ایپسٹین فائلز کا منظرِ عام پر آنا کسی ایک مجرم یا چند بااثر ناموں کے بے نقاب ہونے کا واقعہ نہیں, یہ اس پورے اخلاقی بیانیے پر کاری ضرب ہے جسے نام نہاد لبرل اخلاقیات کے نام سے دنیا پر مسلط کیا گیا۔ برسوں تک مغرب نے خود کو انسانی حقوق، شفافیت، بچوں کے تحفظ اور خواتین کی آزادی کا سب سے بڑا علمبردار بنا کر پیش کیا۔ اس نے باقی دنیا کو اخلاقی درس دیئے ، تہذیبوں کو پسماندہ قرار دیا، مذہبی معاشروں کو دقیانوسی کہا، اور اپنے نظام کو نجات دہندہ بنا کر پیش کیا۔ مگر جب لاکھوں دستاویزات، خفیہ روابط، نجی جزیروں کی پروازوں کے ریکارڈ اور عالمی اشرافیہ کے نام سامنے آئے تو سوال کسی ایک درندہ صفت شخص تک محدود نہ رہا۔ سوال یہ بن گیا کہ وہ کون سا اخلاقی ڈھانچہ ہے جس کی چھتری تلے یہ سب کچھ پنپتا رہا، اور برسوں تک محفوظ رہا۔
یہ کہا گیا کہ لبرل اخلاقیات فرد کی آزادی پر قائم ہے، خودمختاری اس کی بنیاد ہے، اور ریاست کا کام صرف حقوق کی ضمانت دینا ہے۔ مگر جب آزادی کو خواہش کی بے مہار تکمیل، سرمایہ کی طاقت، اور خفیہ نیٹ ورکس کے تحفظ کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو وہ آزادی کمزور کے لیے زنجیر اور طاقتور کے لیے ڈھال بن جاتی ہے۔
ایپسٹین کا معاملہ صرف اخلاقی انحراف نہیں، بلکہ طاقت، جنس، سرمایہ اور سیاست کے اس گٹھ جوڑ کا عکس ہے جو اپنے آپ کو جدیدیت، ترقی اور روشن خیالی کے پردے میں چھپائے ہوئے ہے۔ اگر ایک شخص برسوں تک عالمی رہنماؤں، سرمایہ داروں اور رائے ساز حلقوں تک رسائی رکھتا ہے، اور اس کے گرد ایسا حفاظتی حصار قائم رہتا ہے کہ قانون بھی اس تک پوری قوت سے نہیں پہنچ پاتا، تو یہ انفرادی جرم نہیں رہتا؛ یہ ایک پورا نظام ہوتا ہے۔
مزید خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہی نظریات آج ہر گھر اور ہر ذہن کا حصہ بن چکے ہیں۔ میڈیا، فلموں، سوشل میڈیا، تعلیمی نصاب اور عالمی اداروں کے ذریعے ایک خاص سوچ کو عام کیا گیا ہے، یہاں تک کہ لوگ اسے ہی ترقی اور شعور سمجھنے لگے ہیں۔ آزادی، جینڈر مساوات، فیمینزم اور انسانی حقوق کے نعروں کے ساتھ ایک ایسا فکری سانچہ پیش کیا جاتا ہے جو آہستہ آہستہ انسان کی سوچ، اس کی نفسیات اور اس کے اخلاقی فیصلوں کو اپنے دائرے میں لے لیتا ہے۔ جو سوال کرے وہ پیچھے رہ جانے والا کہلاتا ہے۔ مگر ایپسٹین فائلز ان دعوؤں پر ایک زوردار طمانچہ ہیں۔ اب بھی اگر آنکھیں نہ کھلیں تو کب کھلیں گی۔ یہ وقت ہے کہ اس منافقت کو پہچانا جائے، یہ سمجھا جائے کہ نظریات صرف الفاظ نہیں ہوتے بلکہ مکمل منصوبہ بندی کے تحت ذہنوں کو متاثر کرتے ہیں۔
انسان کی سوچ کو اس طرح ڈھالا جاتا ہے کہ وہ خود اسی نظام کا دفاع کرنے لگتا ہے جو دراصل اسے جکڑ رہا ہوتا ہے۔ ایسے میں بیداری ضروری ہے، اور ہر اس بیانیے کے سامنے جھکنے سے انکار ضروری ہے جو خود کو نجات دہندہ کہہ کر پیش کرے مگر اپنے اندر اندھیرا چھپائے بیٹھا ہو۔
یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ مغرب میں قانون سب پر برابر لاگو ہوتا ہے۔ مگر کیا واقعی ایسا ہے؟ اگر قانون کی گرفت کمزور پر فوری اور طاقتور پر تاخیر سے ہو، اگر میڈیا کچھ ناموں پر محتاط خاموشی اختیار کرے، اگر تحقیقات کی رفتار سیاسی مصلحتوں کے تابع ہو، تو پھر اخلاقی برتری کا دعویٰ کھوکھلا ہو جاتا ہے۔ جس نظام نے دنیا کو یہ باور کرایا کہ وہ شفافیت کا عالمی معیار ہے، اسی کے اندر اتنے بڑے پیمانے پر استحصال کا نیٹ ورک چلتا رہا، اور برسوں تک مکمل شدت سے بے نقاب نہ ہو سکا۔ یہ تضاد معمولی نہیں، یہ بنیادی ہے۔
یہاں سوال صرف جنسی جرائم کا نہیں، بلکہ اس فکر کا ہے جس نے اخلاقیات کو مذہب، وحی اور ماورائی جواب دہی سے کاٹ کر محض انسانی خواہش، سماجی معاہدے اور قانونی فریم تک محدود کر دیا۔ جب اخلاقی خیر و شر کا معیار بدلتا رہنے والا سماجی اتفاق بن جائے، تو طاقتور طبقہ اس اتفاق کو اپنی مرضی سے موڑ سکتا ہے۔ آج جو چیز “آزادی” کہلاتی ہے، کل وہی کمزور کے لیے تباہی بن سکتی ہے۔ بچوں کا استحصال کسی بھی تہذیب میں سب سے گھناؤنا جرم سمجھا جاتا ہے، مگر جب وہی معاشرہ جو بچوں کے حقوق کا سب سے بڑا داعی ہے، اپنی اشرافیہ کے اندر ایسے نیٹ ورکس کو جنم دے، تو پھر سوال صرف جرم کا نہیں رہتا بلکہ اس اخلاقی فلسفے کی بنیاد کا ہو جاتا ہے۔
اگر ہم احادیث کا گہرائی سے مطالعہ کریں تو ہمیں وہ تنبیہات ملتی ہیں جن میں ایسے فتنوں کا ذکر ہے جو گھر گھر پہنچیں گے، جہاں باطل کو خوبصورت الفاظ میں پیش کیا جائے گا، اور لوگ تعداد میں زیادہ مگر اثر میں کمزور ہوں گے۔ جب ایک عالمی نظام خود کو اخلاقی معیار قرار دے اور اسی کے اندر طاقتور طبقات احتساب سے بچتے نظر آئیں، تو یہ صورت حال انسان کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ اصل سبق یہی ہے کہ کسی بھی تہذیبی دعوے کو آنکھ بند کر کے قبول نہ کیا جائے، بلکہ اسے انصاف، جواب دہی اور کمزور کے تحفظ کی کسوٹی پر پرکھا جائے۔
یہ لمحہ صرف غصے کا نہیں بلکہ بیداری کا ہے۔ اگر ایک نظام اپنے اندر کے اندھیروں کو چھپا کر دوسروں کو روشنی کا درس دے، تو اس کے دعووں کو تنقیدی نظر سے دیکھنا لازم ہے۔ اخلاقی برتری کا ثبوت نعروں سے نہیں بلکہ شفاف احتساب اور حقیقی انصاف سے ملتا ہے۔ جو بھی نظام اس معیار پر پورا نہیں اترتا، اسے سوالوں کے کٹہرے میں کھڑا کرنا ہی دیانت داری ہے۔