محبت انسان کا سب سے حسین اور خالص جذبہ ہے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم نے اسے تحفوں، تصویروں اور لفظی وعدوں میں قید کر دیا ہے۔
ویلنٹائن ڈے ہمیں ایک موقع دیتا ہے کہ ہم اپنے دلوں کے آئینے میں جھانکیں، اور دیکھیں کہ ہماری ترجیحات کہاں جا پہنچی ہیں۔
محبت، انسان کے وجود میں وہ لطیف جذبہ ہے جو زمان و مکان سے بالاتر ہو کر دل کی گہرائیوں میں بہنے والی ایک نرالی روشنی بن جاتا ہے۔ ویلنٹائن ڈے اسی روشنی کی ایک علامت ہے۔ دنیا بھر میں یہ دن محبت، قربت، خلوص اور نرمیِ احساس کے جشن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں اس دن کی معنویت کیا ہے؟ کیا ہم نے محبت کو صرف کارڈز، گلابوں اور تصویروں تک محدود کر دیا ہے، یا اس کے حقیقی جوہر کو سمجھنے کی کوشش بھی کی ہے؟ہمارے ہاں ویلنٹائن ڈے کے ذکر پر اکثر دو انتہائیں سامنے آتی ہیں۔ ایک طبقہ ہے جو اسے مغربی ثقافت کا اثر سمجھ کر رد کرتا ہے، اور دوسرا وہ جو اندھا دھند اس کی نقالی میں مصروف رہتا ہے۔ لیکن حقیقت شاید ان دونوں کے بیچ میں کہیں چھپی ہوئی ہے۔ محبت انسانی فطرت کا حصہ ہے، کوئی درآمد شدہ شے نہیں۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ہم نے اپنی ترجیحات اور اقدار میں توازن کھو دیا ہے۔
ہم ویلنٹائن ڈے پر اپنے محبوب کو سرخ گلاب پیش کرتے ہیں مگر اپنے بزرگوں، اپنے اساتذہ، اور اپنے غریب ہمسایوں کے لیے ہمارے پاس وقت نہیں۔ یہ کیسی محبت ہے جو صرف ایک شخص کے لیے ہے مگر انسانیت کے لیے نہیں؟ اصل محبت تو وہ ہے جو دلوں کو وسیع کرے، خودغرضی سے آزاد کرے۔ محض تحفے دینے کا نام محبت نہیں، بلکہ احساس بانٹنے، کسی کی آنکھوں میں شکر کے آنسو جگانے، اور کسی کے دکھ کو کم کرنے کا نام ہی محبت ہے۔اگر ہم ایک لمحے کے لیے رُک کر سوچیں تو شاید ہمیں احساس ہو کہ ہمارے سماج کو اس وقت گلابوں سے زیادہ رواداری، سمجھوتے اور مروّت کی ضرورت ہے۔ ویلنٹائن ڈے ہم سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ ہم محبت کو محض رومانی دائرے تک محدود نہ کریں۔ اس محبت کو معاشرتی بھلائی میں بدلیں۔
ایک بچے کے سر پر ہاتھ رکھنے میں جو سکون ہے، ایک یتیم کے منہ پر مسکراہٹ لانے میں جو خوشی ہے، وہ کسی ریڈ روز یا چاکلیٹ باکس میں نہیں ملتی۔ المیہ یہ ہے کہ ہم نے ”محبت“ کا مفہوم مسخ کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا نے الفت کو نمائش کا ایک کردار بنا دیا ہے۔ آج لوگ محبت دکھانے کے لیے تصویریں پوسٹ کرتے ہیں، اقتباسات لکھتے ہیں، مگر ان کے رویوں میں نرمی اور خلوص عنقا ہو چکا ہے۔ لوگوں کے پاس دل ہیں لیکن وقت نہیں؛ جذبات ہیں لیکن تعبیر نہیں، محبت کے دعوے ہیں مگر عمل نہیں۔
ذرا ماضی کی جھلک دیکھیں تو سمجھ آتا ہے کہ ہمارے بزرگوں کی محبت میں ظاہریت نہیں بلکہ حقیقت تھی۔ شوہر اور بیوی کے رشتے میں احترام، والدین اور اولاد میں قربت، بھائیوں اور بہنوں میں خلوص یہ سب محبت کی زندہ تصویریں تھیں۔ آج ہم ان سب سے دور جا چکے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہم محبت کے ”دن“تو مناتے ہیں مگر محبت کے ”سال“نہیں۔ہماری ترجیحات بدل گئی ہیں۔ ہم محبت کے بجائے شہرت، تعلق کے بجائے لائکس، اور خلوص کے بجائے دکھاوے کے متلاشی ہو گئے ہیں۔ اصل چمک اب دلوں میں نہیں بلکہ اسکرین کی روشنی میں رہ گئی ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنی ترجیحات پر دوبارہ غور کریں۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ کیا ہم واقعی کسی ویلنٹائن ڈے کو منانے کے قابل ہیں جب ہمارے ملک میں ہزاروں والدین تنہائی کے اندھیروں میں زندگی گزار رہے ہیں، جب دوستی کی جگہ مفاد نے لے لی ہے، اور جب محبت کے نام پر نفاق پھیل رہا ہے؟
محبت اگر صرف ایک دن کی تقریب نہیں بلکہ زندگی کا رویہ بن جائے تو دنیا بہت بہتر ہوسکتی ہے۔ ویلنٹائن ڈے ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ ہم اظہارِ محبت کریں، مگر دکھاوے کے لیے نہیں دل سے، نیت سے، اور وسعتِ فکر کے ساتھ۔ اپنے تعلقات میں سچائی، باہمی احترام اور قربانی کا جذبہ شامل کریں۔ یہی محبت کا اصل جشن ہے۔محبت دلوں کو روشن کرتی ہے، مگر وہی دل زیادہ جگمگاتا ہے جو دوسروں کے لیے دھڑکتا ہے۔ اگر ہم اس دن اپنی ماں کو فون کر لیں، اپنی بیوی کے لیے ایک لمحے کی تعریف کر دیں، کسی دوست کی دلجوئی کر لیں، یا کسی مزدور کو مسکرا کر سلام کہہ دیں تو یہی ہمارا سب سے خوبصورت ویلنٹائن ہوگا۔ محبت کو عالمی یا مذہبی رنگ دینے کی ضرورت نہیں۔ یہ انسان کا سب سے خالص جذبہ ہے، جو خالق سے مخلوق تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ محبت بانٹنے سے کم نہیں ہوتی، بڑھتی ہے بالکل ویسے ہی جیسے دیا جلانے سے روشنی پھیلتی ہے۔
“محبت وہ چراغ ہے جو روشنی بانٹتا ہے، چاہے خود جل کر موم کیوں نہ بن جائے۔”
*مصنف سیاسی و سماجی امور پر لکھتے ہیں اور کالمسٹ کونسل آف پاکستان (سی سی پی) کے مرکزی صدرکے طورپرذمہ داریاں نبھا رہے ہیں *