اکادمی ادبیات کا اقامتی منصوبہ

2025 میں اکادمی ادبیات پاکستان نے اسلام آباد میں اہل قلم کے لیے پہلے بین الصوبائی اقامتی منصوبے کا انعقاد کیا۔ اس طرح کے اقامتی منصوبے ترقی پزیر ممالک میں تواتر سے منعقد ہوتے رہتے ہیں۔2026 کے آغاز میں دوسرے دس روزہ بین الصوبائی اقامتی منصوبے کا افتتاح 16 جنوری کو شیخ ایاز کانفرنس ہال میں ہوا۔اجلاس کی صدارت جناب افتخار عارف نے کی، جب کہ مہمانِ خصوصی وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اورنگزیب کھچی اور مہمانِ اعزاز وفاقی سیکرٹری برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اسد رحمان گیلانی تھے۔

صدر نشین اکادمی پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف نے اقامتی منصوبے کے شرکاء اور معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے اقامتی منصوبے کے اغراض و مقاصد اور اس کی افادیت پر روشنی ڈالی اور اکادمی کے قیام، سرگرمیوں اور منصوبوں کا تعارف بھی پیش کیا۔

اس منصوبے کا مقصد ملک بھر کے مختلف زبانوں کے ادیبوں کو یکجا کرنا، تخلیقی سرگرمیوں کو فروغ دینا اور علمی و ادبی مکالمے کو بڑھاوا دینا تھا۔

دوسرے دس روزہ بین الصوبائی اقامتی منصوبے کے مختلف اجلاسوں میں ملک کے دوردراز علاقوں کے 20 ادیب اور شاعر شریک ہوئے۔

اس پروگرام میں ملک بھر سے تین سو سے زائد اہل قلم نے دلچسپی کا اظہار کیا جن میں بعض نامور اور ممتاز اہل قلم بھی شامل تھے۔ تاہم انتخاب میں ترجیح ان اہل قلم کو دی گئی ہے جو پاکستان کے دوردراز علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں اور جنھیں مرکزی ادبی دھارے تک رسائی کے مواقع میسر نہیں رہے۔ یہ انتخاب ہر علاقے کے نمائندہ سینئر ادیبوں پر مشتمل ایک کمیٹی نے کیا۔

مختلف پاکستانی زبانوں کے ان 20 منتخب ادبا کا تعلق پشین، خاران، خضدار گھوٹکی، خیرپور، لاڑکانہ، حیدرآباد،نوشہرہ، مانسہرہ، چارسدہ، مینگورہ(سوات)، کوئٹہ، جڑانوالہ، لیہ، ساہیوال، حافظ آباد، شاہ پور، ،گھانچے، سکردو اورمظفر آباد سے تھا۔ منتخب ادیب دس روز تک اکادمی ادبیات پاکستان کے مہمان خانے میں قیام پزیر رہے اور مختلف النوع سرگرمیوں میں شریک ہوئے جن میں اہم علمی و ادبی اداروں کا دورہ ، کتابوں کی تقاریب رونمائی اور راولپنڈی اسلام آباد کے سینئر اور نوجوان اہل قلم سے مکالمہ جیسے پروگرام شامل تھے۔

ناصر کاظمی اور انتظار حسین کے صدسالہ یوم پیدائش کی تقاریب بھی اس منصوبے کے تحت ہونے والے پروگراموں میں شامل تھیں۔

23 جنوری 2026ء کو اقامتی منصوبے کے شرکا نے نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگوئجز (نمل) کا دورہ کیا۔ نمل پہنچنے پر صدر شعبۂ اردو ڈاکٹر عنبرین تبسم اور صدر شعبۂ ترکی ڈاکٹر عَارفہ زرداد نے وفد کا پُرتپاک خیرمقدم کیا۔

اس موقع پر ڈین فیکلٹی آف لینگوئجز، پروفیسر ڈاکٹر جمیل اصغر جامی نے وفد کو نمل پر ایک جامع دستاویزی فلم دکھائی۔پروفیسر ڈاکٹر جمیل اصغر جامی نے اقامتی منصوبے کے تمام شرکا کے لیے نمل میں کرائے جانے والے مختلف کورسز میں پچاس فی صد رعایت کا اعلان بھی کیا، جسے وفد نے خوش آئند قرار دیا۔

اس بیس رکنی وفد نے راولپنڈی اسلام آباد کے سینئر ادیبوں کی طرف سے ان کی رہائش گاہوں پر دی گئی مختلف ضیافتوں میں بھی شرکت کی۔ محمد اظہار الحق ، محمد حمید شاہد ، فرخ یار، ثروت محی الدّین ، نعیم فاطمہ علوی اور قیصرہ علوی کے گھروں پر یہ علمی وادبی اکٹھ ہوئے۔

اس منصوبے کی روح رواں اکادمی ادبیات پاکستان اسلام آباد کی صدر نشیں ڈاکٹر نجیبہ عارف تھیں جو ایک انتھک منتظمہ ہیں۔ انھوں نے اگست 2023 میں اکادمی ادبیات کے صدر نشیں کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالیں اور اس ادارے کو صحیح معنوں میں فعال بنایا۔ اکادمی ادبیات کو اختر رضا سلیمی ، میر نواز سولنگی اور ڈاکٹر بی بی امینہ جیسے مستعد لوگوں کی ٹیم میسر ہے جو ڈاکٹر نجیبہ عارف کی سربراہی میں کارہائے نمایاں انجام دیے رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر صاحبہ اور ان کی ٹیم کے حوصلے بلند رکھے تاکہ وہ تسلسل کے ساتھ اس طرح کے پروگراموں کا انعقاد کرتی رہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے