فروری کا مہینہ جونہی آتا ہے، فضا میں ایک عجیب سا احساس جاگ اٹھتا ہے۔ دکانوں کی کھڑکیوں میں لال گلاب سجے ہوتے ہیں، کیفے میں موم بتیوں کی جھلک دکھائی دیتی ہے، نوجوانوں کے چہروں پر چمک اور آنکھوں میں سرخی سی اتر آتی ہے۔
14 فروری ویلنٹائن ڈے، جو بظاہر محبت کرنے والوں کا دن کہلاتا ہے، مگر اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دراصل احساسات کے اظہار کا دن ہے، چاہے وہ کسی محبوب کے لیے ہو یا انسانیت کے لیے۔ محبت ایک جذبہ نہیں، ایک طرزِ احساس ہے۔ یہ کسی خاص رنگ، مذہب، یا ثقافت تک محدود نہیں۔ محبت تو اس روشنی کا نام ہے جو ظلمتوں میں راستہ دکھاتی ہے، جو انسان کو خود غرضی سے نکال کر ایثار اور قربانی کی راہ پر لے آتی ہے۔ مگر افسوس کہ آج یہ دن ایک مصنوعی، تجارتی میلے میں بدل چکا ہے۔ سرخ دلوں اور گلابوں کی قیمت بڑھ چکی ہے مگر احساس کی قدر گھٹ گئی ہے۔محبت کے نام پر دکھاوا، چاہت کے نام پر وقتی جذبات، اور رشتوں میں خلوص کے بجائے نمائش کا عنصر غالب آچکا ہے۔
ہماری مشرقی اقدار میں محبت کا تصور مغرب سے کہیں زیادہ وسیع اور گہرا ہے۔ مغرب میں ویلنٹائن ڈے ایک رومانوی تعلق کی علامت سمجھا جاتا ہے، جبکہ ہمارے معاشرے میں محبت کا مطلب صرف محبوب نہیں بلکہ ماں کی دعا، باپ کا سایہ، استاد کی تربیت، وطن سے وفاداری، اور خدائے واحد سے تعلق بھی ہے۔ اگر ہم اس دن کو محض ایک جذباتی و تجارتی تقریب کے بجائے محبتِ عامہ اور انسان دوستی کا استعارہ بنا لیں تو یہی ویلنٹائن ڈے ہماری روحانی و اخلاقی اصلاح کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ محبت کسی ایک شخص یا لمحے تک محدود نہیں۔ محبت تو اس بچے کی مسکراہٹ میں ہے جو بھوکا بیٹھا ہے، اس مزدور کے پسینے میں جو دن بھر محنت کرتا ہے، اس ماں کی آنکھ میں جو اپنے بیٹے کی راہ دیکھتی ہے، اور اس فوجی کے دل میں جو وطن کی سرحد پر جاں نثار ہوتا ہے۔ افسوس کہ ہم نے محبت کو صرف تحفوں اور کارڈز تک محدود کر دیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا سماج اس محبت کے تصور کو سمجھتا بھی ہے؟ آج کے نوجوان محبت کو فیشن سمجھ بیٹھے ہیں۔ وہ سوشل میڈیا پر تصویریں، میمز اور دل والے اسٹیکرز شیئر کر کے سمجھتے ہیں کہ انہوں نے محبت نبھا دی۔ مگر محبت وہ ہے جو دکھ سہنے کے باوجود مسکراہٹ بانٹے، جو وفا کو لفظوں سے نہیں، عمل سے ثابت کرے۔ جن لوگوں نے عشقِ حقیقی کا ذائقہ چکھا، وہ جانتے ہیں کہ محبت قربانی مانگتی ہے، صبر مانگتی ہے، خود کو مٹا دینے کا حوصلہ مانگتی ہے۔ ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ اگر ویلنٹائن ڈے واقعی محبت کا دن ہے، توکیوں نہ ہم اس دن بوڑھے والدین کے قدم چومیں، یتیم بچوں کے سر پر ہاتھ رکھیں، اپنی بیوی یا شوہر کے لیے ایک سچے شکریے کے بول کہیں، یا ان لوگوں کے لیے وقت نکالیں جنہیں ہم نے برسوں سے صرف وعدوں میں رکھا ہے۔ اس محبت کو ہم اپنے معاشرے کی تعمیر کا ذریعہ بنا سکتے ہیں، اگر ہم اس کے جوہر کو تجارت سے نکال کر خلوص میں ڈھال لیں۔
ایک زمانہ تھا جب محبت حیا کے پردے میں لپٹی ایک وجدانی کیفیت تھی۔ اب یہ تشہیر کا ذریعہ بن گئی ہے۔ میڈیا اور مارکیٹ نے ویلنٹائن کے حسن کو اپنی تشہیری حکمتِ عملی میں یرغمال بنا لیا ہے۔ ہر اشتہار، ہر شو اور ہر برانڈ“محبت فروخت”کرنے میں لگا ہوا ہے۔ مگر یہ یاد رہے کہ محبت خریدی نہیں جا سکتی۔ یہ دل کی زمین پر اگنے والا وہ پھول ہے جو صرف سچائی کے پانی سے پروان چڑھتا ہے۔ ویلنٹائن ڈے کا اصل مقصد کسی ایک فرد سے چاہت نہیں بلکہ دنیا میں محبت، برداشت، اور انسانیت کو عام کرنا ہے۔ اگر ہم اس دن نفرت، عداوت، اور فاصلے مٹانے کا ارادہ کریں تو یہی دن ہمیں ایک بہتر معاشرہ بنانے کی سمت دے سکتا ہے۔ کیونکہ اصل محبت وہی ہے جو انسان کو انسان سے جوڑ دے، رنگ، نسل، عقیدہ، اور درجہ سب بھلا دے۔
آخر میں، آئیے اس ویلنٹائن ڈے پر عہد کریں کہ ہم محبت کو محض عارضی جذبات کے تماشے سے نکال کر ایک مستقل طرزِ زندگی بنائیں گے۔ ہم ان چہروں کو مسکراہٹیں دیں گے جن پر غم کی لکیریں ہیں، ان ہاتھوں کو تھامیں گے جو مدد کے طلب گار ہیں، اور ان دلوں کو تسلی دیں گے جو ٹوٹ چکے ہیں۔ کیونکہ محبت تو وہ خواب ہے جو دوسروں کے لیے جاگتے ہوئے دیکھنا پڑتا ہے۔ یہی محبت کی حقیقت ہے، یہی انسان ہونے کا مفہوم۔