قمر رُعینی: مردِ درویش اور مشعلِ راہ

تقسیم ہند سے قبل الہ آباد ہندوستانی ادب کا نہایت زرخیز اور معتبر مرکز تھا۔ اسی دور میں ترقی پسند تحریک اپنی جڑیں مضبوط کر رہی تھی، اور الہ آباد جیسے علمی و ادبی شہر میں نئے خیالات اور انقلابی رجحانات پروان چڑھتے دکھائی دیتے تھے۔ مشاعرے، ادبی نشستیں اور رسائل و جرائد نے اردو ادب کو ایک نئی سمت عطا کی، جس میں سماجی انصاف، آزادی کی جدوجہد اور انسانی مساوات جیسے موضوعات نمایاں تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ادب محض جمالیاتی اظہار تک محدود نہ رہا بلکہ سماجی و سیاسی شعور کی گونج بن گیا۔ الہ آباد کی فضا میں لکھنے والوں نے قلم کو ہتھیار بنایا اور ادب کو عوامی بیداری کا مؤثر وسیلہ بنا دیا۔

عبد الحمید قمر رُعینی 4 فروری 1936 کو الہ آباد، ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ والد محمد باقریدی ایک سادہ مگر باوقار شخصیت کے حامل تھے، جبکہ والدہ کے بارے میں مستند معلومات دستیاب نہیں۔ ان کا تعلق ایک متوسط مگر علمی ذوق رکھنے والے گھرانے سے تھا، جہاں علم، تہذیب اور شائستگی کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ قمر رُعینی کے دو بھائی، مجید اور زبیر، اور ایک بہن تھیں جن کا نام محفوظ نہیں۔ گھریلو ماحول سادہ مگر تربیتی اعتبار سے مضبوط تھا، اور اسی فضا نے ان کی شخصیت میں انکسار، اخلاقی توازن اور شائستگی کو پروان چڑھایا۔

عبد الحمید قمر رُعینی معروف نعت گو شاعر، ادیب، مدیر اور محقق تھے جن کی زندگی اور ادبی خدمات بالخصوص نعتیہ ادب میں ان کے فکری و تخلیقی مقام کا منظم مطالعہ اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ انہوں نے نعت کو محض جذباتی وابستگی تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے فکری شعور، تحقیقی دیانت اور فنی وقار کے ساتھ برتا، اور یوں اردو ادب میں نعت کو ایک بلند اور معتبر مقام عطا کیا۔ اردو ادب میں نعتیہ شاعری ہمیشہ ایک حساس اور مقدس صنف رہی ہے، مگر ہر دور میں چند ہی شعرا ایسے سامنے آئے جو اس صنف کو عقیدت کے اظہار سے آگے بڑھا کر فکری ذمہ داری کے ساتھ سنوار سکے؛ قمر رُعینی اسی روایت کا روشن حوالہ ہیں۔ ان کی شخصیت ہمہ جہت تھی. وہ شاعر، نثر نگار، مدیر، محقق اور مربی بھی تھے۔ برصغیر کی تقسیم، ہجرت کے تجربے، معاشی جدوجہد اور ادبی استقلال نے ان کی فکر کو گہرائی بخشی، جس کا عکس ان کی نعتیہ شاعری اور تنقیدی رویے میں نمایاں طور پر جھلکتا ہے۔

تقسیم ہند کے ہنگامہ خیز حالات میں عبد الحمید قمر رُعینی نے پاکستان کی طرف ہجرت کی۔ یہ ہجرت محض جغرافیائی تبدیلی نہ تھی بلکہ ایک فکری موڑ اور نئی زندگی کی بنیاد ثابت ہوئی۔ اجنبیت، عدم تحفظ اور نئے معاشرے میں جگہ بنانے کی جدوجہد نے ان کے شعری شعور کو غیر معمولی گہرائی بخشی۔ یہی تجربات بعد ازاں ان کی نعتیہ شاعری میں فکری پختگی اور تخلیقی وقار کی صورت میں نمایاں ہوئے۔

سنہ 1948 میں پہلی مرتبہ وہ ہندوستان سے پاکستان آئے۔ والدہ سے ملاقات کے لیے دوبارہ ہندوستان گئے اور 1950 میں واپس پاکستان لوٹ آئے۔ اس کے بعد کچھ عرصہ کراچی میں مقیم رہے، جہاں انہوں نے اردو میں گریجویشن مکمل کیا۔ بعد ازاں راولپنڈی منتقل ہوئے اور اپنی عملی و ادبی زندگی کو آگے بڑھایا۔ 28 برس کی عمر میں ناصرہ قمر سے شادی کی اور تقریباً چوبیس برس نہایت سکون اور ہم آہنگی کے ساتھ ازدواجی زندگی گزاری۔ مارچ 1988 میں اہلیہ کے انتقال کے بعد انہوں نے دوبارہ شادی نہیں کی اور اپنی بقیہ زندگی عبادت، مطالعے اور ادب کے لیے وقف کر دی۔ ان کے تین بیٹے محمد ضیاء القمر، ذیشان قمر، معراج القمر اور تین بیٹیاں فردوس، رضوانہ اور عائشہ ہیں۔ گھریلو ذمہ داریوں کے باوجود ادب سے ان کا تعلق کبھی کمزور نہ پڑا، بلکہ وہ مسلسل اپنی علمی و ادبی وابستگی کو زندگی کا لازمی حصہ بنائے رہے۔

قمر رُعینی کا ادبی ذوق کم عمری ہی میں نمایاں ہو گیا تھا۔ پاکستان آنے کے بعد انہیں ایسا ماحول میسر آیا جس نے ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور سنوارنے کا موقع فراہم کیا۔ ابتدا میں انہوں نے مختلف اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی، مگر جلد ہی نعت کو اپنی اصل شناخت اور زندگی کا مقصد بنا لیا۔ پاکستان ہجرت کے بعد وہ "روزنامہ پرواز” سے وابستہ ہوئے، جہاں ان کی تحریری صلاحیتوں نے نہ صرف ادبی حلقوں میں انہیں پہچان دلائی بلکہ نعتیہ ادب کو بھی ایک نیا وقار بخشا۔ ان کے نزدیک نعت محض عقیدت کا اظہار نہیں بلکہ ایک عظیم امانت تھی، جس کے تقاضوں کو وہ لفظ، خیال اور حوالہ تینوں سطحوں پر غیر معمولی احتیاط کے ساتھ نبھاتے تھے۔ یہی سبب ہے کہ ان کی نعتیہ شاعری سنجیدہ قارئین کے نزدیک احترام اور وقار کی حامل ہے۔ ان کے کلام میں عشقِ رسول، اخلاقی تطہیر، سیرتِ نبوی سے عملی رہنمائی اور امتِ مسلمہ کے اجتماعی مسائل نمایاں طور پر جھلکتے ہیں۔ وہ نعت کو حقیقت سے فرار نہیں بلکہ اصلاحِ نفس اور اصلاحِ معاشرہ کا مؤثر وسیلہ سمجھتے تھے۔ ان کی زبان سادہ، رواں اور باوقار ہے، جس میں مبالغہ آرائی سے گریز، فکری توازن اور معنوی سنجیدگی نمایاں ہیںروایت سے وابستگی کے ساتھ وہ جدید شعور کو بھی نظرانداز نہیں کرتے، اور یہی امتزاج ان کے اسلوب کو منفرد اور معتبر بناتا ہے۔ دبستانِ راولپنڈی جو دراصل راولپنڈی و اسلام آباد کی شعری، ادبی اور ثقافتی تاریخ کا آئینہ ہے, میں ان کی تخلیقات اس روایت اور جدت کے حسین امتزاج کی نمائندگی کرتی ہیں، جس نے اس دبستان کو ایک معتبر ادبی حوالہ بنا دیا۔

قمر رُعینی نے ہمیشہ نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کی۔ وہ نہ صرف ان کے کام کو توجہ اور محبت سے پڑھتے بلکہ اس کی اصلاح بھی نہایت خلوص اور دیانت داری کے ساتھ کرتے۔ ان کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ یہ سب کچھ بلا معاوضہ کرتے، کیونکہ ان کے نزدیک ادب ایک اجتماعی وراثت ہے جسے آگے بڑھانا ہر صاحبِ قلم کی ذمہ داری ہے۔ وہ نوآموز لکھنے والوں کو اعتماد دیتے، ان کی کمزوریوں کی نشاندہی کرتے اور ساتھ ہی ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے رہنمائی فراہم کرتے۔ ان کا رویہ ہمیشہ مشفقانہ اور رہنمائی پر مبنی ہوتا، جس سے نئے لکھنے والے نہ صرف اپنی غلطیوں کو درست کرتے بلکہ مزید بہتر لکھنے کی طرف راغب ہوتے۔ قمر رُعینی کے اس عمل نے کئی نوجوان شعرا اور ادیبوں کو اپنی ادبی شناخت بنانے میں مدد دی۔ وہ سمجھتے تھے کہ اصل استاد وہ ہے جو شاگرد کے اندر چھپی ہوئی صلاحیت کو پہچانے اور اسے نکھارنے کے لیے راستہ دکھائے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے زیرِ سایہ تربیت پانے والے کئی لکھنے والے آج اردو ادب میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ یوں قمر رُعینی کی شخصیت صرف ایک محقق یا شاعر کی نہیں بلکہ ایک مربی اور رہنما کی بھی تھی، جو اپنی ذات کو دوسروں کے لیے وقف کر کے ادب کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتے تھے۔ ان کی یہ روایت آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن مثال ہے کہ علم اور ادب کا اصل حسن تب ہے جب اسے دوسروں تک بانٹا جائے اور نئی صلاحیتوں کو پروان چڑھایا جائے۔

ذیل میں عبد الحمید قمر رُعینی کی چند اہم کتابوں کا تعارف اور ان پر تنقیدی جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔

ولائے رسول

یہ قمر رُعینی کی سب سے معروف اور نمایاں نعتیہ تصنیف ہے، جس پر انہیں صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ یہ کتاب اردو نعتیہ ادب میں فکری گہرائی اور فنی حسن کی ایک درخشاں مثال سمجھی جاتی ہے۔ شاعر نے عشقِ رسول کو محض جذباتی وابستگی کے طور پر نہیں پیش کیا بلکہ اسے فکری شعور، اخلاقی تطہیر اور عملی رہنمائی کے ساتھ جوڑا ہے۔ اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں نعت کو ایک زندہ اور متحرک صنف کے طور پر برتا گیا ہے، جو قاری کو جمالیاتی لذت کے ساتھ ساتھ فکری ارتقا اور روحانی بالیدگی کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔ نقادوں کے نزدیک یہ کتاب نعت کو محض جذباتی وابستگی سے نکال کر فکری اور تحقیقی سطح پر استوار کرنے کی کامیاب کوشش ہے۔

روشنی اور سائے

یہ رباعیات کا ایک خوبصورت مجموعہ ہے، جس میں زندگی، وقت اور انسانی شعور کے مختلف پہلوؤں پر سنجیدہ غور و فکر ملتا ہے۔ شاعر نے انسانی وجود کے تضادات، وقت کی بے رحمی، امید اور ناامیدی کے درمیان کشمکش، اور شعور کی ارتقائی جہتوں کو نہایت فکری بصیرت کے ساتھ پیش کیا ہے۔ رباعیات کی مختصر مگر جامع صنف میں قمر رُعینی نے گہرے خیالات کو نہایت سادہ اور رواں زبان میں سمویا ہے، جو ان کے فنی کمال اور فکری گہرائی کا ثبوت ہے۔ یہ مجموعہ قاری کو محض جمالیاتی لطف نہیں دیتا بلکہ زندگی کے بنیادی سوالات پر غور و فکر کی دعوت بھی دیتا ہے۔

بادۂ خیام

یہ کتاب خیام سے منسوب رباعیات کا اردو رباعی میں ترجمہ ہے۔ مترجم نے خیام کی فکر اور فلسفیانہ گہرائی کو اردو کے شعری مزاج میں ڈھالنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ ترجمہ محض لفظی نہیں بلکہ ادبی اور فکری سطح پر بھی ہم آہنگ ہے، جس سے قاری کو خیام کی رباعیات کا اصل ذائقہ اردو میں محسوس ہوتا ہے۔ یہ کتاب اردو رباعی کو عالمی کلاسیکی ادب سے جوڑنے کا کام کرتی ہے اور اردو قارئین کو خیام کی فکر سے براہِ راست روشناس کراتی ہے۔

اردو رباعی: عہد بہ عہد

یہ کتاب اردو رباعی کے شعرا کا تذکرہ ہے، جس میں آغاز سے لے کر عصرِ حاضر تک کا سفر بیان کیا گیا ہے۔ اس کی اہمیت تحقیقی اور تاریخی دونوں پہلوؤں سے ہے، کیونکہ یہ اردو رباعی کی ارتقائی تاریخ کو ایک تسلسل کے ساتھ پیش کرتی ہے۔ کتاب میں مختلف ادوار کے شعرا کی رباعیات اور ان کے اسلوب کا جائزہ لیا گیا ہے، جس سے قاری کو رباعی کے فنی اور فکری ارتقا کا واضح نقشہ ملتا ہے۔ یہ کتاب اردو رباعی کے سنجیدہ طالب علموں اور محققین کے لیے ایک بنیادی ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔

تذکرۂ رباعی گویانِ فارسی

یہ کتاب برصغیر کے فارسی رباعی گو شعرا کا تذکرہ ہے۔ اس میں فارسی رباعی کی روایت اور اس کے برصغیر میں فروغ کا تحقیقی جائزہ لیا گیا ہے۔ کتاب کی خوبی یہ ہے کہ یہ فارسی رباعی کے پس منظر کو اردو رباعی کے تناظر میں سمجھنے کا موقع فراہم کرتی ہے اور دونوں زبانوں کے ادبی رشتے کو اجاگر کرتی ہے۔ اس تذکرے نے فارسی رباعی کے اُن شعرا کو سامنے لایا جو برصغیر کی ادبی تاریخ میں نسبتاً کم معروف تھے، یوں یہ کتاب تحقیقی خلا کو پُر کرتی ہے۔

تذکرہ نعت گویاں – راولپنڈی و اسلام آباد

یہ قمر رُعینی کی ایک اہم تحقیقی اور تذکیراتی کاوش ہے، جس میں نعت گو شعرا کا تعارف اور ان کی خدمات کا تنقیدی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ یہ کتاب نعتیہ ادب کے ارتقائی سفر کو سمجھنے کے لیے ایک بنیادی ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس میں نہ صرف مختلف شعرا کے کلام اور اسلوب کا تجزیہ کیا گیا ہے بلکہ نعتیہ روایت کے تسلسل اور اس کے فکری و فنی پہلوؤں کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ قمر رُعینی نے اس کتاب میں تحقیقی دیانت اور تنقیدی بصیرت کے ساتھ نعت گو شعرا کے کارناموں کو محفوظ کیا، جس سے یہ کتاب اردو نعتیہ ادب کی تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت اختیار کر گئی۔

مجموعی جائزہ

یہ تمام تصانیف مل کر قمر رُعینی کی علمی و ادبی عظمت کا نقشہ پیش کرتی ہیں۔ ’’بادۂ خیام‘‘ عالمی کلاسیکی فکر کو اردو میں منتقل کرتی ہے، ’’اردو رباعی: عہد بہ عہد‘‘ اردو رباعی کی داخلی تاریخ کو محفوظ کرتی ہے، ’’تذکرۂ رباعی گویانِ فارسی‘‘ فارسی رباعی کے برصغیری تناظر کو سامنے لاتی ہے، ’’ولائے رسول‘‘ نعتیہ ادب کو فکری اور تحقیقی سطح پر استوار کرتی ہے، ’’روشنی اور سائے‘‘ انسانی وجود کے سوالات کو رباعی کی صنف میں سمو کر پیش کرتی ہے، اور ’’تذکرہ نعت گویاں‘‘ نعتیہ روایت کے تسلسل کو محفوظ کرتی ہے۔ یوں یہ کتابیں نہ صرف ادبی سرمایہ ہیں بلکہ اردو ادب کے سنجیدہ قارئین اور محققین کے لیے ایک جامع حوالہ بھی ہیں، اور قمر رُعینی کی شخصیت کو اردو ادب میں ایک دائمی حوالہ اور ناقابلِ فراموش اثاثہ بنا دیتی ہیں۔

منتظرِ اشاعت

طبع زاد: رباعیات کا مجموعہ

صحیح تلفظ: گفتگو

قمر رُعینی نے تقریباً پانچ دہائیوں تک ماہنامہ "انجمن فیض الاسلام” سے بطور مدیر وابستگی رکھی اور ادارت کے فرائض نہایت ذمہ داری اور تسلسل کے ساتھ انجام دیے۔ یہ نصف صدی پر محیط خدمت نہ صرف ان کی علمی و ادبی وابستگی کا ثبوت ہے بلکہ اردو صحافت اور ادبی روایت کے فروغ میں ایک مستقل اور قابلِ قدر کردار بھی ادا کرتی ہے۔ جس نے نہ صرف ان کے ادبی ذوق اور تنقیدی بصیرت کو جلا بخشی بلکہ اردو صحافت اور نعتیہ ادب کے فروغ میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ ادارت کے دوران وہ ہمیشہ معیار کے پابند رہے؛ انہوں نے کبھی ادبی سطح پر سمجھوتہ نہیں کیا اور رسائل کو محض اشاعت کا ذریعہ نہیں بلکہ فکری و تخلیقی تربیت کا پلیٹ فارم بنایا۔ ان کی ادارت میں رسائل و جرائد نئے لکھنے والوں کے لیے ایک تربیتی درسگاہ کی حیثیت رکھتے تھے، جہاں نوجوان قلمکاروں کو نہ صرف حوصلہ افزائی ملتی بلکہ رہنمائی اور اصلاح بھی فراہم کی جاتی۔

اس کے علاوہ قمر رُعینی کئی برس تک ریڈیو پاکستان آزاد کشمیر میں بطور ڈیوٹی آفیسر خدمات انجام دیتے رہے۔ ریڈیو جیسے مؤثر اور عوامی ذرائع ابلاغ سے وابستگی نے ان کے تجربات کو وسعت دی اور انہیں براہِ راست عوامی ذوق، ادبی رجحانات اور سماجی رویّوں سے آشنا کیا۔ ریڈیو کی ملازمت کے ساتھ ساتھ وہ ملت کالج میں اردو ادب کی تدریس بھی کرتے رہے۔ یہ ذمہ داری انہوں نے محض پیشہ ورانہ تقاضے کے طور پر نہیں بلکہ اپنی گہری دلچسپی اور اردو ادب سے قلبی وابستگی کے باعث نبھائی۔ یوں تدریس اور نشریات دونوں میدانوں میں ان کی خدمات نے ان کے فکری اور تخلیقی شعور کو مزید نکھارا۔ اس تجربے نے ان کی تحریروں اور نعتیہ شاعری میں ایک خاص توازن اور ہمہ گیری پیدا کی۔ قمر رُعینی کی ادارت کا سب سے نمایاں پہلو یہ تھا کہ انہوں نے ادب کو محض تفریح یا رسمی اظہار تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے سماجی شعور، فکری تربیت اور اخلاقی اصلاح کا ذریعہ بنایا۔ ان کے زیرِ ادارت شائع ہونے والے مضامین، نعتیہ کلام اور تحقیقی مقالات نہ صرف علمی وقار کے حامل تھے بلکہ قاری کو سوچنے، سمجھنے اور عمل کرنے کی دعوت دیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی ادارت کو اردو صحافت اور نعتیہ ادب کی تاریخ میں ایک سنہری باب کی حیثیت حاصل ہے۔

سنہ 1995 میں حرمین شریفین کی حاضری کے بعد ان کی شاعری میں ایک بڑی تبدیلی رونما ہوئی۔ وہ غزل سے نعت کی طرف متوجہ ہو گئے اور رفتہ رفتہ نعت گوئی ان کی اصل پہچان بن گئی۔ ان کا کلام کافی حد تک جمع ہو چکا تھا، مگر وہ اسے شائع کرنے میں جلدی نہیں کرتے تھے۔ اکثر کہا کرتے کہ "جب وقت آئے گا تو چھپ جائے گا۔” واپسی کے بعد وہ ادبی تنظیم "حلقہ اربابِ ذوق” کے اجلاسوں میں باقاعدگی سے شریک ہونے لگے اور ان کا نعتیہ کلام اس قدر بڑھ گیا کہ انہیں خود بھی محسوس ہونے لگا کہ اللہ تعالیٰ ان کی کتابوں کا آغاز اسی پاک کلام سے کروانا چاہتا ہے۔ یہ کیفیت دراصل عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ رنگ ہے جو دل و نگاہ کو بدل دیتا ہے۔ برسوں بعد بھی انہیں ہر طرف مدینہ ہی دکھائی دیتا۔ ان کے اشعار اسی جذبے کی گواہی دیتے ہیں:

جہاں دیکھتے ہیں، جدھر دیکھتے ہیں
مدینے کے دیوار و در دیکھتے ہیں
خدا کے کرشمے حضور آپ کو دیکھ کر دیکھتے ہیں

نعت گوئی میں انہوں نے ادب اور احتیاط کو ہمیشہ مقدم رکھا۔ یہی احتیاط اور کمال ان کے کلام کی قبولیت کی دلیل ہے۔ ان کے اشعار اس کیفیت کی عکاسی کرتے ہیں:

حیرت سے دیکھتے ہیں زمیں آسماں مجھے
پہنچا دیا نبیٌ کے کرم نے کہاں مجھے

میں کیا بتاؤں جو دیکھا سماں مدینے میں
جسم تو واپس لے آئے، روح وہیں پر ہے

قمر رُعینی نہایت منکسر المزاج، شفیق اور مددگار انسان تھے جنہوں نے اپنی زندگی کو ادب اور خدمتِ خلق کے لیے وقف کر رکھا تھا۔ ان کی تحریروں میں اصلاحی نکات اجاگر کرتے اور خلوص کے ساتھ تنقیدی رہنمائی فراہم کرتے تھے۔ ان کے نزدیک تنقید کا مقصد گرفت یا کمزوریوں کو نمایاں کرنا نہیں بلکہ تربیت، رہنمائی اور ادبی شعور کو فروغ دینا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے زیرِ سایہ کئی نوجوان قلمکار نہ صرف اعتماد حاصل کر سکے بلکہ ادبی دنیا میں اپنی پہچان بھی بنا پائے۔ ان کی تحریروں نے آنے والی نسلوں کے لیے ایک مضبوط ادبی روایت قائم کی، جو آج بھی نعتیہ ادب کے سنجیدہ قارئین اور محققین کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہے۔ ان کا اثر صرف ان کی تصانیف تک محدود نہیں رہا بلکہ ان شاگردوں، قارئین اور ادبی حلقوں تک پھیلا جنہوں نے ان سے فکری بصیرت اور اخلاقی تربیت حاصل کی۔

قمر رُعینی 27 مارچ 2008 کو دل کے دورے کے باعث اس جہانِ فانی سے رخصت ہو گئے۔ ان کی وفات اردو ادب کے لیے ایک ناقابلِ تلافی سانحہ تھی، جس نے اہلِ قلم کو گہرے صدمے اور خلا سے دوچار کر دیا۔ مگر ان کی علمی و ادبی وراثت آج بھی زندہ ہے، اور آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی کا روشن مینار بنی ہوئی ہے۔

زندگی نے جتنی مہلت دی، اس مختصر عرصے میں قمر رُعینی نے اپنی محنت، فکر اور فن سے وہ مقام حاصل کیا جو بہت کم اہلِ قلم کے حصے میں آتا ہے۔ اگر وقت نے مزید مہلت دی ہوتی تو یقیناً ان کا شمار اردو ادب اور برصغیر کے اُن عظیم ترین دانشوروں میں ہوتا جن کے نام تاریخ کے اوراق پر سنہری حروف سے ثبت کیے جاتے۔

قمر رُعینی کی یاد اور ان کا علمی سرمایہ آج بھی دلوں کو منور کرتا ہے، اور یہ سبق دیتا ہے کہ اصل زندگی وہ ہے جو اپنے بعد بھی روشنی اور رہنمائی چھوڑ جائے۔ وہ اپنی تحریروں، تنقیدی بصیرت اور سماجی اوصاف کے باعث ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے، اور ان کا نام اردو نعتیہ ادب کی تاریخ میں سنجیدگی، وقار اور فکری بالیدگی کے ساتھ زندہ رہے گا۔

پانچ دہائیوں پر محیط ان کی خدمات نے نعتیہ ادب کو نئی جہات سے روشناس کرایا اور اردو صحافت و تحقیق کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کی۔ ان کی تصانیف، ادارت اور تنقیدی بصیرت نے اردو ادب کو نئی سمت عطا کی اور نعت کو ایک زندہ، متحرک اور فکری صنف کے طور پر مستحکم کیا۔ یہی وجہ ہے کہ قمر رُعینی کا ذکر ہمیشہ احترام اور وقار کے ساتھ کیا جائے گا، اور ان کی شخصیت آنے والے زمانوں میں بھی ادب کے سنجیدہ قارئین اور محققین کے لیے مشعلِ راہ بنی رہے گی۔

یوں وہ نہ صرف ایک بڑے شاعر اور محقق تھے بلکہ اردو نعتیہ ادب کی تاریخ میں ایک دائمی حوالہ اور ناقابلِ فراموش اثاثہ ہیں، جن کی روشنی آنے والی نسلوں کو بھی سمت اور سکون عطا کرتی رہے گی۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی قبر کو نور سے منور کرے، ان کی لغزشوں کو معاف فرمائے، اور ان کی نعتیہ خدمات کو صدقۂ جاریہ بنا کر آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی اور سکون کا ذریعہ بنائے۔ مزید دعا ہے کہ ان کے کلام کی خوشبو ہمیشہ قلوب کو معطر رکھے اور ان کی یاد امتِ مسلمہ کے لیے ایمان، محبتِ رسول ﷺ اور ادب کا سرمایہ بنی رہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے