میلا اور میلہ

ایک مجہول نے کسی خود ساختہ سیانے سے پوچھا کہ جب سانپ ڈسے تو کیا کرنا چاہیے؟ سیانے نے پلک جھپکے بغیر جواب دیا: "مر جانا چاہیئے.” ایک پرانی کہاوت یاد آگئی کہ بندہ تو بات سے ہی مر جاتا ہے، بندوق تو سور مارنے کے کام آتی ہے، اب آئیے ذرا حالیہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی طرف، پاکستان کا بھارت کے ساتھ میچ نہ کھیلنے کے اعلان کے تناظر میں وجوہات چاہے جتنی بھی ہوں، مگر یہ سمجھنے کیلئے کسی راکٹ سائنس کی چنداں ضرورت نہیں کہ بھارت، پاکستان کے ساتھ آئی سی سی کے ٹورنامنٹس میں زیادہ تر کیلکولیٹر ہاتھ میں لے کر ہی اترتا ہے، جذبے کم اور مالی فوائد زیادہ مدنظر ہوتے ہیں۔

اب آتے ہیں میدان کے اندر کے دلچسپ مناظر پر، ایشا کپ میں انڈین کپتان سوریا کمار یادو جو اتفاقاً گندمی سے کچھ گہرے رنگ کے مالک ہیں اور بازوؤں پر برکت کے لیے خوبصورت ٹیٹوز بھی سجا رکھے ہیں جو بظاہر "کچ مچولا” ہی نظر آتے ہیں، ایشیا کپ کے ایک پول میچ میں تماشائی انہیں "میلا، میلا” پکارتے تھے، اتر پردیش کے باسیوں کی میلی رنگت عام چیز ہے اور ایسا کہنے پر کوئی برا محسوس نہیں کرتا، خیر، یہ خبر پاکستانی کھلاڑیوں تک پہنچی تو انہوں نے ایک قدم بڑھاوا دیا، اور انڈین کپتان سوریا کمار یادو گراؤنڈ میں پاکستانی کھلاڑیوں کی "میلا، میلا” کی ہلکی پھلکی پکار کا نشانہ بن گئے، ٹی وی براڈ کاسٹ میں سوریا کمار کا غصے میں پاکستانی کھلاڑیوں کی طرف مڑ مڑ کر دیکھنے کی سمجھ آتی تھی، پہلے پہل موصوف نے شاید سمجھا کہ کوئی نیا اسپانسر آ گیا ہے، مگر جب ہربھجن سنگھ جیسے سیانے نے "میلا” اور "میلہ” کا لغوی و جذباتی فرق واضح کیا تو سوریا کمار کا پارہ ساتویں آسمان کو چھونے لگا۔

یاد رہے کہ ایک ٹی وی پروگرام میں ہربھجن سنگھ فرما چکے ہیں کہ سب سے زیادہ گالیاں پاکستانی ٹیم دیتی تھی تب نوجوت سنگھ سدھو نے وضاحت کی تھی کہ سبھی ٹیمیں ایسا کرتی ہیں، چونکہ پاکستانی کھلاڑیوں کی تمام باتیں سمجھ آ جاتی ہیں، اس لئے زیادہ بُرا محسوس ہوتا ہے.

سوریا کمار کی طرف سے شکایت آئی سی سی تک بھی پہنچی، مگر کرکٹ کے میدان میں ایسی شوخ جملہ بازی کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا، آخرکار یہ سب کھیل کا حصہ ہوتا ہے جہاں مقصد مخالف کی توجہ بٹانا ہوتا ہے، اور یہ فن صرف پاکستانی نہیں، دنیا کی تقریباً ہر ٹیم بخوبی جانتی ہے، یوں سمجھ لیجیے کہ کرکٹ میں بیٹ اور بال کے ساتھ ساتھ زبان بھی چلتی ہے، اور اگر مسکراہٹ کے ساتھ چلے تو کھیل کا مزہ دوبالا کر دیتی ہے۔

معاملہ یہاں ختم ہو جانا چاہیے تھا، مگر کہانی کو تو ابھی اور رنگ دکھانا تھا، شنید ہے کہ جب سوریا کمار نے ہوٹل میں آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے سراپا پر ایک طائرانہ نظر ڈالی، تو بے ساختہ منہ سے نکلا:
"ایں خانہ ہما آفتاب است!”

یعنی بات میں دم تو ہے، کسی زاویے سے پاکستانی کھلاڑی جھوٹے ثابت نہ ہوئے، اب یہاں انسانیت جاگتی ہے، دل کہتا ہے: "چلو یار، مانا کہ بندہ میلا ہے، مگر ایسے منہ پر نہیں کہنا چاہیے، بیچارے کا دل ٹوٹ جاتا ہے.” مگر سوریا کمار نے ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہ کیا اور انڈین ٹیم مینجمنٹ کو شکایت کر دی، اُدھر مینجمنٹ نے لفظ "میلا” کا زیادہ اثر لے لیا، دماغ کی بجائے دل کی سنی، سیاست کے ساتھ ذاتی جذبات بھی کھیل میں شامل کر دیئے، غصے میں ایک غلط حل نکالا کہ پاکستان کے ساتھ میچ میں ٹاس کے وقت پاکستانی کپتان اور میچ کے بعد پاکستانی ٹیم کے کھلاڑیوں سے ہاتھ ملانے سے انکار کر دیا، بادی النظر میں جنٹل مین کھیل کی روح تار تار کر دی، کہانی نے اس وقت اور مزہ لیا جب میچ کے بعد پریس کانفرنس میں سوریا کمار یادو نے پورے اطمینان سے اقرار کیا کہ یہ سب کچھ بھارتی حکومت کے حکم پر ہوا ہے، یعنی دل کی بھڑاس بھی نکال دی اور فائل بھی اوپر تک پہنچا دی۔

شومئی قسمت انڈیا ایشیا کپ کا فائنل جیت گیا، مگر ڈرامہ وہاں بھی ختم نہ ہوا، صدر ایشین کرکٹ کونسل محسن نقوی کے ہاتھوں ٹرافی وصول کرنے سے بھی انکار کر دیا، نتیجہ یہ نکلا کہ ٹرافی جیتی لی مگر ملی نہیں، اور اب تک وہ ٹرافی انڈیا کو ایسے نصیب نہیں ہوئی جیسے غصے میں کہا ہوا "میلا” معافی کے بعد بھی دل سے نہیں نکلتا، یہ قصہ ہمیں سکھا گیا کہ کرکٹ صرف بیٹ اور بال کا کھیل نہیں، یہ جذبات، انا، سیاست اور کبھی کبھی آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر خود کلامی کا بھی نام ہے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ بعض اوقات ایک لفظ پورے ٹورنامنٹ سے زیادہ بھاری پڑ جاتا ہے، یہ تو بالکل وہی معاملہ نکل آیا کہ لفظ کا زخم، واقعے سے زیادہ گہرا ہوتا ہے.
ایک دوست کی زبانی سنیے، بطورِ حکایت نہ کہ بطورِ تاریخ:

جنرل ضیاء الحق بہاولپور میں مشقیں دیکھنے کے بعد سی ون تھرٹی طیارے میں جرنیلوں کے ساتھ محوِ سفر تھے، کسی خوش خبر نے آ کر بتایا کہ حضور! طیارے میں آم کی اتنی پیٹیاں بطورِ تحفہ رکھوائی گئی ہیں، جنرل صاحب نے فوراً حساب لگایا، گنتی کی، تقسیم کی اور آم کی پیٹیاں جرنیلوں میں برابر بانٹ دیں، کچھ خیال آنے پر پائلٹ کی طرف اشارہ کرکے پوچھا: "ڈرائیور کو کچھ نہیں دینا؟” یہ لفظ سننا تھا کہ پائلٹ کے کان کھڑے ہو گئے، اسے یوں لگا جیسے آم کی نہیں، عزت کی پیٹی گر گئی ہو، غصے میں بولا: "ایک پیٹی آم مت دیجیے، کوئی بات نہیں مگر پائلٹ کو ڈرائیور کہنا؟ یہ توہین برداشت نہیں!” جنابِ پائلٹ نے غصے میں طیارہ زمین پر دے مارا.

یعنی ایک لفظ، ایک لمحہ، اکڑ اور اتھرا مزاج بارود سے زیادہ حساس اور زندگی کے مزے مختصر کر دیتے ہیں.

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے