اہل مدارس پر امن ہیں فواد چوہدری کے نام!

مجھےفواد چوھدری کی دانش پہ نہ صرف حیرت ہے بلکہ میرے خیال میں یہ شخص خاموش انتہا پسند یا پھر لبرل لبادے میں مذہب دشمن ہے۔

جس کا ماضی بھی علماء اور اہلیان مذہب کے خلاف ہذیان بک رہا تھا اور موجودہ دور بھی اہل مذہب کی دشمنی میں کسی پس و پیش سے کم نہیں۔

حالانکہ اس وقت مجموعی طور پر ملک کی فضا سوگوار ہے ہرسو المناکی کے گہرے بادل چھائے ہوئے ہیں سبھی لوگ اپنے تئیں اس بات پر مغموم ہیں کہ بے گناہ جانوں کا ضیاع اور مارنے والے نامعلوم مگر چوہدری صاحب ایسے حساس ترین موقع پر بھی اہل مدارس کو نہ صرف کوس رہے ہیں بلکہ دہشت گردی کا ذمہ دار اہلیان مدارس اور نصاب مدارس کو قرار دے رہے ہیں۔

میں خود ایک عرصے سے اہل مدارس کی کچھ چیزوں کا ناقد رہا ہوں۔

جن میں مدارس دینیہ میں جدت کا اور بالخصوص نصاب مدارس کوکار آمد بنانے کے حوالے سے خصوصی طور پر اہل مدارس کو ایک نئے سرے سے ترتیب و تنظیم کی نہ صرف ضرورت ہے بلکہ یہ وقت کا عین تقاضا بھی ہے تاکہ مدارس کے فارغ التحصیل فضلاء پہلے سے بڑھ چڑھ کر خدمت ملک و ملت کا فریضہ سر انجام دے سکیں۔

حالانکہ مدارس دینیہ نے نہ صرف اس ملک کی تعمیروترقی میں ایک خاطر خواہ حصہ ڈالا بلکہ پاکستان کے مثبت امیج کو دنیا کے سامنے لانا،ملکی معیشت کو بہتر کرنا،تعلیم تربیت کی ذمہ داری اٹھانا اور سب سے بڑھ کر ملک دشمنوں کو دندان شکن جواب دینے میں ملکی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا گویا سبھی محاذوں پر ان کی گراں قدر خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اور اگر میں یہ کہوں تو بے جا نہ ہو گا کہ وطن عزیز پاکستان کو اہل مدارس نے اس وقت اپنا کندھا فراہم کیا جب دہشت و وحشت کی ہولی چہار جانب چنگھاڑ رہی تھی۔

اگر چوہدری صاحب زحمت کریں تو ان کو نظر آئے گا کہ جب فتنہ خوارج بے دریغ کاروائیوں میں مبتلا تھا آئے روز خود کش بمبار نعرۂ تکبیر کے ساتھ ہزاروں بے گناہوں کو اپنے ساتھ لے اڑتے تھے اس وقت ڈاکٹر طاہر القادری نے ایک ہزار صفحات پر مشتمل فتویٰ تیار کر کے نہ صرف ان کی جڑوں کو کھوکھلا کیا بلکہ ان کی نظریاتی سپلائی کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے منقطع کر کے انہیں اپاہج بنا دیا۔

پھر اس کےبعد دیکھتے ہی دیکھتے ملک بھر کے علماء کرام نے فتاویٰ کی بوچھاڑ کر کے دہشت گردوں اور دہشت گردی کو چاروں شانےچت کر دیا اور اس بات کو پوری دنیا پر واضح کر دیا کہ دہشت گردی کا اسلام اور مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں۔

بلکہ اسلام تو دین رحمت ہے انسان کجا یہ جانوروں پر بھی کسی بھی ظلم کو روا رکھنے کا مجاز نہیں مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے فواد چوہدری اور اس جیسے نام نہاد دانشور ملک میں ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کی فضا
ہموار کر رہے ہیں مگر اس دفعہ ان کا ہدف اہل مدارس ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے