دعویٰ کرتی ہیں کہ وہ ان مسائل کو حل کرنے کے لیے تیار ہیں، مگر حقیقت میں وہ ان عالمی بحرانوں کو حل نہیں کر سکتیں۔ اور سب سے اہم بات، جو میری دلیل کا مرکزی نقطہ ہے، یہ کہ یہ کارپوریشنز خود ہی ان مسائل کے بڑھنے کی ایک بڑی وجہ ہیں۔”

آنے والے وقت کی دھندلی سی تصویر مولانا فضل الرحمٰن نے دکھائی ، جس کا کچھ تجزیہ اس کتاب کے تعارفی کلمات میں نظر آیا تو برائے نقد و محاکمہ نذر قارئین کر دیا ۔ امید ہے کہ آپ ان سطور کو دلچسپی سے پڑھیں گے ۔

مصنف کے ایک شاہکار جملے سے اس تحریر کا اختتام کرنا چاہتا ہوں ۔

“Good” corporations are bad for democracy.

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے