ہمارا موجودہ معاشرہ دن بدن تنزلی کی طرف بڑھ رہا ہے، جس میں اخلاقی انحطاط، ذہنی پستی اور باہم چپقلش کا ہر سو راج ہے۔
جہاں اس بات کی دوڑ لگی ہوئی ہے کہ کون بہتر ہے، کس کی حیثیت اچھی ہے۔ لوگ ایک دوسرے سے موازنہ کرتے ہیں اور پھر آپسی تقابل کے نتیجے میں بہتر و ابتر کا فیصلہ کرتے ہیں۔
جس کا حتمی اختتام اس بات پر ہوتا ہے کہ ہر شخص مال و زر کی فروانی کے حصول میں مگن ہے۔ اس کے لیے کوئی بھی طریقہ یا ذریعہ ہو، بر وقت بروئے کار لایا جائے۔ لہٰذا حرام و حلال کی تمیز، خیر و شر کی پہچان اور اچھے و برے کا فرق ختم ہوتا جا رہا ہے۔
ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے ہاتھ میں گھڑی کسی معروف برانڈ کی ہو۔
اس کے چہرے پر لگا چشمہ کسی انٹرنیشنل کمپنی کا ہو۔
اس کے پاؤں کے جوتے خود بول کر بتا رہے ہوں کہ مجھے فلاں شو میکر سے خریدا گیا ہے۔
اس سارے خود پسندی و بت پرستی کے ہیر پھیر میں ایک طبقہ ایسا ہے جس کے لب پہ نہ فریاد ہے اور نہ آہ و فغاں، اور کبھی آپ اس طبقے کو شکوہ کناں اور حالات کا نوحہ بیان کرتے ہوئے نہیں پائیں گے، بلکہ ہمہ وقت اس کی زبان پر ایک ہی لفظ ہوتا ہے: الحمد للہ، بہت اچھی گزر رہی ہے، اور وہ سبھی ضروریات کو پورا کر رہا ہے۔ یقیناً آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ میں کس طبقے کی بات کر رہا ہوں۔
جی ہاں، وہی طبقہ جسے ہمارا معاشرہ مولوی، علما، پیش امام یا امامِ جمعہ کا نام دیتا ہے۔
یہ وہ لوگ ہیں جو جنریشن زی کے دور میں بھی پچیس ہزار یا تیس ہزار پر بہترین گزر بسر کر رہے ہیں اور کبھی بھی نالاں نہیں دکھائی دیتے، حالانکہ ان کی ڈیوٹی کے اوقاتِ کار میں کوئی فرصت کا لمحہ نہیں، کوئی چھٹی کا دن نہیں۔ اور اگر ذمہ داری کی بات کی جائے تو تعلیم و تعلم، معاشرتی نظم و ضبط، لوگوں کی نجی و اجتماعی محافل تک ان کے بغیر نہ صرف نامکمل رہتی ہیں بلکہ ان کے پورے ہونے کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا۔ اور اس پہ مستزاد اس طبقے کے حصے میں تحقیر و تذلیل اور تمسخر آتا ہے۔
ملک کے بیشتر مسائل کی جڑ بھی انہیں قرار دیا جاتا ہے۔ طعن و تشنیع، جاہل و اجڈ اور گنوار جیسی کراہت زدہ اصطلاحوں کی بھی زد میں یہ طبقہ رہتا ہے، اور بعض لوگ تو انہیں معاشرے کا سب سے کمتر، نکما اور فضول شخص قرار دیتے تھکتے نہیں۔
حالانکہ یہی وہ طبقہ ہے جو ویلفیئر کے نام پر ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں ملک کے نونہالوں کو اپنے پروں تلے چھپائے ہوئے ہے، جن کی تعلیم و تربیت، صحت و کفالت کی دراصل ذمہ داری ریاست کی تھی، مگر جب ریاست نے اپنے کام سے آنکھیں چرائیں تو اس طبقے نے آگے بڑھ کر انہیں یہ ساری سہولیات فراہم کر کے ایک بامقصد شہری بنایا۔ اس طرح کی اور بھی بے شمار مثالیں ہیں اس طبقے کی، مگر اس کے باوجود ہمارا نام نہاد تعلیم یافتہ طبقہ یہ کہتے نہیں تھکتا کہ مسائل مولوی یا پھر مذہبی لوگوں کے باعث ہیں۔
مجھے ایسے لوگوں کی دانش پر بڑی حیرت ہوتی ہے جب وہ کسی مخصوص واقعے کو بنیاد بنا کر نہ صرف لاٹھی لے کر ان کے پیچھے پڑ جاتے ہیں بلکہ اگر ان کے بس میں ہو تو اس طبقے کا گلا گھونٹنے میں بھی دیر نہ کریں، مگر اس کے برعکس ایپسٹین فائلز سے لے کر جینو سائیڈ تک سبھی واقعات پر چپ سادھ لیتے ہیں اور نعرہ بلند کرتے ہیں: جیو اور جینے دو۔
خدارا، اس تھیوری کو جب اگر کبھی کوئی شخص جس کا تعلق اس طبقے سے ہو، غلط حرکت کرے تو یہاں بھی اپلائی کر لیا کریں۔ لیکن افسوس، ہمیں لبرلز بھی لنڈے کے ملے۔