دہشت گردں کو مبارک ہو ، اہداف حاصل ہو گئے .

اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں واقع امام بارگاہ میں ہونے والے خودکش حملے کے بعد سب سے پہلی بات جسے ریکارڈ پر لانا ضروری ہے، وہ یہ ہے کہ اس امام بارگاہ میں سیکیورٹی کے انتظامات موجود تھے۔ پولیس بھی تعینات تھی اور امام بارگاہ کی اپنی سیکیورٹی بھی فعال تھی۔ مسجد کے امام اور تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے مرکزی رہنما علامہ بشارت امامی نے خود یہ بات کہی کہ سیکیورٹی انتظامات اطمینان بخش تھے۔ یعنی یہ واقعہ کسی سادہ غفلت یا مکمل سیکیورٹی خلا کا نتیجہ نہیں تھا۔

واقعے کے فوراً بعد آئی جی اسلام آباد اور وزیر داخلہ دونوں نے امام بارگاہ کا دورہ کیا۔ حکومت کی جانب سے ہر ممکن تعاون کیا گیا۔ ریاستی ردعمل میں تاخیر یا بے حسی کا الزام بھی اس وقت زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ معصوم اور بے گناہ گھروں میں آج قیامت کا سماں ہے جہاں چند گھنٹے پہلے زندگی معمول کے مطابق چل رہی تھی۔ یہ انسانی المیہ اپنی جگہ ایک ناقابلِ تلافی سانحہ ہے، مگر معاملہ صرف یہیں ختم نہیں ہوتا۔

اس واقعے کے بعد سندھ اور پنجاب میں ثقافتی تقریبات منسوخ کر دی گئیں۔ کروڑوں روپے کا معاشی نقصان ہوا۔ شہروں میں خوف کی فضا پیدا ہوئی، خوشی کے لمحات رک گئے، اور سماج ایک بار پھر سوگ اور اضطراب میں ڈوب گیا۔ یہاں سے اصل سوال جنم لیتا ہے: دہشت گرد کیا چاہتے تھے اور انہوں نے کیا حاصل کیا؟

دہشت گردی کو اگر صرف لاشوں کی تعداد سے ناپا جائے تو ہم اصل تصویر نہیں دیکھ پاتے۔ دہشت گردوں کا مقصد صرف بے گناہ افراد قتل کرنا نہیں تھا ، بلکہ ان کا ایک ہدف من پسند ردعمل بھی قائم کرنا تھا ۔ معصوم لوگوں کو خون میں نہلا کر دہشت گرد یہی چاہتے تھے کہ اسکرینیں سرخ ہو جائیں، میڈیا چیختا ہوا نظر آئے، سندھ اور پنجاب میں ثقافتی سرگرمیاں معطل ہو جائیں، خوشی کے لمحات رک جائیں، افراتفری پھیل جائے اور سماج تقسیم ہو جائے۔

وہ چاہتے تھے کہ فرقہ واریت کو ہوا ملے، اصل دشمن پس منظر میں چلا جائے، اور لوگ ایک دوسرے سے الجھ پڑیں۔ وہ چاہتے تھے کہ سڑکیں بلاک ہوں، گفتگو نفرت میں بدل جائے، اور اجتماعی شعور مفلوج ہو جائے۔ اگر ہم آج کے دن کا دیانت داری سے جائزہ لیں تو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ ان میں سے اکثر اہداف پورے ہو چکے ہیں۔

آج مین اسٹریم میڈیا دیکھ لیجیے۔ سوشل میڈیا کھول لیجیے۔ اپنے دائیں بائیں ہونے والی گفتگو سن لیجیے۔ بحث اس بات پر کم ہے کہ دہشت گردی کا مقابلہ کیسے کیا جائے، اور زیادہ اس بات پر ہے کہ الزام کس پر ڈالنا ہے۔ یوں اصل سوال دب جاتا ہے اور جذباتی ردعمل نمایاں ہو جاتا ہے۔ فیک اسکرین شاٹس شئیر ہو رہے ہیں اور ان کی بنیاد پر بیانیے بن رہے ہیں . مختلف اداروں میں بیٹھے فرقہ پرست "صحافی”بن کر اپنے فرقوں کے ملاں بن کر معاشرے میں آگ لگا رہے ہیں . اسی طرح بعض عناصر پرانے قصے لیکر مذہبی جنگ شروع کر چکے ہیں . یہ دشمن کے احمق ترین آلہ کار ہیں جن کی اوقات سستے جذبات کے سوا کچھ نہیں . مفت کے بے وقو ف کارکن

یہ محض ایک خودکش حملہ نہیں تھا، یہ ایک مکمل نفسیاتی اور سماجی آپریشن تھا۔ ایک پچیس سالہ نوجوان کو خودکش بنا کر استعمال کیا گیا اور اس ایک جان کے ذریعے پورے معاشرے کو خوف، معاشی نقصان، ثقافتی جمود اور فکری انتشار میں مبتلا کر دیا گیا۔ دہشت گردوں کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ ان کا پالا ہوا ایک درندہ مر گیا ، انہیں اس بات سے غرض ہے کہ ہم کس حد تک بکھر گئے۔

یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان ایک عرصے سے پراکسی جنگوں کی زد میں ہے۔ فرقہ واریت کو بھڑکانا، سماجی سرگرمیوں کو نشانہ بنانا، اور عوام کو مسلسل اضطراب میں رکھنا اسی جنگ کا حصہ ہے۔ دشمن جانتا ہے کہ وہ پاکستان کو میدانِ جنگ میں شکست نہیں دے سکتا، اس لیے وہ سماج کو اندر سے توڑنے کی کوشش کرتا ہے۔

آج اگر ہم یہ کہہ دیں کہ دہشت گرد اپنے مقصد میں ناکام ہو گئے، تو یہ خود فریبی ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ آج کے دن کے ردعمل نے دشمن کے بیانیے کو تقویت دی ہے۔ خوف غالب ہے، تقسیم نمایاں ہے، اور اصل دشمن ایک بار پھر پس منظر میں چلا گیا ہے۔

ریاست اور حکومت کا بنیادی کام لوگوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے اور اس میں وہ ناکام ہیں تو انہیں اپنا احتساب کرنا چاہیے اور شہریوں کو بھی ان سے سوال کرنا چاہیے . اصل سوال یہ ہے کہ ہم بطور معاشرہ کس حد تک بالغ نظری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ کیا ہم ہر سانحے کے بعد وہی ردعمل دہراتے رہیں گے جو دہشت گرد چاہتے ہیں، یا کبھی یہ فیصلہ بھی کریں گے کہ ہمیں ان کے جال میں نہیں پھنسنا۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف بندوق سے نہیں جیتی جا سکتی۔ یہ جنگ شعور، ضبط اور اجتماعی عقل سے جیتی جاتی ہے۔ جب تک ہم یہ نہیں سمجھیں گے کہ دہشت گردی کا اصل ہدف ہماری وحدت اور معمول کی زندگی ہے، تب تک ہر حملہ اپنے مطلوبہ نتائج دیتا رہے گا۔

تو میرے بھائیو‌، دوستو اور بزرگو ، سوال یہ نہیں کہ حملہ کہاں ہوا۔سوال یہ ہے کہ ہم نے ردعمل کیا دیا ؟

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے