داعش ، دولت اسلامیہ یا آئی ایس آئی ایس پاکستان کے لئے اگلا نیا چیلنج

داعش، جسے عالمی سطح پر آئی ایس آئی ایس یا دایش کے نام سے جانا جاتا ہے، آج اسلام آباد اور پاکستان کے لیے اگلا قومی سلامتی کا سنجیدہ امتحان بنتی جا رہی ہے۔ ایک طویل عرصے تک اس تنظیم کو یا تو بیرونی مسئلہ سمجھ کر نظرانداز کیا گیا یا یہ کہہ کر تسلی کر لی گئی کہ یہ ہماری داخلی سلامتی کے لیے فوری خطرہ نہیں۔ اسلام آباد میں گزشتہ روز ہونے والا حملہ اس سوچ کی واضح نفی کرتا ہے۔ یہ کوئی اتفاقی واقعہ نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا پیغام اور ریاست کے لیے کھلا انتباہ ہے کہ خطرہ اب دروازے پر دستک دے رہا ہے۔

داعش کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ یہ تنظیم براہِ راست طاقت کے بجائے ریاستی خلا تلاش کرتی ہے۔ جہاں ریاستی رٹ کمزور ہو، انتظامی غفلت موجود ہو اور اداروں کے درمیان ہم آہنگی نہ ہو، وہاں داعش اپنے قدم مضبوطی سے جما لیتی ہے۔ عراق، شام، افغانستان اور افریقہ کے مختلف خطوں میں اس کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ تنظیم صرف اسلحے کے زور پر نہیں بلکہ خوف، نظریاتی شدت پسندی اور ریاستی کمزوریوں کو بطور ہتھیار استعمال کرتی ہے۔

پاکستان میں داعش کے قدم روایتی عسکریت پسند تنظیموں سے مختلف نوعیت کے ہیں۔ یہ علاقے فتح کرنے کے بجائے ذہنوں کو نشانہ بناتی ہے۔ خاموشی سے بھرتی، آن لائن انتہاپسندی، اور مقامی محرومیوں کو ایک عالمی شدت پسند نظریے سے جوڑنا اس کی بنیادی حکمت عملی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے نیٹ ورک اکثر نظر نہیں آتے، لیکن جب حملہ ہوتا ہے تو اس کی بازگشت پورے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔ دنیا بھر میں داعش کے حملے نہ صرف سو سے زائد جانوں کے ضیاع کا سبب بنتے رہے ہیں بلکہ بنیادی انفراسٹرکچر کو بھی تباہ و برباد کرتے رہے ہیں، جس کے اثرات برسوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔

داعش کے حملوں کا مقصد محض جانی نقصان نہیں بلکہ معاشرتی عدم تحفظ پیدا کرنا، فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینا اور ریاست پر عوامی اعتماد کو کمزور کرنا ہوتا ہے۔ کسی بڑے اجتماع، شہر یا وفاقی دارالحکومت کو نشانہ بنانا دراصل یہ پیغام دینا ہوتا ہے کہ کوئی جگہ محفوظ نہیں، اور ریاست اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہے۔

اسلام آباد جیسے حساس اور محفوظ سمجھے جانے والے شہر میں اس نوعیت کا واقعہ ہونا انتظامی غفلت اور ریاستی لاپروائی پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔ یہ کسی دور افتادہ یا شورش زدہ علاقے کی ناکامی نہیں بلکہ وفاقی نظام کی کمزوری کا اظہار ہے۔ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور وفاقی حکومت کی ذمہ داریاں محض فائلوں اور نوٹیفکیشنز تک محدود نہیں بلکہ سیکیورٹی انتظامات، انٹیلی جنس الرٹس، ہجوم کا مؤثر کنٹرول اور ہنگامی ردعمل ان کی بنیادی ریاستی ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔ اس تناظر میں ڈپٹی کمشنر کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کی گئی ٹویٹس نے ایک نیا بحران اس وقت جنم دیا جب شہادتوں کو محض اموات قرار دیا گیا، جس سے نہ صرف شہداء کے احترام کو ٹھیس پہنچی بلکہ عوام کے مذہبی اور جذباتی احساسات بھی مجروح ہوئے۔

جب حفاظتی انتباہات کو سنجیدگی سے نہ لیا جائے، اداروں کے درمیان رابطہ کمزور ہو، اور نیشنل ایکشن پلان کے تحت قائم کی گئی نیکٹا جیسی اتھارٹیز محض کاغذی ادارے بن کر رہ جائیں، تو دہشت گردی کے لیے راستے خود بخود ہموار ہو جاتے ہیں۔ احتساب کے غیر مؤثر نظام کا نتیجہ ہمیشہ عوام کی جانوں کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

داعش کو ایک مختلف نوعیت کا خطرہ اس لیے سمجھنا ضروری ہے کہ یہ سرحدوں، علاقوں اور روایتی جنگی ڈھانچوں کی پابند نہیں۔ ایک فرد، ایک واقعہ اور ایک ویڈیو پوری دنیا میں خوف پھیلانے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ یہ تنظیم تنہا حملہ آوروں کو متحرک کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جس کے باعث روایتی سیکیورٹی حکمت عملیاں ناکافی ثابت ہو رہی ہیں۔

اگر بروقت اور سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو داعش پاکستان میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی، اقلیتوں کے تحفظ اور ریاستی رٹ کے لیے ایک نیا، پیچیدہ اور طویل المدتی چیلنج بن سکتی ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے سب سے پہلے انٹیلی جنس نظام کو مؤثر اور مربوط بنانا ناگزیر ہے، جہاں سول انتظامیہ، پولیس اور خفیہ اداروں کے درمیان حقیقی وقت میں معلومات کا تبادلہ ممکن ہو، خاص طور پر شہری مراکز میں۔

اس کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل نگرانی اور انسدادِ انتہاپسندی کے اقدامات کو ترجیح دینا ہوگی، کیونکہ داعش کا اصل میدان اب آن لائن ہے اور اس محاذ کو نظرانداز کرنا براہِ راست شکست کے مترادف ہوگا۔ انتظامی احتساب کو بھی یقینی بنانا ہوگا، کیونکہ سیکیورٹی میں کوتاہی برتنے والے افسران کے خلاف عملی کارروائی کے بغیر کسی اصلاح کی امید نہیں کی جا سکتی۔ مزید برآں، پاکستان کو عالمی تجربات سے سیکھنا ہوگا، جہاں داعش کے اثر کو محدود کرنے کے لیے مالی نگرانی، جیلوں میں اصلاحی و ڈی ریڈیکلائزیشن پروگرامز، اور کمیونٹی سطح پر شمولیت کو مؤثر انداز میں بروئے کار لایا گیا۔

اسلام آباد کا واقعہ محض ایک اور سانحہ نہیں بلکہ ایک فیصلہ کن لمحہ ہے۔ یا تو ریاست داعش کو ایک ابھرتے ہوئے اسٹریٹجک خطرے کے طور پر تسلیم کر کے سنجیدہ اور بروقت اقدامات کرے، یا پھر غفلت، انکار اور انتظامی کمزوری ایک ایسے مستقبل کی بنیاد رکھ دے جو کہیں زیادہ خطرناک ہو۔ داعش کل کا مسئلہ نہیں، آج کا انتباہ ہے، اور اسے نظرانداز کرنا قومی غیر ذمہ داری کے مترادف ہوگا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے