دین سے انحراف کا مفہوم یہ ہے کہ دین سے پھر جانا، دین سے کنارہ کش ہونا اور لا تعلق ہو جانا۔ جبکہ مدارج کا مطلب ہے درجہ بدرجہ، یعنی آہستہ آہستہ۔
اس لحاظ سے دیکھا جائے تو دین سے انحراف کے مدارج کا مطلب یہ بنتا ہے کہ دینِ اسلام سے بتدریج لا تعلق ہو جانا۔
اس ضروری وضاحت کے بعد ہم ان مدارج کا تذکرہ کرتے ہیں جنہیں طے کرتے کرتے انسان رفتہ رفتہ اس مقام تک جا پہنچتا ہے جہاں وہ نہ صرف دین سے بالکل لا تعلق ہو جاتا ہے بلکہ متشدد حد تک اس سے متنفر بھی ہو جاتا ہے۔ منافرت کا یہ رویہ خالص نفس پرستی پر مبنی ہوتا ہے، اس میں عقلیت اور منطق کا معمولی سا شائبہ تک نہیں ہوتا۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو بنیادی طور پر فطرتِ سلیمہ عطا کی ہے، جس کی وجہ سے اسے برائی کا احساس ہوتا ہے اور بھلائی کرنے کے بعد خوشی محسوس ہوتی ہے۔ مگر جب انسان پر نفس پرستی اور خود پرستی کا غلبہ ہو جاتا ہے تو وہ آہستہ آہستہ فطرتِ سلیمہ سے محروم ہوتا چلا جاتا ہے۔ جتنا جتنا وہ نفس پرستی میں آگے بڑھتا ہے، اتنا ہی اس کی فطرتِ سلیمہ کمزور ہوتی جاتی ہے۔
ابتدا میں جب انسان کوئی غلطی کرتا ہے تو اس کا اپنا ضمیر اسے ملامت کرتا ہے، اور ضمیر کی یہ ملامت اتنی قوی ہوتی ہے کہ وہ اس غلطی کو دوبارہ نہ کرنے کا عہد کر لیتا ہے۔ چنانچہ انسان اس کے دہرانے سے گریز کرتا ہے۔ اگر کبھی کبھار نفس دوبارہ اس سے وہی غلطی کرا بھی دے تو ضمیر کی روشنی اسے پھر سے چھوڑ دینے پر آمادہ کر دیتی ہے۔
لیکن جب غلطی کی تکرار بڑھ جاتی ہے تو اس مرحلے پر انسان کے اندر گناہ کے خلاف مزاحمتی قوت کمزور پڑ جاتی ہے۔ اب معاملہ یہ ہو جاتا ہے کہ جب وہ گناہ کرتا ہے تو خودکار طور پر اس کا ضمیر حرکت میں نہیں آتا، البتہ اگر کوئی بیرونی ذریعہ اسے متوجہ کرے تو وہ اپنی غلطی کا احساس کر لیتا ہے۔ اس مرتبہ احساسِ گناہ خودبخود پیدا نہیں ہوتا بلکہ اسے جگانے کے لیے کسی بیرونی ذریعے کی ضرورت پڑتی ہے۔
اگر اس کے بعد بھی انسان گناہ پر اصرار کرے تو پھر دوسروں کے احساس دلانے کے باوجود وہ بے حسی کا مظاہرہ کرتا ہے، جسے معاشرے میں ہم "ڈیڈ” کے نام سے یاد کرتے ہیں۔
اس مرحلے کے بعد ایک اور درجہ آتا ہے۔ اب جب کوئی اسے گناہ پر متنبہ کرتا ہے تو وہ تاویلات کا سہارا لینے لگتا ہے، کیونکہ وہ سامنے والے کی بات کو براہِ راست رد بھی نہیں کر سکتا۔ اس کی وجہ یا تو اس کے اندر باقی رہ جانے والا تھوڑا بہت ایمان ہوتا ہے یا پھر معاشرتی دباؤ۔ ان میں سے جو بھی وجہ ہو، وہ اس بنیاد پر مختلف تاویلات پیش کرتا ہے۔
مثلاً وہ کہتا ہے کہ جو گناہ میں کر رہا ہوں وہ اتنا برا بھی نہیں، یا یہ دعویٰ کرتا ہے کہ فلاں عالم نے اسے گناہ قرار نہیں دیا، یا پھر مجبوری کا بہانہ بنا لیتا ہے کہ یہ سب اس نے مجبوری میں کیا ہے اور مجبور انسان پر گناہ کا الزام نہیں ہوتا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ تمام تاویلات حقیقت اور واقعے سے کوئی تعلق نہیں رکھتیں۔
اس رویے کو اباحیت کہا جاتا ہے، یعنی ہر چیز کو اپنے لیے حلال قرار دے لینا، اس سے قطع نظر کہ وہ اللہ کی شریعت میں حلال ہے یا حرام۔ اب ان کے نزدیک جائز و ناجائز کا معیار خدا کی شریعت نہیں بلکہ ان کا اپنا نفس بن جاتا ہے۔ وہ ضمیر جو کبھی جرم پر ملامت کیا کرتا تھا، اب ردعمل کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور ہر حال میں جرم کو مباح ثابت کرنے میں لگ جاتا ہے۔
اس مرحلے سے آگے بڑھ کر جب کوئی شخص اس کے سامنے اس کی گھڑی ہوئی باطل تاویلات کو صریح دلائل سے رد کر کے گناہ کی حرمت ثابت کرتا ہے تو وہ تسلیم کرنے کے بجائے باغیانہ رویہ اختیار کر لیتا ہے۔ چونکہ وہ بار بار جرم کرنے کی وجہ سے گناہ کا عادی ہو چکا ہوتا ہے، اس لیے کسی صورت اسے چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوتا۔
آخرکار وہ پہلے علما کو گالیاں دینا شروع کرتا ہے، پھر گمراہی میں مزید ترقی کرتے ہوئے مذہب کے خلاف متشددانہ رویہ اختیار کر لیتا ہے، حتیٰ کہ اسے مذہب کے نام سے الرجی ہو جاتی ہے۔ علما سے اس کا اختلاف اس بنیاد پر نہیں ہوتا کہ وہ خود دین پر عمل نہیں کرتا یا اپنی دینی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتا اگر ایسا ہوتا تو اس اختلاف کو امت کے لیے رحمت سمجھا جا سکتا تھا مگر افسوس کہ اس کا اختلاف محض نفس پرستی اور عصر پرستی پر مبنی ہوتا ہے۔
وہ اپنے لٹریچر میں عجیب و غریب باتیں شامل کرتا ہے، مثلاً یہ کہنا کہ فلاں نے دین کا ٹھیکہ لے رکھا ہے، یا یہ کہ تم کون ہوتے ہو مجھے دین سے نکالنے والے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اسے دین سے کسی نے نہیں نکالا بلکہ وہ اپنے ہی رویے کی وجہ سے خود دین سے دور ہو چکا ہوتا ہے۔
پھر کمال یہ کہ اس کا ضمیر اس حد تک مردہ ہو جاتا ہے کہ جب کبھی وہ کسی ناکامی سے دوچار ہوتا ہے تو اس کی ذمہ داری بھی مذہب اور مذہبی لوگوں پر ڈال دیتا ہے، حالانکہ اگر اس کی زندگی کا جائزہ لیا جائے تو اس میں مذہبی رویے کا کوئی حصہ نظر نہیں آتا۔ دراصل یہ اس کا وہ ذہنی انتشار ہوتا ہے جو خدا سے دوری کے نتیجے میں اس پر مسلط ہو چکا ہوتا ہے۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ جب کوئی مومن بغاوت اختیار کرتا ہے تو وہ یکدم نہیں بلکہ آہستہ آہستہ اس راستے پر چل پڑتا ہے۔ اس سفر کے دوران اللہ تعالیٰ مختلف طریقوں سے بار بار اسے متوجہ کرتا ہے، مگر وہ ان تنبیہات کو نظرانداز کرتا رہتا ہے اور بے لگام اپنی مستیوں میں ڈوبا رہتا ہے۔ آخرکار اس کا یہ باغیانہ طرزِ عمل دوسروں کے ایمان کے لیے بھی خطرہ بن جاتا ہے۔
چونکہ اس کے اندر لاشعوری طور پر صحیح مذہب سے دشمنی پیدا ہو جاتی ہے، اور انسان کی فطرت ہے کہ وہ اپنے دشمن کے خلاف دلائل تراشتا رہتا ہے، اس لیے نفس پرستی اور ہوس پرستی کے اس سازگار ماحول میں وہ بہت سے لوگوں کو اپنے ساتھ ملا لیتا ہے۔ یوں وہ مذہب دشمنی کے لیے منظم انداز میں کام کرنے لگتا ہے۔ ایسے بہت سے افراد ملحدین کے کیمپوں میں دیکھے جا سکتے ہیں۔
یہ وہی لوگ ہوتے ہیں جو ابتدا میں گناہ کرتے وقت اپنے ضمیر میں بوجھ محسوس کرتے تھے، مگر اب اسی احساسِ گناہ کو اذیت اور نفسیاتی بیماری قرار دیتے ہیں، اور یہ کہنے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کرتے کہ احساسِ گناہ نے ہماری زندگی کو بے مزہ کر دیا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کی زندگی میں احساسِ گناہ کے علاوہ ہر طرح کے احساسات کی فراوانی ہوتی ہے، مگر جب مذہب کے حوالے سے کوئی احساس دلانے کی کوشش کی جاتی ہے تو وہ اسی احساسِ گناہ کو زندگی کی تنگی کا سبب قرار دیتے ہیں۔
اس رویے کا حامل شخص فطرتِ انسانی کا منکر بنتا ہے، کیونکہ احساسِ گناہ انسانی زندگی کا لازمی جزو ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ جب انسان گناہ کے مختلف مدارج سے گزرتے ہوئے فکری گمراہی میں مبتلا ہو جاتا ہے تو وہ ان بدیہی حقائق کا بھی انکار کرنے لگتا ہے جو انسان کی فطرت میں پیدائش کے وقت ہی سے موجود ہوتے ہیں۔ زیادہ صریح الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ نفس پرستی اور ہوس پرستی سے پیدا ہونے والی گمراہی انسان کو انجامِ کار مخبوط الحواس بنا دیتی ہے۔