ہر اہم واقعے کو سمجھنے کے لیے سماجی علوم کا سہارا لینا بہت ضروری ہوتا ہے۔ انقلابِ اسلامی ایران 1979ء میں محض ایک سیاسی واقعہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسا سماجی زلزلہ تھا جس نے پورے ایرانی معاشرے کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی تھیں۔
یہ محض حکومتی تبدیلی نہیں تھی بلکہ پورے معاشرے کو تبدیل کر دینے والا عمل تھا۔ ہزاروں سال سے قائم ایرانی سماج کے طے شدہ پیمانے چیلنج ہو رہے تھے۔ خطے میں امریکی "پولیس مین” کی حیثیت رکھنے والے شاہ کو شکست کا سامنا تھا اور اقتدار کی باگ ڈور ایسے طبقے کے ہاتھوں میں آ رہی تھی جو ظلم و جبر کا شکار تھا۔ عام طور پر انقلابات ڈی ٹریک ہو جاتے ہیں، اس لیے انقلاب کو اس کی راہ پر رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ انقلابِ اسلامی ایران کا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی رہا کہ اسے ابتدا ہی میں فکری ماہرین کے قتلِ عام کا سامنا کرنا پڑا۔ پوری پارلیمان اڑا دی گئی، اہم علما شہید کر دیے گئے۔ ایسے میں آج سینتالیس سال بعد یہ دیکھنا ضروری ہے کہ انقلاب نے ایرانی سماج کو کس طرح تبدیل کیا اور کہاں کہاں اس نے معاشرے کی بہتر خدمت کی۔
سب سے اہم میدان تعلیم کا ہے۔ انقلاب سے پہلے ایران میں تعلیمی نظام غیر منظم اور محدود تھا، خاص طور پر دیہی علاقوں میں تعلیم تقریباً دستیاب نہ تھی۔ خواتین کے لیے تعلیمی مواقع نہ ہونے کے برابر تھے اور خواندگی کی شرح نصف سے کم تھی۔ انقلاب نے اس صورتِ حال کو یکسر بدل دیا۔ تعلیم پر خصوصی توجہ دی گئی، نئی یونیورسٹیاں قائم ہوئیں اور دیہی علاقوں میں تعلیمی مراکز بنائے گئے۔ آج ایران میں خواندگی کی شرح 90 فیصد سے زیادہ ہے اور یونیورسٹیوں میں خواتین کی شرح 60 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ انقلاب نے سماجی شعور پیدا کیا اور عوامی طاقت کو بڑھایا، جو کسی بھی سماجی تبدیلی کی سب سے بڑی بنیاد ہے۔ یہ ایرانی سماج میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شمولیت اور ان کے مضبوط کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
جلد ایرانی معاشرے کے فیصلہ ساز اداروں میں بھی یہ تعداد پچاس فیصد سے بڑھ جائے گی۔ خواتین کے کردار میں انقلاب کے بعد غیر معمولی بہتری آئی۔ انقلاب سے پہلے دیہی علاقوں میں صرف چند فیصد خواتین تعلیمی نظام کا حصہ تھیں، آج دیہات میں ایک انقلاب آ چکا ہے اور خواتین ہر شعبے میں فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔ خواتین حکومت، سماجی اور معاشرتی شعبوں میں بااختیار کردار ادا کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ خواتین نے صحت، تعلیم اور کاروبار میں اہم کردار ادا کیا، جس سے پورے معاشرے کی ترقی کو تقویت ملی۔ انقلاب نے نہ صرف مرد و خواتین کے درمیان توازن پیدا کیا بلکہ ایک نئے سماجی ڈھانچے کی بنیاد رکھی، جہاں ہر فرد کی شمولیت اور شرکت معاشرتی طاقت کی علامت ہے۔ ایران میں خواتین کی اپنی کاروباری کمپنیاں ہیں، ہوٹلوں کی چینز ہیں، دانش گاہوں کی سربراہ ہیں، کابینہ میں وزرا ہیں اور ایک نائب صدر بھی خاتون ہیں۔
صحت اور معیارِ زندگی میں بھی انقلاب کے بعد غیر معمولی بہتری آئی۔ انقلاب سے پہلے اوسط متوقع عمر 55 سال تھی اور صحت کی سہولیات محدود اور غیر مساوی تھیں۔ انقلاب کے بعد دیہی اور شہری علاقوں میں صحت کے مراکز قائم کیے گئے، لاکھوں افراد کو صحت کی بنیادی سہولیات فراہم کی گئیں اور بیماریوں جیسے پولیو، ملیریا اور دیگر وبائی امراض پر قابو پایا گیا۔ آج اوسط متوقع عمر 76 سال سے تجاوز کر چکی ہے اور ایران میں صحت کی خدمات دیہی علاقوں تک پہنچ چکی ہیں۔ یہ سماجی اور انسانی ترقی کا واضح ثبوت ہے کہ انقلاب نے عوامی فلاح اور معیارِ زندگی میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
غربت اور انسانی ترقی کے شعبے میں بھی انقلاب کا اثر نمایاں ہے۔ انقلاب سے پہلے ملک کی نصف آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی تھی۔ انقلاب کے بعد اقتصادی اصلاحات، دیہی ترقیاتی پروگرام اور صنعت و تجارت کی بحالی کے اقدامات کیے گئے، جس کے نتیجے میں غربت کی شرح میں واضح کمی آئی۔ شہری کاری کے ساتھ ساتھ دیہی ترقی کو بھی فروغ ملا اور معاشرتی انصاف کے اصولوں پر مبنی پروگرام متعارف کرائے گئے۔ انقلاب نے معاشرے میں برابری کے اصول کو فروغ دیا اور ہر فرد کو اپنی صلاحیتوں کے مطابق ترقی کے مواقع فراہم کیے۔ اس نے ایران کے عوام میں خود اعتمادی پیدا کی اور معاشرتی شعور کو مضبوط کیا، جو کسی بھی سماجی تحریک کی کامیابی کی بنیاد ہے۔
سوشیالوجی کے نقطۂ نظر سے انقلاب کی سب سے بڑی طاقت اس کی جامع سماجی تبدیلی تھی۔ انقلاب نے نہ صرف حکومت یا سیاسی نظام میں تبدیلی لائی بلکہ ایک مکمل انسانی اور سماجی انقلاب برپا کیا، جس کے اثرات تعلیم، صحت، خواتین کی شمولیت، غربت میں کمی اور انسانی ترقی کے تمام شعبوں میں محسوس کیے گئے۔ عوامی شعور، اتحاد اور اجتماعی طاقت نے انقلاب کو پائیدار اور مضبوط بنایا، یہاں تک کہ ایران نے جنگ، پابندیوں اور عالمی دباؤ کے باوجود اپنے انقلاب کو برقرار رکھا۔ انقلابِ اسلامی ایران نے یہ ثابت کیا کہ جب عوام تعلیم یافتہ، باشعور اور متحد ہوں تو وہ کسی بھی سماجی یا سیاسی چیلنج کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ اس کا پیغام آج بھی دنیا کے مظلوم اور ترقی پذیر معاشروں کے لیے ایک رہنما اصول ہے کہ عوام کی طاقت اور شعور ہی کسی بھی انقلاب کی اصل کامیابی ہے۔ آج انقلاب کو آئے سینتالیس سال گزر چکے ہیں، تمام تر مشکلات کے باوجود انقلاب سماج میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔