پاکستان میں توانائی کے بحران نے عوام کی کمر توڑ رکھی ہے۔ بجلی کے بڑھتے بل، غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، اور مہنگائی کے طوفان نے لوگوں کو ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے کہ اب وہ متبادل ذرائع کی تلاش میں ہیں۔ انہیں متبادلات میں سب سے مقبول ذریعہ سولر انرجی ہے، جو دنیا بھر میں صاف، سستا اور پائیدار توانائی کا ذریعہ مانا جا رہا ہے۔ مگر افسوس کہ جہاں دنیا اپنے عوام کو سستی بجلی فراہم کرنے کے لیے سولر پراجیکٹس پر سبسڈی دیتی ہے، وہاں ہماری حکومت عوام سے سستی بجلی خرید کر انہیں مہنگی بیچ کر منافع کمانے کے چکر میں ہے۔ یہ طرزِ عمل عوام کے اعتماد، انصاف اور شفافیت کے تقاضوں کے خلاف ہے۔
حکومت نے حالیہ پالیسی کے تحت سولر انرجی کے خریداروں یعنی گھریلو یا کاروباری صارفین سے مارکیٹ ویلیو کے مقابلے میں انتہائی کم قیمت پر بجلی خریدنا شروع کر دی ہے۔ یہ وہی بجلی ہے جو شہری اپنے گھروں کی چھتوں پر لگے سولر پینلز سے حاصل کرتے ہیں اور اضافی بجلی نیشنل گرڈ میں دیتے ہیں۔ مگر افسوس، یہ بجلی واپڈا یا دیگر تقسیم کار کمپنیاں عوام سے کم قیمت پر خریدتی ہیں اور پھر اسی نیشنل گرڈ سے عام صارفین کو تین سے چار گنا مہنگی بجلی فروخت کرتی ہیں۔ اب اگر سوال یہ اٹھے کہ آخر اس سے نقصان کس کو ہوتا ہے؟ تو جواب سیدھا ہے نقصان عام آدمی کا، فائدہ بیوروکریسی اور نجی پاور مافیا کا۔
حالیہ اعداد و شمار کے مطابق سولر صارفین سے فی یونٹ خرید قیمت 12 سے 15 روپے کے درمیان رکھی گئی ہے، جبکہ یہی بجلی عام صارفین کو 50 روپے یا اس سے زائد فی یونٹ میں فروخت کی جا رہی ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی کسان اپنی زمین سے گندم پیدا کرے، حکومت وہی گندم سستے داموں خرید لے، اور پھر اسی عوام کو دگنی قیمت پر آٹا بیچ دے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت آخر کس منطق کے تحت عوامی وسائل سے منافع کما رہی ہے؟ کیا ریاست کا کام سہولت دینا ہے یا کمزور سے نفع حاصل کرنا؟
یہ پالیسی اس وقت سامنے آئی جب ملک کی معاشی صورتحال نازک ہے، روپے کی قدر میں مسلسل کمی، تیل کی بڑھتی قیمتیں، اور برآمدات میں گراوٹ نے عوام کی قوتِ خرید ختم کر دی ہے۔ ایسے حالات میں سولر انرجی ایک امید کی کرن بن کر ابھری تھی۔ مگر حکومت نے سولر کے ذریعے عوامی ریلیف کے راستے میں بھی دیوار کھڑی کر دی۔ پچھلے سال جب نجی اداروں نے سولر پینل پر ٹیکس بڑھائے، درآمدی زون میں مشکلات پیدا کیں، اور نیٹ میٹرنگ کے نرخ کم کیے، تو یہی پیغام عوام کو دیا گیا کہ وہ خود انحصاری چھوڑ کر دوبارہ مہنگی سرکاری بجلی پر انحصار کریں۔
یہ بات سمجھنی چاہیے کہ سولر نظام صرف بجلی کا متبادل نہیں بلکہ ترقی یافتہ معیشتوں کا نشان ہے۔ بھارت، چین، اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک نے سولر انرجی کے ذریعے اپنی معیشت میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔ وہ اپنے عوام کو سولر لگانے کی ترغیب دیتے ہیں، سبسڈی دیتے ہیں، اور خرید قیمت بڑھاتے ہیں تاکہ لوگ بجلی کمپنیوں پر کم انحصار کریں۔ مگر پاکستان میں اس کے الٹ ہو رہا ہے۔ یہاں حکومت چاہتی ہے کہ عوام ہمیشہ ڈیپینڈنٹ رہیں، بل دیتے رہیں، اور احتجاج کرنے کے بجائے خاموشی سے ظلم سہتے رہیں۔
سولر پر پابندی یا نیٹ میٹرنگ ریٹس کم کرنا دراصل ان نجی بجلی گھروں کو فائدہ دینے کے مترادف ہے جن کی ناقص توانائی پالیسیوں نے قرضوں کا بوجھ بڑھایا ہے۔ یہ کمپنیاں حکومت سے ڈالر میں ادائیگیاں لیتی ہیں مگر عوام سے بل روپے میں وصول کرتی ہیں۔ یوں نقصان عوام کا اور فائدہ سرمایہ دار طبقے کا۔ اگر حکومت واقعی نیک نیتی سے کام کرنا چاہے تو اسے چاہیے کہ سولر ریٹ میں اضافہ کرے، مقامی سطح پر سولر ٹیکنالوجی کی تیاری کے لیے سبسڈی دے، اور نیٹ میٹرنگ پالیسی کو عوام دوست بنائے۔
آج ہر شہری کے لیے بنیادی ضرورت یہ ہے کہ وہ اپنی چھت پر لگے سولر سسٹم سے نہ صرف اپنے گھر کو روشن کرے بلکہ قوم کی توانائی کا حصہ بھی بنے۔ مگر جب حکومت عوامی کوششوں کو نفع کمانے کا ذریعہ بنا دے تو پھر اعتماد ٹوٹتا ہے، بدگمانی بڑھتی ہے، اور نظام انصاف کا مذاق بنتا ہے۔ سولر پالیسی میں یہ عدم توازن صرف ایک توانائی کا معاملہ نہیں بلکہ یہ طرزِ حکمرانی کا آئینہ ہے ایک ایسا آئینہ جس میں عوامی مفاد پس منظر میں اور حکومتی لالچ نمایاں نظر آتا ہے۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ صحافتی ادارے، سول سوسائٹی، اور تکنیکی ماہرین اس پالیسی کے خلاف اپنی آواز بلند کریں۔ اگر آج عوام نے خاموشی اختیار کی تو کل یہی پالیسی دیگر شعبوں میں بھی عوام دشمن اقدامات کی بنیاد بنے گی۔ حکومت کو سمجھنا چاہیے کہ توانائی صرف کاروبار نہیں بلکہ قوم کی ترقی کی بنیاد ہے۔ سستی اور صاف بجلی کا حق عوام سے چھیننا انصاف نہیں، بلکہ استحصال ہے۔
*مصنف سیاسی و سماجی امور پر لکھتے ہیں اور کالمسٹ کونسل آف پاکستان (سی سی پی) کے مرکزی صدرکے طورپرذمہ داریاں نبھا رہے ہیں *