جیفری ایپسٹین کا نام آج صرف ایک فرد کا نام نہیں رہا، بلکہ وہ ایک ایسے عہد کی علامت بن چکا ہے جہاں طاقت، دولت اور عالمی اشرافیہ نے انسانیت کے بنیادی اصولوں کو روند ڈالا۔ ایپسٹین کی کہانی محض چند مجرمانہ واقعات کا مجموعہ نہیں، بلکہ یہ اس نظام کا آئینہ ہے جس میں کمزور کو خاموش، مظلوم کو بے آواز اور طاقتور کو بے لگام چھوڑ دیا جاتا ہے۔
اس کے نجی جزیرے، خفیہ پروازیں، اثر و رسوخ رکھنے والی شخصیات کی آمدورفت اور متاثرہ لڑکیوں کی ٹوٹی ہوئی زندگیاں اس حقیقت کی گواہ ہیں کہ یہ سب کچھ کسی غلط فہمی یا حادثے کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ ایک سوچا سمجھا، مسلسل اور سفاک استحصالی عمل تھا۔ ایپسٹین نے نہ کسی اخلاقی ضابطے کو مانا، نہ خاندان کے تصور کو، نہ ذمہ داری کو۔ اس کا پورا کردار ہوس، جبر اور پیسے کی طاقت کے گرد گھومتا رہا، اسی لیے اسے دنیا بھر میں ایک مجرم ہی نہیں بلکہ انسانیت کے منہ پر طمانچہ سمجھا جاتا ہے۔
یہ تمہید اس لیے ضروری ہے کہ ہمارے ہاں آج اسی ایپسٹین کے کالے دھندوں کو ایک خاص فکری مقصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ایک ایسا بیانیہ تشکیل دیا جا رہا ہے جس میں مغرب کے اس سفاک جرم کو اسلامی شریعت، علما اور دینی مؤقف کے ساتھ جوڑ دیا جائے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کچھ حلقوں کے نزدیک ایپسٹین کے جرم کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس کی آڑ میں اپنے معاشرے کے فکری اور دینی اصولوں کو مشکوک بنا دیا جائے۔ سوال یہ نہیں کہ ایپسٹین مجرم تھا یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا اس کے جرم کو بنیاد بنا کر نکاح جیسے مقدس، ذمہ دارانہ اور علانیہ معاہدے کو بدنام کرنا دیانت داری ہے؟
ایپسٹین کا جرم خفیہ تھا، اسلامی نکاح علانیہ ہے۔ ایپسٹین کا عمل جبر پر کھڑا تھا، نکاح رضا پر قائم ہے۔ ایپسٹین نے استحصال کیا، اسلام ذمہ داری سونپتا ہے۔ ان دونوں کو ایک ہی سانس میں لینا محض لاعلمی نہیں بلکہ شعوری فکری مغالطہ ہے۔ مگر افسوس کہ ہمارے ہاں یہی مغالطہ پوری شد و مد کے ساتھ پھیلایا جا رہا ہے، اور اسے بچوں کے تحفظ کا نام دیا جا رہا ہے۔
یہ بحث اس وقت مزید شدت اختیار کر گئی جب پارلیمنٹ میں ایک ایسا بل منظور ہوا جس میں نکاح کو ایک عددی عمر کی حد کے ساتھ مشروط کر دیا گیا۔ اسلامی فقہ کی صدیوں پر محیط روایت اس بات پر متفق رہی ہے کہ نکاح کے لیے بنیادی شرط بلوغت ہے۔ یہ اصول کسی خاص دور یا مخصوص معاشرتی تناظر کی پیداوار نہیں بلکہ قرآن و سنت سے ماخوذ ایک مستقل قاعدہ ہے۔ اس اصول پر سوال اٹھانا یا اس کے خلاف قانون سازی کرنا علما کے لیے محض اختلافِ رائے نہیں بلکہ ایک دینی ذمہ داری کا مسئلہ بن جاتا ہے۔
اسی ذمہ داری کے تحت جب علما نے اس بل پر اعتراض کیا تو بجائے اس کے کہ اس اعتراض کو اس کے اصل تناظر میں دیکھا جاتا، اسے بچوں کے استحصال کی حمایت بنا کر پیش کیا گیا۔ یوں ایک اصولی فقہی بحث کو اخلاقی الزام تراشی میں بدل دیا گیا۔ اس طرزِ عمل نے نہ صرف مکالمے کے دروازے بند کیے بلکہ معاشرے میں مزید تقسیم اور بداعتمادی کو جنم دیا۔
حافظ حمداللہ کے بیان کو بھی اسی فکری ماحول میں پیش کیا گیا۔ ایک احتجاجی اور علامتی جملے کو سیاق و سباق سے الگ کر کے اس طرح اچھالا گیا جیسے وہ کسی قبیح عمل کی ترغیب ہو۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ احتجاجی زبان کا مقصد اکثر چونکانا، متوجہ کرنا اور اصولی نکتہ واضح کرنا ہوتا ہے، نہ کہ کسی جرم کی دعوت دینا۔ مگر یہاں نیت پر فیصلہ سنا دیا گیا اور وضاحت کا حق چھین لیا گیا۔
اسی طرح جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن صاحب نے قومی اسمبلی کے فلور پر اس بل کے خلاف بھرپور اور واضح مؤقف اختیار کیا۔ ان کی گفتگو کا مرکزی نکتہ یہی تھا کہ ریاست جب قانون سازی کرے تو اسے قرآن و سنت کے طے شدہ اصولوں سے ٹکر نہیں لینی چاہیے۔ ان کا یہ کہنا کہ وہ اس قانون کے خلاف بطور احتجاج نکاح پڑھانے پر آمادہ ہوں گے، دراصل ایک علامتی اور فکری اعلان تھا، ایک ایسا جملہ جس کے ذریعے یہ باور کرایا گیا کہ شریعت کے مسلمہ احکام کو محض عددی حدود کے ذریعے غیر مؤثر نہیں بنایا جا سکتا۔ یہ بیان اگر تعصب کے بغیر پڑھا جائے تو اس میں کسی کمزور کے خلاف جارحیت نہیں بلکہ دینی اصول کے دفاع کی آواز سنائی دیتی ہے۔
یہاں ایک بنیادی سوال بار بار نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ کیا اسلام نے کبھی جبر، زبردستی یا استحصال کی اجازت دی؟ کیا نکاح کے نام پر ظلم کو جائز قرار دیا گیا؟ اسلامی تعلیمات اس حوالے سے نہایت واضح ہیں۔ نکاح محض جسمانی تعلق کا نام نہیں بلکہ ذمہ داری، کفالت، احترام اور معاشرتی توازن کا معاہدہ ہے۔ جہاں جبر ہو، جہاں ظلم ہو، جہاں استحصال ہو، وہاں نہ نکاح باقی رہتا ہے اور نہ شریعت کا کوئی اخلاقی جواز۔
اس کے باوجود جب ایپسٹین فائلز کا حوالہ دے کر علما کے مؤقف کو بدنام کیا جاتا ہے تو صاف دکھائی دیتا ہے کہ اصل مسئلہ بچوں کا تحفظ نہیں بلکہ مذہبی بیانیے کو کٹہرے میں کھڑا کرنا ہے۔ اگر واقعی درد بچوں کا ہوتا تو ہمارے اپنے معاشرے میں اسکولوں، گھروں، دفاتر، میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز پر ہونے والی زیادتیوں پر بھی اسی شدت سے بات کی جاتی۔ مگر یہاں غصہ بھی منتخب ہے، اخلاقیات بھی منتخب ہیں اور ہدف بھی منتخب ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ مغرب کے جرائم کو ہتھیار بنا کر شریعت پر حملہ کرنا آسان سمجھ لیا گیا ہے۔ ایپسٹین کا جرم دلیل کے طور پر نہیں بلکہ ایک لاٹھی کے طور پر استعمال ہو رہا ہے تاکہ ہر دینی اصول کو مشکوک بنا دیا جائے۔ یہ رویہ نہ بچوں کو تحفظ دیتا ہے اور نہ معاشرے کو انصاف، بلکہ صرف فکری انتشار اور نفرت کو بڑھاتا ہے۔
ہمیں اس مقام پر رک کر سوچنا ہوگا۔ ہم ایپسٹین جیسے مجرموں کے بھی خلاف ہیں اور ہر اس شخص کے بھی جو کمزور کا استحصال کرے، چاہے وہ کسی بھی لباس میں ہو۔ مگر ہم اس فکری دھوکے کو قبول نہیں کر سکتے جس میں جرم اور شریعت کو ایک ہی صف میں کھڑا کر دیا جائے۔ اگر ایپسٹین کا جرم ہمیں کوئی سبق دیتا ہے تو وہ یہ ہے کہ طاقت کے بغیر احتساب معاشروں کو کھوکھلا کر دیتا ہے، اور اگر قانون واقعی بچوں کے تحفظ کے لیے ہے تو اس کا حل صرف عمر کی عددی حد میں نہیں بلکہ انصاف کے مؤثر نظام، اخلاقی تربیت اور قانون کے یکساں نفاذ میں ہے۔
اختتام پر سوال یہی ہے کہ ہم کیسا معاشرہ چاہتے ہیں۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں جذباتی نعروں اور عالمی اسکینڈلز کی آڑ میں اپنے اصول قربان کر دیے جائیں، یا ایک ایسا معاشرہ جو جرم کو جرم اور شریعت کو شریعت سمجھنے کی فکری دیانت رکھتا ہو۔ شریعت کو ایپسٹین کے سائے میں کھڑا کرنا نہ اصلاح ہے اور نہ انصاف۔ اصلاح اس وقت آئے گی جب ہم اصول پر بات کریں گے، دیانت سے اختلاف کریں گے اور کمزور کے تحفظ کو واقعی اپنی ترجیح بنائیں گے، نہ کہ اسے فکری جنگ کا ہتھیار۔