خیبر پختونخوا کے محکمہ اعلی تعلیم نے لڑکیوں کے کالجز کے بارے میں ایک نوٹیفیکیشن میں ویلکم پارٹیز اور اس طرح کی دیگر سرگرمیوں کے دوران موسیقی، رقص اور فیشن شوز پر پابندی عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی تقریبات میں موبائل فون کی اجازت نہیں ہو گی۔
یہ نوٹیفیکیشن ڈائریکیٹوریٹ آف ہائیر ایجوکیشن کی جانب سے جاری کیا گیا اور اس میں کہا گیا ہے کہ کالجز کے لیے جاری ایس او پیز (سٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز ) پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔
اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس طرح کی سرگرمیوں میں طالبات اپنے یونیفارم میں شریک ہوں گی۔
عام طور پر کالجز اور یونیورسٹیز میں تعلیمی سرگرمیوں کے علاوہ ایک یا دو ایسی سرگرمیاں منعقد ہوتی ہیں جن میں نئے آنے والے طلبا اور طالبات کو خوش آمدید کہا جاتا ہے اور تعلیم مکمل کر کے جانے والے طلبہ کے لیے فیئر ویل پارٹی کا انعقاد کیا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ سپورٹس گالا کی تقریب بھی منعقد ہوتی ہے اور ان میں طالبات اور طلبا یونیفارم کے علاوہ دیگر لباس پہننے کو ترجیج دیتے ہیں تاہم اب اس پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
یہ نوٹیفیکیشن سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر اس بارے میں ملا جلا ردِعمل سامنے آیا اور مختلف سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں۔
جیسے کہ اس نوٹیفیکیشن کی ضرورت کیوں پیش آئی، اس کے علاوہ یہ بھی پوچھا جا رہا ہے کہ یہ پابندی صرف خواتین کالجز پر کیوں عائد کی گئی اور لڑکوں کے کالجز پر پابندی کیوں نہیں؟
اس بحث میں جانے سے قبل دیکھتے ہیں کہ نوٹیفیکیشن میں کیا کہا گیا۔